94

عالمی یومِ انسدادِ انسانی اسمگلنگ حمید علی

ہر سال 30 جولائی کو دنیا بھر میں اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام عالمی یومِ انسدادِ انسانی اسمگلنگ (World Day Against Trafficking in Persons) منایا جاتا ہے۔ اس دن کے منانے کا مقصد انسانی اسمگلنگ جیسے سنگین عالمی جرم کے بارے میں شعور بیدار کرنا، متاثرین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا اور حکومتوں، بین الاقوامی اداروں اور عوام کو اس ناسور کے خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات کی ترغیب دینا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2013ء میں قرارداد 68/192 کے ذریعے اس عالمی دن کو منانے کی منظوری دی تاکہ دنیا کو یہ باور کرایا جا سکے کہ انسان کوئی جنس نہیں جسے خریدا، بیچا یا استحصال کا نشانہ بنایا جائے۔

انسانی اسمگلنگ عصرِ حاضر کے بد ترین جرائم میں شمار ہوتی ہے۔ اسے جدید دور کی غلامی بھی کہا جاتا ہے۔ اس گھناؤنے جرم میں انسانوں کو دھوکے، جبر، لالچ، دھمکی، اغوا یا طاقت کے ذریعے اپنی گرفت میں لے کر ان سے جبری مشقت، جنسی استحصال، گھریلو غلامی، بھیک منگوانے، جبری شادی، مجرمانہ سرگرمیوں اور حتیٰ کہ انسانی اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت جیسے مکروہ مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس عمل میں انسانی وقار، آزادی اور بنیادی حقوق کو بری طرح پامال کیا جاتا ہے۔

عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ انسانی اسمگلنگ صرف ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کرنے کا نام ہے، حالاں کہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ ہے۔ بے شمار افراد اپنے ہی ملک کے اندر ایک شہر سے دوسرے شہر یا ایک علاقے سے دوسرے علاقے منتقل کر کے استحصال کا شکار بنائے جاتے ہیں۔ غربت، بے روزگاری، ناخواندگی، مسلح تنازعات، قدرتی آفات، سماجی عدم مساوات اور بہتر مستقبل کی خواہش ایسے عوامل ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر اسمگلر معصوم انسانوں کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسدادِ منشیات و جرائم (UNODC) کے مطابق دنیا بھر میں لاکھوں افراد انسانی اسمگلنگ کا شکار ہیں، جن میں خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ خواتین اور بچیوں کو زیادہ تر جنسی استحصال اور جبری شادیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جب کہ بچوں سے مزدوری، بھیک، غیر قانونی سرگرمیوں اور دیگر خطرناک کام لیے جاتے ہیں۔ مرد بھی اس جرم سے محفوظ نہیں، بلکہ انہیں تعمیرات، زراعت، کان کنی، ماہی گیری اور دیگر شعبوں میں جبری مشقت پر مجبور کیا جاتا ہے۔

ٹیکنالوجی نے جہاں انسانی زندگی کو آسان بنایا ہے، وہیں جرائم پیشہ عناصر نے بھی اس کا ناجائز استعمال شروع کر دیا ہے۔ جعلی ملازمتوں کے اشتہارات، سوشل میڈیا، آن لائن دوستی، فرضی بھرتی ایجنسیاں اور جھوٹے تعلیمی یا بیرونِ ملک روزگار کے وعدے انسانی اسمگلنگ کے نئے ذرائع بن چکے ہیں۔ اس لیے شہریوں کو چاہیے کہ کسی بھی ملازمت، ویزا، شادی یا بیرونِ ملک تعلیم کی پیش کش قبول کرنے سے پہلے اس کی مکمل تصدیق کریں۔

اقوامِ متحدہ نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف عالمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے پالرمو پروٹوکول سمیت متعدد بین الاقوامی معاہدے متعارف کرائے ہیں، جن کے تحت رکن ممالک پر لازم ہے کہ وہ انسانی اسمگلنگ کی روک تھام، مجرموں کے خلاف مؤثر کارروائی اور متاثرین کی بحالی کے لیے جامع قوانین اور عملی اقدامات اختیار کریں۔ بہت سے ممالک نے اس سلسلے میں خصوصی قوانین نافذ کیے ہیں، لیکن قانون سازی کے ساتھ ساتھ ان پر مؤثر عمل درآمد بھی ناگزیر ہے۔

انسانی اسمگلنگ کا شکار افراد شدید جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی اذیت سے گزرتے ہیں۔ نجات کے بعد بھی انہیں معاشرتی قبولیت، قانونی معاونت، علاج، نفسیاتی مشاورت، تعلیم، روزگار اور باعزت زندگی کی بحالی کے لیے طویل جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ اس لیے متاثرین کو مجرم نہیں بلکہ مظلوم سمجھتے ہوئے ان کی مکمل بحالی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

اس جرم کے خاتمے کی ذمہ داری صرف حکومتوں یا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عائد نہیں ہوتی بلکہ معاشرے کے ہر فرد کا بھی اہم کردار ہے۔ والدین اپنے بچوں کو محفوظ رہنے کی تعلیم دیں، تعلیمی ادارے آگاہی پیدا کریں، ذرائع ابلاغ ذمہ دارانہ رپورٹنگ کریں، مذہبی و سماجی رہنما عوام میں شعور اجاگر کریں اور کاروباری ادارے اپنی افرادی قوت کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔ اگر کسی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع ملے تو متعلقہ اداروں کو فوری آگاہ کرنا ہر شہری کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

ہر سال اقوامِ متحدہ اس دن کے لیے ایک خصوصی موضوع بھی متعارف کراتی ہے تاکہ دنیا کی توجہ انسانی اسمگلنگ کے کسی اہم پہلو کی جانب مبذول کرائی جا سکے۔ اس کا بنیادی مقصد متاثرین کو انصاف فراہم کرنا، ان کی آواز کو عالمی سطح پر پہنچانا اور بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

30 جولائی کا یہ عالمی دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ انسانی آزادی، عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔ ہر انسان کو خوف، جبر اور استحصال سے پاک زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ اگر حکومتیں مؤثر قوانین نافذ کریں، ادارے دیانت داری سے اپنے فرائض انجام دیں، میڈیا ذمہ دارانہ کردار ادا کرے اور عوام شعور و بیداری کا مظاہرہ کریں تو انسانی اسمگلنگ جیسے انسانیت سوز جرم کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ یہی اقوامِ متحدہ کے اس عالمی دن کا حقیقی پیغام اور انسانیت سے ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں