12 ربیع الاول صرف ایک تاریخ نہیں، محبت، عقیدت اور وفا کا وہ دن ہے جب امتِ مسلمہ اپنے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی خوشی مناتی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانیت پر سب سے بڑا احسان اپنے آخری نبی ﷺ کی صورت میں فرمایا۔ آپ ﷺ تشریف لائے تو جہالت کے اندھیرے چھٹ گئے، انسان کو انسان کا مقام ملا، کمزور کو طاقت ور کے برابر حق ملا اور اخلاق کو زندگی کا مرکز بنا دیا گیا۔ اس لیے میلادِ مصطفیٰ ﷺ محض چراغاں، جھنڈوں، نعروں اور بلند آوازوں کا نام نہیں بل کہ یہ اپنے کردار کو سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے سانچے میں ڈھالنے کا نام ہے۔
ہم ہر سال 12 ربیع الاول کو گلیاں سجاتے ہیں، گھروں پر جھنڈے لگاتے ہیں، محافل منعقد کرتے ہیں، نعتیں پڑھتے ہیں اور محبتِ رسول ﷺ کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ عقیدت کے مظاہر ہیں مگر ہمیں اپنے دل سے ایک سوال ضرور کرنا چاہیے کہ کیا ہمارے اعمال بھی ہمارے دعوائے محبت کی گواہی دیتے ہیں؟ اگر ہم گھنٹوں بلند آواز میں نعتیں سنتے رہیں مگر اپنے پڑوسی کے حقوق ادا نہ کریں، اگر ہم سڑکوں پر ریلیاں نکالیں مگر راستے میں لوگوں کے لیے تکلیف کا باعث بنیں، اگر ہم جھنڈے لہراتے رہیں مگر اپنے معاملات میں جھوٹ، دھوکے اور بددیانتی سے کام لیں تو پھر ہمیں اپنی محبت کے انداز پر غور ضرور کرنا چاہیے۔
حضور اکرم ﷺ کی پوری زندگی ہمارے لیے ایک مکمل نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے ہمیں عبادت کے ساتھ معاملات کی پاکیزگی سکھائی، نماز کے ساتھ اخلاق کی بلندی سکھائی، اللہ کی محبت کے ساتھ بندوں کے حقوق ادا کرنے کا درس دیا۔ آپ ﷺ نے دشمنوں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کیا، کمزوروں کا سہارا بنے، یتیموں کے سر پر دستِ شفقت رکھا، غلاموں کے حقوق کی حفاظت کی، عورتوں کو عزت دی اور معاشرے کے محروم طبقات کو ان کا حق دلایا۔ اگر ہم واقعی میلاد منانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی زندگی میں انھی تعلیمات کو جگہ دینا ہوگی۔
میلاد کا سب سے خوب صورت چراغ وہ ہے جو ہمارے کردار میں روشن ہو۔ اگر کسی غریب کے گھر کا چولہا جل جائے، کسی یتیم کے چہرے پر مسکراہٹ آ جائے، کسی بیمار کی عیادت ہو جائے، کسی مقروض کی مدد ہو جائے، کسی ناراض شخص سے صلح ہو جائے اور کسی دکھی دل کو تسلی مل جائے تو یقیناً یہ محبتِ رسول ﷺ کا ایک خوب صورت اظہار ہے۔ نبی کریم ﷺ نے انسانیت کو محبت، رحمت اور خیر خواہی کا درس دیا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ 12 ربیع الاول کو اپنے اردگرد موجود ضرورت مند انسانوں کی خبر گیری کریں۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ سڑکوں پر ریلیاں نکالتے ہوئے دوسروں کے حقوق پامال نہ ہوں۔ ایمبولینس راستے میں نہ پھنسے، کسی مریض کو اذیت نہ ہو، کسی بزرگ یا بچے کو دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور عام شہری کی زندگی مفلوج نہ ہو۔ محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا یہ ہے کہ ہماری خوشی کسی دوسرے کے لیے تکلیف کا سبب نہ بنے۔ آپ ﷺ تو راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کو بھی نیکی قرار دیتے ہیں۔ پھر ہمارے جشن کا کوئی ایسا انداز کیسے درست ہو سکتا ہے جو دوسروں کے لیے اذیت بن جائے؟
اسی طرح بلند آواز میں نعتیں اور تقاریر نشر کرتے ہوئے ہمیں آس پاس کے لوگوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ عبادت اور عقیدت کے اظہار میں بھی اعتدال اور شائستگی ضروری ہے۔ خصوصاً بیمار، بزرگ، طلبہ اور آرام کرنے والے افراد ہمارے احترام کے مستحق ہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے ہمیں دوسروں کے آرام اور حقوق کا خیال رکھنے کی تعلیم دی۔ اس لیے میلاد کی خوشی ایسی ہونی چاہیے جس سے محبت پھیلے، پریشانی نہیں۔
12 ربیع الاول ہمیں اپنے گھروں کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے۔ کیا ہمارے گھروں میں سیرتِ رسول ﷺ کا ذکر ہوتا ہے؟ کیا ہمارے بچے جانتے ہیں کہ حضور ﷺ بچوں کے ساتھ کس محبت سے پیش آتے تھے؟ کیا وہ جانتے ہیں کہ آپ ﷺ نے سچائی، امانت، صبر، عفو و درگزر اور حسنِ اخلاق کو زندگی کا حصہ بنایا؟ اگر ہم اپنے بچوں کو صرف جھنڈا تھما دیں مگر سیرت کا شعور نہ دیں تو ہماری ذمہ داری مکمل نہیں ہوتی۔ ہمیں چاہیے کہ اس دن گھروں میں سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کریں اور بچوں کو نبی کریم ﷺ کی زندگی کے روشن واقعات سنائیں۔
آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم محبت کے دعوے تو بہت کرتے ہیں مگر اپنے کردار میں اس محبت کی جھلک کم دکھائی دیتی ہے۔ جھوٹ عام ہے، ملاوٹ موجود ہے، ذخیرہ اندوزی ہوتی ہے، کمزور کا حق دبایا جاتا ہے، رشتوں میں دراڑیں بڑھ رہی ہیں، ہمسائے ایک دوسرے سے بے خبر ہیں اور معمولی اختلافات دشمنی میں بدل جاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ہمارے لیے روشنی کا مینار ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم صرف نعرہ لگانے والی قوم بننا چاہتے ہیں یا اپنے کردار سے محبتِ رسول ﷺ ثابت کرنے والی امت۔
حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات ہمیں عدل و انصاف کا درس دیتی ہیں۔ اگر ہم اپنے منصب، اختیار یا دولت کو دوسروں پر ظلم کے لیے استعمال کریں تو میلاد کی محفلیں ہمارے کردار کی کمی پوری نہیں کر سکتیں۔ ہمیں دفتر میں دیانت دار، بازار میں ایماندار، گھر میں شفیق، معاشرے میں ذمہ دار اور معاملات میں سچا ہونا ہوگا۔ یہی وہ تبدیلی ہے جس کی آج ہمیں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا حقیقی پیغام یہ بھی ہے کہ ہم اپنے دلوں سے نفرتیں نکالیں۔ معافی مانگنے میں پہل کریں، دوسروں کو معاف کریں، رشتوں کو جوڑیں اور دل آزاری سے بچیں۔ نبی کریم ﷺ رحمت بن کر آئے تھے۔ اگر ہمارے الفاظ سے کسی کا دل ٹوٹ رہا ہے، ہمارے رویے سے کسی کو تکلیف پہنچ رہی ہے اور ہماری زبان دوسروں کی عزت پامال کر رہی ہے تو ہمیں اپنے طرزِ عمل پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
ہمیں 12 ربیع الاول کو ایک عہد بھی کرنا چاہیے کہ ہم سیرتِ رسول ﷺ کو صرف کتابوں، تقریروں اور محفلوں تک محدود نہیں رکھیں گے۔ ہم سچ بولیں گے، وعدہ پورا کریں گے، امانت میں خیانت نہیں کریں گے، والدین کا احترام کریں گے، بچوں سے شفقت کریں گے، عورتوں کے حقوق کا خیال رکھیں گے، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کریں گے، پڑوسیوں کا خیال رکھیں گے اور کسی انسان کو بلاوجہ اذیت نہیں دیں گے۔
محبتِ رسول ﷺ ہماری ایمان کی اساس ہے اور اس محبت کا سب سے خوب صورت تقاضا اطاعت ہے۔ چراغ جلانا خوب صورت ہے، جھنڈے لگانا بھی عقیدت کا اظہار ہے، نعتیں پڑھنا دل کو سکون دیتا ہے مگر اصل روشنی اس وقت پیدا ہوگی جب ہمارے کردار میں مصطفوی رنگ نمایاں ہوگا۔ ہماری زبان سچی، ہمارے معاملات صاف، ہمارے دل نرم اور ہمارے ہاتھ دوسروں کی مدد کے لیے آگے بڑھنے والے ہوں گے۔
آئیے اس 12 ربیع الاول پر ہم صرف یہ نہ کہیں کہ ہمیں اپنے نبی ﷺ سے محبت ہے بل کہ اپنی زندگی سے یہ ثابت کریں کہ ہم آپ ﷺ کی تعلیمات پر چلنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ ایک ضرورت مند کی مدد کریں، کسی روٹھے ہوئے سے صلح کریں، کسی مظلوم کا ساتھ دیں، کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھیں، کسی غریب کے گھر راشن پہنچائیں اور اپنے روزمرہ معاملات میں سچائی و امانت کو اختیار کریں۔
یاد رکھیے! میلاد صرف ایک دن کی خوشی نہیں، یہ پوری زندگی کو سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے نور سے روشن کرنے کا نام ہے۔ 12 ربیع الاول ہمیں صرف جشن منانے کا موقع نہیں دیتا، یہ ہمیں اپنی اصلاح کا آئینہ بھی دکھاتا ہے۔ اگر اس دن کے بعد ہماری نماز بہتر ہو جائے، ہمارا اخلاق سنور جائے، ہمارے معاملات پاکیزہ ہو جائیں، ہمارے دلوں میں رحم پیدا ہو جائے اور ہمارے ہاتھ انسانیت کی خدمت کے لیے اٹھنے لگیں تو یہی ہمارے میلاد کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
حضور اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی خوشی منائیے، عقیدت کے پھول نچھاور کیجیے، نعتیں پڑھیے، سیرت بیان کیجیے مگر ساتھ ہی اپنے کردار کو بھی سیرتِ طیبہ کے رنگ میں رنگیے۔ کیوں کہ حقیقی میلاد وہی ہے جو محفل سے نکل کر ہمارے عمل میں اتر جائے، زبان سے نکل کر کردار بن جائے اور ایک دن کی خوشی سے بڑھ کر پوری زندگی کی روشنی بن جائے۔











