12

سوشل میڈیا یا دجالی میڈیا: ممتاز ہاشمی

آج پوری دنیا جھوٹ، فریب اور دروغ گوئی کے جال میں پھنس چکی ہے جس کا منبع سوشل میڈیا ہے۔ اس نے آج دنیا بھر میں مختلف ممالک، قومیتوں، مذاہب، مسالک، وغیرہ وغیرہ میں منافرت اور نفرتوں پھیلانے کا ذریعہ بنا ہے۔ جس سے پوری دنیا کو مجموعی طورایک نئے بحران کا سامنا ہے۔ مگر اس میں ایک منظم سازش کے تحت مسلمانوں اور دین اسلام کو خاص نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کے تاریخی حقائق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اس صدی میں سانس کی ترقی اور نت نئی دریافتوں نے دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے جس میں سب سے بڑا کردار انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ہے۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دریافت اور اس میں حیرت انگیز ترقی نے دنیا بھر کو ایک نئے دور میں داخل کر دیا ہے اس نے دنیا بھر کے انسانوں کو ایک آسان اور فوری معلومات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرنے کا فریضہ انجام دینا شروع کیا ہے اس سے اکثریت مختلف فوائد حاصل کئے ہیں ان مثبت نتائج کے ساتھ ساتھ ہی اس کے شدید منفی اثرات بھی مرتب ہونا شروع ہوتے گئے۔
کیونکہ اس ٹیکنالوجی نے لوگوں کوسوشل میڈیا پر ہر قسم کے جھوٹ، سچ کو پھیلانے کا ذریعہ بنا دیا ہے اور اس کے نتیجے کے طور پر جھوٹ اور سچ پر مبنی تمام مواد اسطرح سے پھیلایا جا رہا ہے کہ عام آدمی کو سچ اور جھوٹ کی تمیز کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
اس کا فائدہ آٹھاتے ہوے لوگوں بے ذاتی مفادات اور بغض کی وجہ سے اپنے مخالفین کے خلاف جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈہ کو سوشل میڈیا پر اس قدر فراہم کر دیا ہے کہ عام آدمی اس سے ذہنی الجھنوں کا شکار ہو گئے ہیں۔
ان حالات میں ترقی یافتہ قوموں اور معاشروں میں جہاں جھوٹ کو انتہائی درجے کی برائی تصور کیا جاتا ہے انہوں نے اس مادر پدر آزاد سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے غور و فکر کے بعد مناسب قوانین واضح کئے جس کے ذریعے سے ان جھوٹے اور سماج دشمن عناصر کو قابو کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اگرچہ یہ کچھ حد تک کامیاب ہوئی ہیں مگر یہ سوشل میڈیا اب دجالی شکل اختیار کر چکا ہے کیونکہ یہ علاقائی حدود سے آزاد ہو کر کسی بھی مقام سے کسی دنیا کے کسی بھی علاقے میں نفرتوں اور انتشار پھیلانے کا سبب بن جاتا ہے۔

آج جب ہم اپنے دنیا میں سوشل میڈیا کے مرتب کردہ اثرات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے اس میں زیادہ تر مواد جھوٹ و فریب کو فروغ دینے کی بنیادوں پر قائم ہے ۔
سوشل میڈیا کی بے ہنگم اور جھوٹ و فریب سے بھرپور مہم نے آج دنیا بھر میں مختلف افراد، طبقات اور اداروں کے درمیان نفرتیں پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
آج اس دجالی سوشل میڈیا سے مغربی ممالک بھی پریشان ہیں کیونکہ اس میں زیادہ تر مواد تذلیل، بدتمیزی اور معاشرے میں نفرتوں و انتشار کو فروغ دینے کا ذریعہ بن گیا ہے۔
جبکہ عوامی امور اور روزمرہ کی زندگی کے مسائل اور ان کے حل کے لیے کوئی معلوماتی اور اصلاحی مواد نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اور ان میں کوئی خاص دلچسپی بھی نہیں لیتا۔
اس وجہ سے یہ دجالی سوشل میڈیا دولت کمانے کا بڑا ذریعہ بن چکا ہے اور جس قدر مرچ مصالحہ لگا کر جھوٹ اور دروغ گوئی کو فروغ دیا جاتا ہے اس کی اسقدر پذیرائی ہوتی ہے اور اس سے لوگوں کو دولت کمانے کے مواقع فراہم ہوتے ہیں۔
ان سوشل میڈیا کے کرداروں میں زیادہ تر افراد اور تجزیہ کاروں کا کسی بھی متعلقہ سبجیکٹ سے نہ ہی تو کوئی تعلق ہوتا ہے اور نہ ہی زیر بحث امور میں کسی قسم کی تعلیم و تجربہ۔ اسطرح سے ایسے افراد سیاست سے لیکر معیشت اور بین الاقوامی امورسے مذاہب اور ثقافتی امور پر اسطرح سے باتیں کرتے ہیں جیسے یہ ان تمام سبجیکٹ کے ماہرین ہیں۔ اس کے نتیجے کے طور پر عوام کو معیاری اور معلوماتی مواد میسر نہیں آتا۔ اور زیادہ تر بحث میں ذاتی رائے اور رحجان کو صحیح ثابت کرنے میں صرف کیا جاتا ہے اور اس میں زیادہ تر جھوٹ ہی کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اور اس میں مرچ مصالحہ لگا کر عوام کے جذبات سے کھیلنے کا عملی مظاہرہ کیا جاتا ہے۔
آج اس سوشل میڈیا کمپین میں ایک منظم، واضح اور منفرد ایجنڈا دیکھنے کو ملتا ہے جس کا ہدف قرآن، دین اسلام، اور علماء کرام کی توہین ہے۔ اور اس سے ہمارے جیسے نام نہاد مسلمان بہت جلد متاثر ہو جاتے ہیں کیونکہ ہم میں قرآن اور دین اسلام کی تعلیمات کا فقدان ہے۔
اس جھوٹ اور اس کو پھیلانے سے روکنے کے لیے اللہ کے واضح احکامات قرآن مجید میں یوں بیان کیے گئے ہیں:

{ إِنَّمَا يَفۡتَرِي ٱلۡكَذِبَ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِۖ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡكَٰذِبُونَ }
[Surah An-Nahl: 105]

“جھوٹ افترا تو وہی باندھتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں ہوتا۔ یہی لوگ جھوٹے ہیں.”

{ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِن جَآءَكُمۡ فَاسِقُۢ بِنَبَإٖ فَتَبَيَّنُوٓاْ أَن تُصِيبُواْ قَوۡمَۢا بِجَهَٰلَةٖ فَتُصۡبِحُواْ عَلَىٰ مَا فَعَلۡتُمۡ نَٰدِمِينَ }
[Surah Al-Hujurât: 6]

“اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ.”

حدیث میں یوں بیان کیا گیا ہے:

“آپ ﷺ نے فرمایا ” منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کہے تو جھوٹ کہے اور جب اس کے پاس امانت رکھیں تو خیانت کرے اور جب وعدہ کرے تو خلاف کرے ۔“

Sahih Bukhari#2749
کتاب وصیتوں کے مسائل کا بیان۔
ان تمام احکامات سے جھوٹ بولنے اور اس کو پھیلانے والوں کو انتباہ واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔
مگر انتہائی شرمناک اور بددیانتی سے آجکل سوشل میڈیا پر جھوٹ اور دروغ گوئی کو فروغ دیا جا رہا ہے اور اس مہم میں ایک بہت بڑا کردار اسلام دشمن عناصر کا ہے جو ایک خاص ایجنڈے کے تحت دین اسلام کے بنیادی احکامات، شعائر اور علماء کا مذاق اڑاتے ہیں اس مقصد کیلئے اربوں ڈالرز مخصوص کئے گئے ہیں اور اس کام کے لیے ایسے لوگوں کو آگے بڑھایا جاتا ہے جو بظاہر مسلمان ہیں۔ اسطرح سے مسلمانوں کو جو عمومی طور پر قرآن اور دین اسلام کی تعلیمات سے لاعلم ہوتے ہیں وہ اس میں شامل ہو جاتے ہیں اور اپنی لاعلمی کی بنیاد پر اللہ کے احکامات کا مذاق اڑانے کے گناہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
یہ وبا بہت تیزی سے پھیل رہی ہے اور ان اسلام دشمن قوتوں نے اپنے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے لاکھوں کی تعداد میں ایسی چیزیں سوشل میڈیا پر جاری کر دی ہیں۔ لیکن ان کی کوششوں کو کامیابی مسلمانوں کی بےحسی اور اللہ کے احکامات سے لاتعلقی ہے جو اس کے پھیلنے میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔ انکی واددت کا طریقہ سمجھنے کی بہت ضرورت ہے تاکہ ان کے فریب کا شکار نہ ہو سکے۔
یہ اسلام دشمن عناصر نہایت مہارت سے معاشرے میں موجود اخلاقی اور سماجی برائیوں کو اجاگر کرتے ہیں اور تمام خرابیوں کو دین اسلام اور علماء کرام سے منسوب کر دیتے ہیں اور اس کے مقابلے میں کفار میں چند خوبیوں کو نمایاں کرنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس بات کو ذہن نشین کرنا نہایت ضروری ہے کہ یہ تمام برائیاں جو ہمارے مسلم معاشروں میں موجود ہیں اس میں ملوث عناصر کی اکثریت کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ اپنے آپ کو لبرل کہلانا پسند کرتے ہیں معاشرے میں تمام خرابیوں کی بنیاد ان ہی لوگوں کی لوٹ کھسوٹ ہے اور ان کے پاس جمع رشوت اور ناجائز کمائی ہے جس کی وجوہات سے معاشرے میں جرائم اور دیگر برائیوں کو پنپنے کا موقع ملتا ہے مگر کبھی بھی ان معاشرتی مسائل اور برائیوں کو ان لبرل اور لادین کرپٹ عناصر سے منسوب نہیں کیا جاتا جو ان کے حقیقی مقاصد کو بےنقاب کرتا ہے۔
اگر ہم پاکستان کی تاریخ میں صحافت کی آزادی پر نظر ڈالیں تو یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ کیونکہ ملک میں زیادہ تر آمریت کا دور دورہ رہا ہے جس میں سچ لکھنے اور کہنے پر نہ صرف پابندی تھی بلکہ ان کو سخت مصائب کا بھی سامنا کرنا پڑتا تھا مگر اس عرصے میں ان دیانتدارانہ صحافت اور عوام کو سچائی سے آگاہی کے لئے کہی تحریکیں بھی چلائی گئی اور اس میں قربانی دینے کے بعد ہی کچھ حد تک سچ لکھنے اور کہنے کی آزادی میسر آئی ہے۔ ان تحریکوں میں پاکستان کے نامور لوگوں نے حصہ لیا تھا جن میں حبیب جالب، فیض احمد فیض، منہاج برنا، نثار عثمانی افتخار احمد، حسن نثار اور لاتعداد صحافیوں اور نامور شخصیات شامل ہیں۔
اگر آج کے دور کا جائزہ لیں تو اسوقت سوشل میڈیا پر زیادہ تر ان لوگوں کا قبضہ ہے جن کا نہ ہی تعلیم اور صحافت کا تجربہ ہے اور زیادہ تر کم عمر ہیں مگر وہ ان تمام موضوعات پر اسطرح سے باتیں کرتے ہوئے جیسے ان سے زیادہ کوئی اور ماہر ان موضوعات پر موجود نہیں ہے۔ ان میں اکثریت کسی یجنڈے پر کام کرتی ہوئی نظر آتی ہے اور ان استحصالی طبقات کی نمائندگی کرنا ہوتا ہے جو ملکی امور اور وسائل پر قابض ہیں اور ان کو ایک خاص اسکرپٹ دیا جاتا ہے جو مکمل طور پر جھوٹ اور دروغ گوئی پر مبنی ہوتا ہے اور وہ بڑی ڈھٹائی اور بے شرمی سے یہ کام سرانجام دیتے ہیں۔ اور اس کے عوض ذاتی و مالی مفادات حاصل کرتے ہیں جس کا اندازہ ان کے طرز زندگی اور اثاثوں سے لگایا جا سکتا ہے۔
اس کے باوجود ان نامساعد حالات میں کچھ لوگ ایسے موجود ہیں جنہوں نے کبھی بھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور ہمیشہ حق اور سچائی کا پرچم سر بلند رکھا ہے جن میں نصرت جاوید، سلیم بخاری، افتخار احمد، طلعت حسین، ابصار عالم، مطیع اللہ جان اور دیگر لاتعداد صحافی شامل ہیں ان ہی کی بدولت عوام کو کچھ حد تک سچائی تک رسائی اور معیاری تجزیہ میسر آتا ہے۔ اگرچہ ان کی ذاتی رائے اور تجزیے کے نتائج سے جزوی یا کلی اتفاق یا اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر ان کی موضوع کی تفصیلات اور تاریخی حقائق کے بیان میں کوئی اختلاف کی گنجائش نہیں ہوتی کیونکہ وہ سچائی اور حقیقت پر مبنی ہوتا ہے۔
مگر کیونکہ دجالی سوشل میڈیا پر زیادہ تر مفاد پرست عناصر چھائے ہوے ہیں اور ہمارے نام نہاد پڑھے لکھے لوگوں کو نہ ہی کوئی شعور حاصل ہے اور یا وہ اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کیلئے اس دجالی میڈیا کے جھوٹ کو پھیلانے کے گھناؤنے کام میں مصروف رہتے ہیں۔ ان کی اس عمل کو جاری و ساری رکھنا ایک خاص ایجنڈے کا حصہ ہے تاکہ مسلمانوں کو دین اسلام سے دور کیا جا سکے۔
اب اس جھوٹ کو پھیلانے کے گھناؤنے عمل کو اللہ سبحانہ و تعالٰی کے احکامات کی روشنی میں کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کریں تو یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ کوئی بھی اہل ایمان جھوٹ بولنے یا اس کو پھیلانے کے عمل کا حصہ بن ہی نہیں سکتا کیونکہ جھوٹ اور غیبت ہمارے دین اسلام میں سب سے بڑے گناہوں میں شامل ہے اور جھوٹ انسان کو شرک تک لے جاتا ہے۔ اگر ہم بغیر تصدیق کئے کسی بھی جھوٹ اور غیبت کو آگے بڑھانے کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو اس کا گناہ اسوقت تک بڑھتا رہے گا جب تک وہ مواد موجود رہے گا اور اس سے گمراہ ہونے والے گناہوں میں بھی حصہ دار ہوں گے۔

اسلئے ہمیں نہ صرف جھوٹ کو پھیلانے کا حصہ بننے سے گریز کرنا چاہیے بلکہ سچائی کا پرچار بھی کرنا لازمی ہے جس کو”امر المعروف اور نہی عن المنکر” سے تشبیہ دی گئی ہے۔
دوسری جانب اس جھوٹ اور فریب کو فروغ دینے سے روکنے کی ذمہ داری ریاست پر بھی عائد ہوتی ہے اور اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ اس سلسلے میں مناسب قانون سازی کی جائے اور ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں تاکہ عوام کو اس جھوٹ اور فریب سے نجات حاصل ہو سکے۔
اس سلسلے میں اہل ایمان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس دجالی سوشل میڈیا کے منفی اثرات کو زائل کرنے کے لیے ایک لائحہ عمل ترتیب دیں اور مسلمانوں کو دین اسلام کے تقاضوں سے آگاہی کا کام سرانجام دیں تاکہ ہم مسلمان اس دجالی سوشل میڈیا کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکیں۔
اللہ سبحانہ و تعالٰی ہم سب ایمان کے دعویداروں کو سچ بولنے، سمجھنے اور امر بالمعروف اور نہی ان منکر کا فریضہ انجام دینے کی توفیق عطء فرمائے۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں