ان دنوں 2026 کا 23واں فیفا ورلڈ کپ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں جاری ہے۔ دنیا بھر میں فٹ بال کا جنون اپنے عروج پر ہے۔ کروڑوں لوگ اپنی پسندیدہ ٹیموں کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں۔ سوشل میڈیا، چائے خانوں، گلیوں، بازاروں اور گھروں تک ہر جگہ اسی کا چرچا ہے۔ ہر گفتگو کا محور یہی عالمی مقابلہ ہے۔ کوئی اپنی پسندیدہ ٹیم کی حمایت میں دلائل دے رہا ہے، کوئی اپنے پسندیدہ کھلاڑی کی مہارت کے قصیدے پڑھ رہا ہے، اور کوئی اگلے مقابلے کی پیش گوئیوں میں مصروف ہے۔ کروڑوں آنکھیں اسٹیڈیم کی طرف لگی ہوئی ہیں اور اربوں دل ایک ایک گول کے ساتھ دھڑک رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کھیل انسان کی فطری دلچسپی اور جائز تفریح کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔
لیکن ان تمام جذبات کے درمیان ایک سوال اپنی جگہ موجود ہےـ جب ورلڈ کپ ختم ہو جائے گا تو پھر کیا باقی رہے گا؟
تاریخ گواہ ہے کہ ہر ورلڈ کپ کے بعد ایک نیا چیمپئن آتا ہے، نئے ستارے ابھرتے ہیں اور پرانے ہیرو آہستہ آہستہ یادوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وہ میچ جن پر ایک وقت میں پوری دنیا کی نظریں جمی ہوتی ہیں، چند برس بعد صرف اعداد و شمار یا مختصر ویڈیوز کی صورت میں باقی رہ جاتے ہیں۔ وقت ہر شور کو خاموش اور ہر جشن کو ماضی بنا دیتا ہے۔
مجھے آج بھی 2011ء کے کرکٹ ورلڈ کپ کا پاکستان اور بھارت کے درمیان سیمی فائنل یاد ہے۔ اس میچ سے پہلے جذبات اپنے عروج پر تھے۔ ہمارے ادارے میں ناظمِ تعلیمات نے کلاس میں آ کر پاکستان کی کامیابی کے لیے خصوصی دعا کروائی۔ کئی طلبہ میچ دیکھنے کے لیے کلاس سے غیر حاضر رہے اور شکست کے بعد ان کے خلاف سخت کارروائی کی گئی۔ میرا ایک قریبی دوست تو اس قدر دل برداشتہ ہوا کہ کئی دن تک قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو برا بھلا کہتا رہا، گویا یہ شکست اس کی اپنی ذاتی ناکامی ہو، مگر آج، جب پندرہ برس گزر چکے ہیں، تو سوچتا ہوں کہ اس غم، اس غصے اور اس ہنگامے کا مستقل حاصل کیا تھا؟ زندگی اپنی رفتار سے آگے بڑھ گئی، نئے ورلڈ کپ آئے، نئے ہیرو پیدا ہوئے اور پرانے قصے تاریخ کا حصہ بن گئے۔
یہی زندگی کا سبق بھی ہے۔ مسئلہ کھیل نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کہیں ہم اپنی زندگی کے بھی صرف تماشائی نہ بن جائیں؛ دوسروں کی کامیابیوں پر تالیاں بجاتے رہیں، ان کی کامیابیاں دیکھتے رہیں، ان پر تبصرے کرتے رہیں۔ بے شک ان کی حوصلہ افزائی کریں، بلا جھجک اپنی پسندیدہ ٹیم کو سراہیں، مگر یہ بھی یاد رکھیے کہ جن کھلاڑیوں کو آج آپ اپنا ہیرو کہتے ہیں، وہ اس مقام تک اتفاقاً نہیں پہنچے۔ انہوں نے برسوں محنت کی، اپنی صلاحیتوں کو نکھارا، وقت کی قربانی دی اور اپنی زندگی کو ایک مقصد کے تابع رکھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم بھی اپنی زندگی کے کسی میدان میں اتنی ہی سنجیدگی سے محنت کر رہے ہیں، یا صرف دوسروں کی کامیابیوں پر تالیاں بجانے کے لیے رہ گئے ہیں؟ وہ دن بدن کامیاب ہوتے جا رہے ہیں، اور آپ؟ کیا آپ آنے والی نسلوں کے بننے والے ہیروز کی حوصلہ افزائی ہی کے لیے پیدا ہوئے ہیں، یا اپنی صلاحیتوں پر بھی کام کریں گے؟ کیا آپ اپنے خواب، اپنے منصوبے اور اپنی صلاحیتوں کی تکمیل کو ہر سال اگلے سال پر ٹالتے رہیں گے؟
اپنی پسندیدہ ٹیم کی حوصلہ افزائی ضرور کیجیے، میچ بھی دیکھیے اور کھیل سے لطف بھی اٹھائیے، مگر اس تفریح کو اپنی زندگی کا مقصد نہ بنائیے۔ یاد رکھیے! جب ورلڈ کپ ختم ہو جائے گا، اسٹیڈیم خالی ہو جائیں گے، نعرے خاموش ہو جائیں گے، نئی ٹیمیں آ جائیں گی اور نئے ہیرو جنم لیں گے؛ لیکن آپ کی زندگی کا مقابلہ اسی طرح جاری رہے گا، اور اس کا نتیجہ ہی آپ کا حقیقی تعارف بنے گا۔ اس لیے اپنے مستقبل کا سودا نہ کیجیے، اپنی صلاحیتوں کو ضائع نہ کیجیے، اور تماشے کو اپنی زندگی کا مقصد نہ بنائیے۔ حقیقی کامیابی اس انسان کی ہے جو دوسروں کی فتوحات پر خوش ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کو بھی ایک کامیاب داستان بنا دے











