15

جب آپ کی کامیابی دوسروں کے دل میں خاموش نفرت جگا دیتی ہے: ہارون الرشید


جنوبی ایشیا کے معاشروں میں ایک عجیب المیہ صدیوں سے موجود ہے۔ اکثر لوگ آپ کی ناکامی پر ہمدردی تو جتا دیتے ہیں، مگر آپ کی کامیابی کو دل سے قبول نہیں کر پاتے۔ بظاہر مسکراہٹیں، مبارک بادیں اور محبت بھرے جملے سنائی دیتے ہیں، لیکن اندر کہیں ایک خاموش بے چینی، حسد اور موازنہ جنم لے چکا ہوتا ہے۔
یہ رویہ صرف خاندانوں تک محدود نہیں۔ حلقۂ احباب، پڑوسی، کاروباری ساتھی، ہم جماعت، حتیٰ کہ وہ لوگ بھی جو برسوں سے آپ کے خیرخواہ نظر آتے ہیں، بعض اوقات آپ کی ترقی کو اپنی محرومی کا آئینہ سمجھنے لگتے ہیں۔ جیسے ہی کوئی شخص معمولی سی معاشی آسودگی حاصل کرتا ہے، بہتر گھر بنا لیتا ہے، اچھی ملازمت پا لیتا ہے، کاروبار میں آگے نکل جاتا ہے یا زندگی کے کسی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کر لیتا ہے، تو اس کے گرد موجود بعض لوگ لاشعوری طور پر اس کا موازنہ اپنی زندگی سے شروع کر دیتے ہیں۔
اصل مسئلہ کامیابی نہیں، بلکہ موازنہ ہے۔ جب انسان اپنی خوشی کو دوسروں کی نسبت سے ناپنا شروع کر دیتا ہے تو پھر کسی اور کی کامیابی اسے اپنی ناکامی محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہی احساس رفتہ رفتہ حسد، نفرت اور بددلی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟
اس کی ایک بڑی وجہ ہمارے معاشروں میں کامیابی کے محدود پیمانے ہیں۔ ہمیں بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ زندگی ایک مقابلہ ہے جہاں دوسرے کی جیت گویا ہماری ہار ہے۔ ہم شاذ و نادر ہی یہ سیکھتے ہیں کہ ترقی ایک مشترکہ عمل بھی ہو سکتی ہے۔ نتیجتاً جب کوئی آگے بڑھتا ہے تو بہت سے لوگ اسے اپنی جگہ کم ہوتی محسوس کرتے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف معاشی نہیں بلکہ نفسیاتی اور ثقافتی بھی ہے۔ گھروں میں، محفلوں میں اور روزمرہ گفتگو میں مسلسل موازنوں کا ماحول پیدا کیا جاتا ہے۔ فلاں کا بیٹا، فلاں کا گھر، فلاں کی نوکری، فلاں کی گاڑی۔ ایسے ماحول میں پروان چڑھنے والا ذہن دوسروں کی کامیابی کو خوشی کے بجائے خطرہ سمجھنے لگتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ رویہ نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے۔ بچے اپنے بڑوں کو دیکھ کر سیکھتے ہیں کہ دوسروں کی خوشی میں خوش ہونا ہے یا دل میں کڑھنا ہے۔ اگر گھروں میں حسد، موازنہ اور منافقت کو معمول سمجھ لیا جائے تو نئی نسل بھی یہی رویے اپناتی ہے۔
اس بیماری کا علاج صرف قانون یا معاشی ترقی نہیں کر سکتی۔ اس کے لیے تعلیم، تربیت اور کردار سازی درکار ہے۔ سکولوں میں بچوں کو تعاون، شکرگزاری اور اجتماعی ترقی کا تصور سکھانا ہوگا۔ مذہبی و سماجی اداروں کو بھی بار بار یہ پیغام دینا ہوگا کہ رزق، عزت اور کامیابی کسی دوسرے کے حصے سے نہیں آتی۔ کسی کی ترقی آپ کی محرومی نہیں بنتی۔
شاید وہ نسل جو آج سکولوں میں بیٹھی ہے، اس سوچ کو بدل سکے۔ کیونکہ جو معاشرہ دوسروں کی کامیابی پر خوش ہونا سیکھ لیتا ہے، وہی حقیقی معنوں میں ترقی کرتا ہے۔ ورنہ ظاہری محبتوں اور اندرونی نفرتوں کے درمیان زندہ رہنے والے معاشرے ہمیشہ اپنی ہی توانائی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں ضائع کرتے رہتے ہیں۔
ہارون رشید

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں