محترم قارئین، تاریخ کے مصلحت پسند جھروکوں سے جھانکتی ہوئی حقیقتیں ہمیشہ اتنی دلکش نہیں ہوتیں جتنا انہیں درباری مورخین کے قلم سے سجا کر پیش کیا جاتا ہے بلکہ بعض اوقات یہ اتنی ہولناک اور تلخ ہوتی ہیں کہ شعور انسانی کے درودیوار ہلا کر رکھ دیتی ہیں اور یہی وہ بے باک سچائی ہے جسے گزشتہ تین صدیوں سے پشتون اُفق پر جاری اپنوں اور بیگانوں کی دست برد کا احاطہ کرتے ہوئے اس تصنیف کا حصہ بنایا گیا ہے جہاں سیاست کے پردے میں چھپے غاصبوں، اقتدار کے نشے میں دھت حکمرانوں اور بین الاقوامی بساط کے شاطر مہروں نے اس غیور مگر مظلوم قوم کے حقوق، تشخص اور علمی سرمائے پر بے رحمانہ ڈاکہ ڈالا ہے۔ بیجنگ کے اقتدار کے ایوانوں سے لے کر واشنگٹن کے وائٹ ہاؤس تک پھیلی اس بساط سیاست پر، جسے “دی گریٹ گیم” کا نام دیا گیا پے، پشتون دھرتی کو ایک ایسے میدان جنگ میں تبدیل کر دیا گیا پے جہاں بارود کی بو اور اپنوں کی بے حسی نے مل کر زبوں حالی کی ایک ایسی داستان رقم کی جس کی نظیر انسانی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ اس کتاب کا ہر ورق، ہر مضمون اور ہر سطر محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ان پوشیدہ اور سنسنی خیز حقائق کی آزادانہ اور مستند گواہی ہے جنہیں وقت کے جابروں نے مصلحت کے قبرستانوں میں دفن کرنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی لیکن میرے غیر جانبدار اور بیلاگ قلم نے نہ کسی کی خوشنودی کی پرواہ کی اور نہ کسی کی دشمنی کا خوف پالا بلکہ صرف اور صرف اس تلخ سچائی کو دنیا کے سامنے لانے کا فریضہ انجام دیا جو مٹی کی بقاء کے لیے ناگزیر تھی۔ یہ تصنیف دنیا کے ان تمام معلوم و نامعلوم مظلوموں کے نام ایک عقیدت ہے جو طاقت کے ترازو میں ہمیشہ کچلے گئے اور جن کی چیخیں اقتدار کے شور میں دبا دی گئیں تاکہ پشتون قوم بالخصوص اور دنیا کے دیگر مظلوم بالعموم، عالمی سیاست کے ان خوفناک، خفیہ اور مکروہ سازشی جالوں سے باخبر ہو سکیں جو ان کی نسلوں کو غلام رکھنے کے لیے بنے جا رہے ہیں۔ تاریخ کا یہ تسلسل گواہ ہے کہ جب تک کوئی قوم اپنے ماضی کے زخموں اور سازشوں کے محرکات سے کماحقہ واقف نہیں ہوتی وہ مستقبل کے اندھیروں میں بھٹکتی رہتی ہے اور یہی اس کتاب کا بنیادی مقصد ہے کہ وہ اس سچائی کے چراغ کو روشن کرے جو اندھی تقلید اور خوف کے بتوں کو پاش پاش کر دے۔ قارئین جب ان صفحات سے گزریں گے تو انہیں معلوم ہوگا کہ کس طرح بین الاقوامی طاقتوں نے اپنے جغرافیائی اور معاشی مفادات کی خاطر اس خطے کے امن کو داؤ پر لگایا اور کس طرح مقامی سطح پر غداری اور غبن کے مرتکب عناصر نے اپنے ہی بھائیوں کے خون کا سودا کرکے اقتدار کی ہوس کو پورا کیا جس نے قوم کو فکری اور اقتصادی طور پر اس نہج پر لا کھڑا کیا جہاں آج وہ کھڑے ہیں۔ یہ ایک ایسا سچ ہے جو چبھتا ضرور ہے، جو روح کو بے چین اور حیرت زدہ ضرور کرتا ہے، لیکن یہی وہ تریاق ہے جو پشتون قوم کو بیداری کی اس نئی سحر سے روشناس کروا سکتا ہے جہاں پھر کوئی غاصب ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی جرات نہ کر سکے اور نہ ہی کوئی بین الاقوامی سازش ان کے وجود کو مٹا سکے۔ اب یہ فیصلہ وقت اور تاریخ کے منصفوں پر ہے کہ وہ اس بیلاگ سچائی کو کس طرح اپنے سینوں میں جگہ دیتے ہیں کیونکہ میرےقلم نے اپنا حق ادا کر چکا ہے اور حقائق اپنے برہنہ روپ میں دنیا کے سامنے کھڑے ہو کر داد انصاف طلب کر رہے ہیں۔
8











