محترم قارئین، آج سے چالیس سال قبل کا ذکر ہے کہ ہمارے ایک عزیز غائبانہ مجھے ایک پیغام بھیجا۔ انہوں نے بتایا کہ پشتونخوا پارٹی اور محمود خان اچکزئی نے ایک خاص شخص انہیں بھیجا ہے، اور یہ پیشکش کی ہے کہ آپ کو کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں بم دھماکے کرنے ہوں گے۔ اس کام کے بدلے میں ہر مرنے والے پر ایک لاکھ اور ہر زخمی پر پچاس ہزار روپے دیے جائیں گے۔ میں نے اس پیشکش کے جواب میں دو ٹوک الفاظ میں کہاکہ ہرگز یہ خون ریزی مت کرو، اور اس شخص نے میری نصیحت پر عمل کرتے ہوئے اس گھناؤنے فعل سے انکار کر دیا۔ اس کے باوجود، چمن کی ریل گاڑی اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ان عناصر کی جانب سے مسلسل بم دھماکے کیے جاتے رہے۔ اسی طرح نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کی طرف سے کوئٹہ اور دیگر شہروں میں بم دھماکے کیے گئے۔ اس زمانے میں جب میں طالب علم تھا اور پڑھائی کر رہا تھا، تو ہماری یہ حالت تھی کہ ہم اس وقت تک سو نہیں سکتے تھے جب تک کوئی بم دھماکہ نہ ہو جاتا۔ جب بم کا دھماکہ ہو جاتا، تو ہم سکون سے یہ کہہ کر سو جاتے تھے کہ چلو اب دھماکہ ہو گیا ہے، اب سو سکتے ہیں۔اس پس منظر میں میرا بنیادی سوال یہ ہے کہ بابڑہ کے شہداء سے لے کر آج تک یہ لکھے ہوئے شہداء کس مقصد کے لیے بنائے گئے؟ کیا پاکستان میں پشتونوں کے علاقوں کو افغانستان سے رضاکارانہ طور پر یا جبر کے ذریعے الگ کیا گیا تھا؟ اگر ایسا تھا، تو کیا اس دعوے کی رو سے افغانستان ان علاقوں کو اپنی جغرافیائی حدود تسلیم کرتا ہے؟ اگر افغان ملت اسے اپنی زمینی ملکیت سمجھتی ہے اور اس پر زمینی دعویٰ رکھتی ہے، تو پھر تاریخ کا وہ کون سا دن تھا جب افغانستان نے خود اپنے منہ سے پشتونستان کا نام لیا تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ وہی پہلا دن تھا جب افغانستان نے خود اپنے ہاتھوں سے پشتونوں کو تقسیم کر دیا اور الگ کر دیا۔ پچھتر برس گزر جانے کے باوجود عملاً یہ سب کچھ صرف اور صرف نعروں کی حد تک محدود رہا ہے۔ نام نہاد پشتونستان کے نام پر صرف بلند بانگ نعرے لگائے گئے اور اس کی آڑ میں ان کے رہنماؤں نے اپنی سیاسی اور مادی مفادات کی تسکین کی۔سن 2008ء میں واشنگٹن سے مجھے ایک ٹیلیفون موصول ہوا جس میں مجھ سے پوچھا گیا کہ پشتونستان کے حوالے سے آپ کا کیا نقطہ نظر ہے؟ میں نے انہیں دو ٹوک جواب دیا کہ جس وقت پشتون پشتونستان کا مطالبہ کر رہے تھے، اس وقت نہ تو برطانوی راج نے اور نہ ہی کانگریس نے انہیں یہ حق دیا، بلکہ انہوں نے دانستہ طور پر پشتونوں کو پنجاب کی غلامی اور تسلط میں دے دیا۔ ہمارے سیاسی رہنماؤں کا فرض بنتا تھا کہ وہ اپنی تمام تر غصہ اور احتجاجی تحریک ہندو اور انگریز کے خلاف استعمال کرتے، لیکن افسوس کہ انہوں نے ان دونوں طاقتوں کو چھوڑ دیا۔ ابتدا میں باچا خان اور ان کے بھائی خود اسمبلی میں گئے اور باچا خان کے بھائی صوبے کے وزیر اعلیٰ بنے۔ جب انہوں نے پاکستان کے لیے کشمیر فتح کیا، تو انہیں چاہیے تھا کہ وہ اپنی اصل توانائی اور جدوجہد پشتونستان کے حقیقی حصول کے لیے وقف کرتے، نہ کہ ذاتی اور خاندانی مفادات کے لیے۔آج انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں انہی آزادی پسند رہنماؤں اور کارکنوں کی اولادیں آج پاکستان کی غلامی، محکومی اور متابعت پر فخر محسوس کر رہی ہیں۔ بلکہ اب ان کی نئی نسل اپنے ان بزرگوں، باپ دادا اور مورثِ اعلیٰ کے کیے گئے فیصلوں اور اقدامات پر سخت پشیمان دکھائی دیتی ہے۔ اس تمام صورتحال کا واضح اور صاف مطلب یہ بنتا ہے کہ پچھتر سالوں سے ان دو مخصوص خاندانوں نے ہمیشہ ہمیں اندھیرے میں رکھا، ہماری سادہ لوحی کا استحصال کیا اور ہمیں مسلسل فریب اور دھوکے میں مبتلا رکھا۔ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ آج بھی یہ لوگ باز نہیں آتے۔صمد خان اور باچا خان کے نام پر ووٹ بٹورنے کے لیے ایک بار پھر عوام کے سامنے ہاتھ پھیلانے آ جاتے ہیں، تاکہ سادہ لوح عوام کو ایک بار پھر اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر سکیں۔
86











