16

بے مول رشتے:از قلم: اُلبہ خان (حویلیاں، ایبٹ آباد)

دنیا واقعی بہت ظالم ہے۔ یہاں ہر قدم پر لوگ اپنے ہی فائدے کا سوچتے ہیں۔ ’’میں‘‘ اور ’’میرا‘‘ جیسے خود غرض رویوں پر مبنی تعلقات قائم کیے جاتے ہیں۔ ہر چہرے پر مسکراہٹ کے پیچھے ایک مطلب چھپا ہوتا ہے، ایسا مطلب جسے ہر کوئی سمجھ نہیں پاتا۔ سادہ لوح لوگوں کی یہاں کوئی قدر نہیں ہوتی۔

علی بھی زندگی کی تلخ حقیقتوں اور سختیوں کا سامنا کرنے والوں میں سے ایک تھا۔ جب اس کی ماں بیمار ہوئی تو محلے والے دروازے تک آ کر حال پوچھتے اور واپس چلے جاتے۔ محلے والوں کے ذہنوں میں یہی سوال گردش کرتے تھے: ”ہسپتال کون لے جائے؟ پیچھے گھر کی دیکھ بھال کون کرے؟ وقت کس کے پاس ہے؟‘‘
علی نے اپنی ماں کی خدمت کے لیے نوکری چھوڑ دی، اپنی جمع پونجی علاج پر لگا دی اور راتیں جاگ جاگ کر ماں کی تیمارداری میں گزار دیں مگر رب کی رضا کچھ اور تھی۔ اس کی تمام کوششیں تقدیر کے آگے بے بس دکھائی دے رہی تھیں۔

سچ کہتے ہیں کہ جو دنیا میں آیا ہے، اسے ایک دن واپس بھی جانا ہے۔ یہی اللہ تعالیٰ کا اٹل قانون ہے۔ علی کی لاکھ کوششوں کے باوجود اس کی ماں صحت یاب نہ ہو سکی اور بالآخر اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔ آخری سانسوں سے پہلے اس نے علی کا ہاتھ تھام کر کہا:
’’بیٹا! لوگوں سے کبھی کوئی امید مت رکھنا۔ یہاں اپنا کوئی نہیں بنتا، سب اپنے مطلب کے لیے ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔‘‘
یہ نصیحتیں کرتے کرتے اس کی زندگی کا وقت پورا ہو گیا۔ بالآخر وہ بیماری سے لڑتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئی اور علی اس بھری دنیا میں تنہا رہ گیا۔
اس کی ماں کے چالیسویں پر بھی کوئی نہ آیا۔ جن رشتہ داروں کی خوشیوں کے لیے علی نے ہر ممکن کوشش کی تھی، وہ سب اپنی اپنی مصروفیات میں مگن تھے۔

وقت گزرتا گیا۔ کوئی لمحہ ایسا نہ تھا جس میں علی نے اپنی ماں کو یاد نہ کیا ہو۔ پھر اس کی زندگی میں زینب آئی۔ زینب کی آنکھوں میں دنیا جہان کی محبت تھی، جسے اس نے علی کے نام کر دیا۔ علی نے سوچا کہ شاید رب نے اس کی دعا سن لی تھی۔ جلد ہی دونوں نکاح کے مقدس اور پاکیزہ رشتے میں بندھ گئے۔
وہ ایک چھوٹے سے گھر میں خوش تھے۔ علی دن بھر مزدوری کرتا اور زینب شام کو اس کے گھر لوٹنے پر دروازے پر کھڑی خوش آمدید کہتی۔
لیکن دنیا والوں نے ان کی زندگی کا سکون زیادہ دیر برقرار نہ رہنے دیا۔ علی جس کمپنی میں کام کرتا تھا، وہ بھی بند ہو گئی۔ گھر کا کرایہ ادا نہ ہو سکا اور مکان مالک نے ان کا سامان باہر پھینک دیا۔
زینب کے گھر والوں نے کہا:
’’ایسے ناکام آدمی کے ساتھ ہماری بیٹی کا مستقبل برباد ہو جائے گا۔‘‘
زینب نے بہت رو رو کر فریاد کی:
’’میں علی کے ساتھ رہوں گی۔‘‘
مگر جلد ہی اس کے گھر والوں نے علی سے زبردستی طلاق دلوا کر زینب کی شادی ایک خوش حال آدمی سے کر دی۔ رخصتی کے وقت زینب نے آخری بار علی کی طرف دیکھا اور لرزتے ہوئے ہونٹوں سے کہا:
’’معاف کر دینا، میں وقت کے ہاتھوں مجبور تھی۔‘‘
آج علی اسی ٹوٹے ہوئے پل پر بیٹھا تھا جہاں وہ زینب سے ملا کرتا تھا۔ اس کے ہاتھ میں چائے کا ٹھنڈا کپ تھا۔ سامنے سے لوگ گزر رہے تھے۔ کوئی ہنس رہا تھا اور کوئی مذاق کر رہا تھا مگر کسی کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ ایک ٹوٹے ہوئے انسان سے پوچھ سکے:
’’کیا تم ٹھیک ہو؟‘‘
علی آسمان کی طرف دیکھ کر سرگوشی کرنے لگا:
’’ماں! تم سچ کہتی تھیں۔ یہاں چاہت، پیار اور محبت کی کوئی قدر نہیں۔ یہاں صرف مطلب کی قیمت ہے اور جب مطلب ختم ہو جاتا ہے تو انسان کی اہمیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔‘‘
اتنا کہہ کر علی خاموش ہو گیا۔ ہوا کا ایک جھونکا آیا اور اچانک اس کے ہاتھ سے چائے کا کپ گر کر ٹوٹ گیا۔ علی اس ٹوٹے ہوئے کپ کے درد کو اچھی طرح سمجھ سکتا تھا کیوں کہ وہ خود بھی اسی کپ کی طرح ٹوٹ کر بکھر چکا تھا، جس کی کرچیوں کو کوئی اس خوف سے نہیں سمیٹتا کہ کہیں اس کے ہاتھ زخمی نہ ہو جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں