ہمارے معاشرے میں ایسے بے شمار گھر موجود ہیں جہاں غربت نے صرف دستک نہیں دی بلکہ مستقل ڈیرہ ڈال لیا ہے۔ کہیں باپ روزگار کی تلاش میں صبح سویرے گھر سے نکلتا ہے اور شام کو خالی ہاتھ واپس آتا ہے، کہیں ماں بچوں کی بھوک دیکھ کر اپنے حصے کا نوالہ بھی انہیں کھلا دیتی ہے، کہیں بچے سکول جانے کی عمر میں مزدوری کرنے پر مجبور ہیں اور کہیں ایک بیمار والد اپنے بچوں کی آنکھوں میں سوال دیکھ کر خود کو بے بس محسوس کرتا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے ہم اکثر اپنی مصروف زندگی کی چکاچوند میں دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔ ہم بازاروں میں جاتے ہیں، دکانوں پر خریداری کرتے ہیں، ہوٹلوں میں کھانا کھاتے ہیں، دعوتوں میں انواع و اقسام کے پکوان دیکھتے ہیں اور بعض اوقات ضرورت سے زیادہ کھانا ضائع بھی کر دیتے ہیں، مگر شاید ہی کبھی ہمارے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہو کہ اسی شہر کے کسی کونے میں کوئی بچہ ایک روٹی کے لیے ترس رہا ہوگا۔ ہمارے دسترخوانوں پر ضرورت سے زیادہ کھانا موجود ہوتا ہے، مگر کئی گھروں میں بچوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اگلا کھانا کب نصیب ہوگا۔ یہ صرف غربت نہیں بلکہ معاشرتی بے حسی کا بھی ایک بڑا امتحان ہے۔ مہنگائی نے غریب آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ آٹا، دال، چاول، گھی، سبزیاں، دودھ اور دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، جب چند سو روپے لے کر گھر پہنچتا ہے تو اس کے سامنے اخراجات کی ایک لمبی فہرست کھڑی ہوتی ہے۔ بچوں کی فیس، کتابیں، بجلی کا بل، گیس کا خرچ، مکان کا کرایہ، دوائی اور گھر کا راشن؛ آخر وہ کس کس ضرورت کو پورا کرے؟ جب آمدن محدود اور ضروریات بڑھ جائیں تو سب سے پہلے غریب کے گھر کا چولہا متاثر ہوتا ہے۔ ایک باپ کے لیے اس سے زیادہ تکلیف دہ منظر شاید کوئی نہیں کہ اس کا بچہ بھوک سے رو رہا ہو اور وہ اسے کھانے کو کچھ نہ دے سکے۔ باپ اپنے بچوں کا محافظ ہوتا ہے، ان کی ضروریات پوری کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے، مگر غربت کبھی کبھی انسان کو ایسے مقام پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں وہ اپنی اولاد کی آنکھوں میں دیکھنے سے بھی گھبرانے لگتا ہے۔ وہ بچوں سے نظریں چرا کر باہر نکل جاتا ہے، کسی دوست، رشتہ دار یا دکاندار سے ادھار مانگتا ہے اور اگر کہیں سے مدد نہ ملے تو خاموشی سے واپس آ جاتا ہے۔ اس کے قدم گھر کی طرف بڑھتے ہیں، مگر دل میں یہ خوف ہوتا ہے کہ بچوں کے سوالوں کا جواب کیا دے گا؟ ماؤں کا دکھ اس سے بھی بڑا ہوتا ہے۔ ایک ماں اپنے بچے کو بھوکا نہیں دیکھ سکتی۔ وہ خود بھوکی رہ سکتی ہے، مگر اپنی اولاد کے سامنے کھانا کھانے سے گریز کرتی ہے۔ کتنی ہی مائیں ایسی ہوں گی جو بچوں کو یہ کہہ کر اپنا نوالہ ان کے سامنے رکھ دیتی ہیں کہ ’’مجھے بھوک نہیں ہے۔‘‘ حقیقت میں وہ بھوکی ہوتی ہیں، مگر ماں کی ممتا اپنی بھوک سے بڑی ہوتی ہے۔ ایسی ماؤں کی آنکھوں میں چھپے آنسو ہمارے معاشرے کے ضمیر سے سوال کرتے ہیں کہ کیا ہم واقعی ایک دوسرے کے دکھ درد سے بے خبر رہ سکتے ہیں؟ غربت صرف پیٹ کی بھوک کا نام نہیں۔ بھوک انسان کے خواب بھی کھا جاتی ہے۔ جب بچہ مناسب خوراک سے محروم رہے تو اس کی صحت، تعلیم اور ذہنی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ جو بچہ کتاب ہاتھ میں لے کر سکول جانا چاہتا تھا، وہ کبھی مزدوری کے لیے دکان پر کھڑا نظر آتا ہے اور کبھی کسی ورکشاپ میں کام کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں قلم کی جگہ اوزار آ جاتے ہیں۔ اس کی آنکھوں میں مستقبل کے خوابوں کی جگہ روزی کمانے کی فکر آ جاتی ہے۔ یوں ایک پورا مستقبل غربت کے ہاتھوں خاموشی سے دفن ہونے لگتا ہے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ بچوں کو بھوک اور محرومی کی طرف دھکیلنے کے بعد ہم ان سے ایک روشن مستقبل کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟ جس بچے کو دو وقت کی روٹی میسر نہ ہو، جس کے گھر میں بجلی کا بل ادا نہ ہونے کی وجہ سے اندھیرا ہو، جس کے والدین بیماری کے علاج کے لیے پریشان ہوں، اس بچے سے صرف یہ کہنا کہ ’’تم محنت کرو، کامیاب ہو جاؤ گے‘‘ کافی نہیں۔ کامیابی کے لیے محنت کے ساتھ بنیادی سہولتیں، مناسب غذا، تعلیم، صحت اور ایک محفوظ ماحول بھی ضروری ہے۔ ہمارے معاشرے میں صدقہ، خیرات اور زکوٰۃ کی عظیم روایات موجود ہیں۔ اسلام نے محتاجوں، مسکینوں، یتیموں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھنے کی بار بار تاکید کی ہے۔ لیکن ہمیں اپنے طرزِ عمل پر غور کرنا ہوگا۔ کیا ہماری خیرات واقعی ان لوگوں تک پہنچ رہی ہے جن کے گھر کا چولہا بجھا ہوا ہے؟ کیا ہم اپنے اردگرد موجود ضرورت مند خاندانوں کو پہچانتے ہیں؟ کیا ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے محلے میں کون سا بچہ فاقے کے باعث سکول نہیں جا رہا؟ اگر نہیں تو ہمیں اپنے اردگرد دیکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ بعض اوقات مدد مانگنے والا ہمارے دروازے تک نہیں پہنچتا، مگر اس کی خاموشی خود ایک فریاد ہوتی ہے۔ مدد صرف یہ نہیں کہ کسی غریب کو ایک وقت کا کھانا کھلا دیا جائے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ اسے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا موقع دیا جائے۔ کسی بے روزگار شخص کو روزگار فراہم کرنا، کسی ہنرمند کو کام دلانا، کسی بچے کی تعلیم کا خرچ اٹھانا، کسی مریض کے علاج میں تعاون کرنا اور کسی بیوہ کے گھر کا مستقل سہارا بن جانا معاشرتی خدمت کی بہترین صورتیں ہیں۔ ہمیں خیرات کے ساتھ خود کفالت کے راستے بھی پیدا کرنے چاہییں، تاکہ ضرورت مند ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنے ہاتھ سے روزی کما سکے۔ ہمارے تاجر، صنعت کار، صاحبِ حیثیت افراد اور مخیر حضرات اگر اپنے اپنے علاقوں میں چند ضرورت مند خاندانوں کی ذمہ داری لے لیں تو بہت سے چولہے دوبارہ جل سکتے ہیں۔ کسی ایک خاندان کا ماہانہ راشن اٹھانا شاید ایک صاحبِ حیثیت شخص کے لیے معمولی بات ہو، مگر اس خاندان کے لیے یہ ایک بڑی نعمت بن سکتی ہے۔ کسی بچے کی فیس ادا کر دینا شاید ہمارے لیے ایک چھوٹا سا خرچ ہو، مگر اس بچے کے لیے یہ اس کے مستقبل کا دروازہ کھول سکتا ہے۔ کسی بیمار شخص کے علاج میں مدد کرنا اس کے لیے زندگی کی نئی امید بن سکتا ہے۔ ہمیں شادی بیاہ اور تقریبات میں کھانے کے ضیاع پر بھی غور کرنا ہوگا۔ ایک طرف میزیں کھانوں سے بھری ہوتی ہیں اور دوسری طرف ایسے گھر ہیں جہاں بچے سوکھی روٹی کے ایک ٹکڑے کے منتظر ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھروں، دعوتوں اور تقریبات میں خوراک ضائع کرنے کے بجائے ضرورت مندوں تک پہنچانے کا باقاعدہ نظام بنا لیں تو نہ جانے کتنے بھوکے بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ واپس آ سکتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ رزق اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اور نعمت کی قدر صرف اسے حاصل کرنے میں نہیں بلکہ اسے ضائع ہونے سے بچانے میں بھی ہے۔ حکومت کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ روزگار کے مواقع پیدا کرے، بنیادی اشیائے خور و نوش عام آدمی کی پہنچ میں رکھے، مزدور کی اجرت کو اس کی ضروریات کے مطابق بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے، تعلیم اور صحت کی سہولتیں عام کرے اور ایسے خاندانوں کے لیے مؤثر سماجی تحفظ کا نظام قائم کرے جو مستقل طور پر غربت کا شکار ہیں۔ صرف اعداد و شمار میں ترقی کافی نہیں؛ اصل ترقی اس وقت محسوس ہوگی جب کسی غریب باپ کو اپنے بچوں کے کھانے کی فکر میں رات نہ جاگنا پڑے اور کسی ماں کو بچوں کو بھوک کی حالت میں بہلانے کے لیے جھوٹا وعدہ نہ کرنا پڑے۔ ہمیں اپنے معاشرے میں عزتِ نفس کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ ضرورت مند کی مدد اس طرح کی جائے کہ اس کی خودداری مجروح نہ ہو۔ کسی غریب کو سب کے سامنے کھڑا کرکے مدد دینا یا اس کی مجبوری کو نمائش بنانا خدمت نہیں بلکہ اس کے دکھ میں اضافہ ہے۔ حقیقی مدد وہ ہے جو خاموشی سے کی جائے اور جس کا علم صرف مدد کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کو ہو۔ کسی کے گھر راشن پہنچاتے وقت اس کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا اس کے گھر راشن پہنچانا۔ آج ہمیں اپنے گھروں سے ایک چھوٹی سی مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے گھر کے راشن میں سے کچھ حصہ کسی مستحق خاندان کے لیے نکالیں۔ بچوں کو بھی سمجھائیں کہ کھانا ضائع نہ کریں۔ انہیں بتائیں کہ روٹی کا ایک ٹکڑا بھی کسی بھوکے بچے کے لیے قیمتی ہو سکتا ہے۔ اگر ہر گھر اپنے اردگرد صرف ایک ضرورت مند گھر کی خبرگیری شروع کر دے تو معاشرے میں ایک بڑی تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو صرف آسائشیں نہیں بلکہ احساس بھی دینا ہوگا، کیونکہ آنے والی نسل اسی معاشرے کی تعمیر کرے گی جس کے اصول ہم آج اسے سکھا رہے ہیں۔ ہمیں غربت کو صرف غریب کی قسمت قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ’’یہ تو اس کی قسمت ہے‘‘، مگر سوال یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں استطاعت دی ہے تو کیا وہ استطاعت صرف اپنے لیے ہے؟ مال، اختیار، علم اور صلاحیت سب امانتیں ہیں۔ ان امانتوں کا اصل حسن اسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب ان سے کسی دوسرے کی زندگی آسان ہو۔ کسی مجبور کے لیے آسانی پیدا کرنا دراصل اپنے لیے بھی رحمت کے دروازے کھولنا ہے۔ ایک طرف ہم اپنے بچوں کے لیے مہنگے کھلونے، موبائل فون، کپڑے اور تفریح کے سامان خریدتے ہیں اور دوسری طرف کچھ بچے ایسے ہیں جنہیں دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں۔ یہ فرق ہمیں اندر سے جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنے بچوں کو سکھانا ہوگا کہ کسی بھوکے کو کھانا کھلانا، کسی پیاسے کو پانی پلانا، کسی مجبور کا ہاتھ تھامنا اور کسی یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھنا بھی زندگی کی بڑی کامیابیاں ہیں۔ اگر ہمارے بچوں کے دل میں دوسروں کے لیے درد پیدا ہوگیا تو ہم ایک بہتر معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بھوک کسی مذہب، زبان، علاقے یا طبقے کو نہیں دیکھتی۔ بھوک صرف بھوک ہوتی ہے۔ ایک معصوم بچے کے پیٹ کی آگ اس وقت یہ نہیں پوچھتی کہ اس کے والد کا تعلق کس طبقے سے ہے۔ اس لیے انسانیت کے ناتے ہر ضرورت مند کا خیال رکھنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کسی کے گھر کا بجھتا چولہا دراصل ہمارے اجتماعی ضمیر کے سامنے ایک سوال بن کر کھڑا ہے۔ آج اگر کسی گھر کا چولہا نہیں جل رہا تو یہ صرف اس گھر کا مسئلہ نہیں؛ یہ پورے معاشرے کے ضمیر کا سوال ہے۔ اگر کسی بچے کے ہاتھ میں کتاب کی بجائے مزدوری کا اوزار ہے تو ہمیں رک کر سوچنا ہوگا۔ اگر کوئی ماں اپنے بچوں کو بھوکا سلا رہی ہے تو ہمارے لیے یہ لمحۂ فخر نہیں بلکہ لمحۂ فکر ہے۔ معاشرے کی اصل خوبصورتی بلند عمارتوں، چمکتی سڑکوں اور بڑے بازاروں سے نہیں بلکہ اس بات سے معلوم ہوتی ہے کہ وہاں کمزور اور ضرورت مند انسان کس قدر محفوظ اور مطمئن ہے۔ آئیے! ہم عہد کریں کہ اپنے اردگرد کے بجھتے چولہوں کو دیکھیں گے، تڑپتے بچوں کی آواز سنیں گے اور اپنی استطاعت کے مطابق ان کے لیے آسانی پیدا کریں گے۔ کسی کے گھر راشن پہنچا دیں، کسی بچے کی فیس ادا کر دیں، کسی بے روزگار کو کام دلوا دیں، کسی بیمار کا علاج کرا دیں یا کسی ضرورت مند خاندان کی خاموشی سے مدد کر دیں۔ شاید ہماری ایک چھوٹی سی کوشش کسی ماں کی آنکھ سے آنسو پونچھ دے، کسی باپ کے چہرے پر اطمینان لے آئے اور کسی بچے کے لبوں پر مسکراہٹ واپس لے آئے۔ یاد رکھیے! بجھتا ہوا چولہا صرف ایک گھر کا اندھیرا نہیں، پورے معاشرے کے ضمیر کی آزمائش ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اس اندھیرے کو دیکھ کر بھی آنکھیں بند رکھیں گے یا اپنے حصے کا ایک چراغ جلا کر کسی گھر کو روشنی دیں گے۔ آج کسی کے گھر چولہا نہیں جلا تو کل شاید ہمارے دروازے پر بھی کوئی ضرورت مند دستک دے۔ زندگی کا پہیہ ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ جو ہاتھ آج مدد کرنے کے قابل ہے، اسے کل مدد کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔ اس لیے آسانیاں بانٹیں، بھوک کم کریں، دل جوڑیں اور اپنے معاشرے کو ایسا معاشرہ بنائیں جہاں کوئی بچہ بھوک سے نہ روئے، کوئی ماں بے بسی سے آنسو نہ بہائے اور کوئی باپ اپنے بچوں کی نظروں سے نظریں نہ چرائے، کیونکہ ایک جلتا ہوا چولہا صرف کھانا نہیں پکاتا، وہ ایک گھر کی امید، بچوں کی مسکراہٹ اور مستقبل کے خواب بھی روشن کرتا ہے۔
19











