محترم قارئین، سیرتِ طیبہ کا سب سے درخشندہ اور انقلاب آفریں پہلو یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک ایسے جاہلی معاشرے میں جہاں غلام کو محض ایک بے جان شے، عورت کو کم تر، اور دشمن کو واجب القتل سمجھا جاتا تھا، اپنے حسنِ اخلاق، شفقت اور بے مثال معلمانہ حکمتِ عملی سے انسانی تاریخ کا سب سے بڑا اخلاقی اور تعلیمی انقلاب برپا کیا۔ آپ ﷺ کی ذاتِ بابرکت پوری انسانیت کے لیے معلمِ اعظم بن کر جلوہ گر ہوئی۔ آپ ﷺ کا اسلوبِ تربیت کسی مخصوص طبقے، نسل یا زبان تک محدود نہیں تھا، بلکہ آپ ﷺ نے مرد، عورت، بچے، بوڑھے، آقا، غلام، دوست اور دشمن ہر ایک کے لیے ایک ایسا عالمگیر اور دلنشین تعلیمی نظام قائم کیا جس کی نظیر دنیا کا کوئی فلسفہ یا نظامِ تعلیم پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اسلام سے قبل غلامی کو انسانیت کی تذلیل کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، مگر آپ ﷺ نے اس تصور کی جڑیں کاٹ دیں اور اعلان فرمایا کہ “غلام تمہارے بھائی ہیں”۔ آپ ﷺ نے محض الفاظ تک محدود رہنے کے بجائے خود عمل کر کے دکھایا۔ حضرت زید بن حارثہؓ کو خرید کر آزاد کیا اور انہیں اپنا بیٹا بنا لیا، جس پر لوگ انہیں “زید بن محمد” کہنے لگے۔ جب حضرت زیدؓ کے والد اور چچا انہیں لینے آئے تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کے بے پناہ پیار اور عزت و احترام کے سبب اپنے سگے والد کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا، جو اس بات کا روشن ثبوت تھا کہ آپ ﷺ کا رویہ غلام کے ساتھ آقا کا نہیں بلکہ ایک شفقت بھرے باپ کا تھا۔ فتحِ مکہ کے تاریخی موقع پر، جب عرب کے تمام مغرور سردار موجود تھے، آپ ﷺ نے حبشی غلام حضرت بلالؓ کو کعبے کی چھت پر چڑھا کر اذان دینے کا شرف عطا فرمایا۔ اس عمل نے نسلی، رنگاتی اور طبقاتی غرور کو ہمیشہ کے لیے خاک میں ملا دیا اور دنیا کو یہ آفاقی سبق دیا کہ اللہ کے نزدیک عزت کا معیار نسب یا دولت نہیں بلکہ تقویٰ اور پاکیزگی ہے۔ آپ ﷺ نے آقا اور غلام کے درمیان معاشی و معاشرتی فرق کو ختم کرتے ہوئے قانون نافذ کیا کہ غلاموں کو وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو، وہی پہناؤ جو خود پہنتے ہو، اور ان کی طاقت سے زیادہ ان سے کام نہ لو۔ اگر غلام سے کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو آپ ﷺ نے دن میں 70 بار معاف کرنے کی ہدایت دی، جس سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ معلمِ حقیقی مار پیٹ یا زبردستی کے بجائے معافی، درگزر اور پیار کے ذریعے انسانی نفوس کی اصلاح کرتا ہے۔تعلیم و تربیت کا دوسرا اہم ترین اور حیرت انگیز پہلو دشمنوں کے ساتھ آپ ﷺ کا معلمانہ رویہ تھا، جہاں آپ ﷺ کا مقصد دشمن کو ہلاک کرنا یا انتقام لینا نہیں بلکہ اس کے اندر چھپی برائی کو ختم کر کے اس کی شخصیت کو بدلنا تھا۔ طائف کا واقعہ اس کی روشن ترین مثال ہے، جہاں آپ ﷺ پر پتھر برسا کر آپ ﷺ کو لہولہان کر دیا گیا اور نعلین مبارک خون سے بھر گئے۔ جب پہاڑوں کے فرشتے نے حاضر ہو کر اجازت چاہی کہ اس قوم کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس دیا جائے، تو رحمة للعالمین ﷺ نے انتقام کا سوچنے کے بجائے ان کی آئندہ نسلوں کی ہدایت کے لیے دعا فرمائی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ محض دس سال کے قلیل عرصے میں پورا طائف اسلام کا قلعہ بن گیا۔ اسی طرح فتحِ مکہ کے دن، جو کہ انتقام کا دن ہو سکتا تھا، آپ ﷺ نے بیس سال تک شدید ترین دشمنی کرنے والے اور جنگیں لڑنے والے ابو سفیان کے گھر کو امان گاہ قرار دے کر اسے عزت بخشی، جس نے اس کے دل سے نفرت کے تمام تاریک سائے مٹا دیے اور اس کا بیٹا بعد میں کاتبِ وحی بنا۔ جنگِ بدر کے موقع پر جب ستر کافر قیدی ہاتھ آئے، تو آپ ﷺ نے غریب قیدیوں کا فدیہ یہ مقرر فرمایا کہ وہ مدینہ کے دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں اور آزاد ہو جائیں۔ یہ تاریخِ عالم کا ایک منفرد واقعہ تھا جہاں دشمن قیدی استاد بنے اور علم کی روشنی پھیلا کر آزادی حاصل کر گئے۔ آپ ﷺ کے اس عمل نے یہ ثابت کیا کہ اسلام کے نزدیک علم کی اہمیت جان سے بھی زیادہ ہے اور دشمن سے بھی اگر کوئی مفید علم ملے تو اسے حاصل کرنا چاہیے، نیز دشمن کو بھی علم کی روشنی سے محروم نہیں رکھنا چاہیے۔بچوں کی تربیت اور نفسیات کے معاملے میں آپ ﷺ دنیا کے پہلے اور عظیم ترین چائلڈ سائیکالوجسٹ ثابت ہوئے۔ حضرت انس بن مالکؓ، جنہوں نے دس سال کی عمر سے نبی کریم ﷺ کی خدمت کی، گواہی دیتے ہیں کہ ان دس سالوں میں آپ ﷺ نے کبھی انہیں ‘اف’ تک نہ کہا اور نہ ہی کسی کام کے بھول جانے یا بگڑ جانے پر ڈانٹ ڈپٹ کی، بلکہ ہمیشہ یہ فرما کر حوصلہ افزائی کی کہ جو اللہ کو منظور تھا وہی ہوا۔ آپ ﷺ بچوں کے ساتھ بے پناہ محبت، نرمی اور کھیل کود کا عنصر برقرار رکھتے تھے۔ سجدے کی حالت میں جب آپ ﷺ کے نواسے حضرت حسنؓ یا حسینؓ آپ ﷺ کی پشتِ مبارک پر سوار ہو جاتے تو آپ ﷺ سجدے کو اس وقت تک طویل کر دیتے جب تک بچہ خود نہ اتر جائے۔ آپ ﷺ عبادت جیسی عظیم ذمہ داری کے دوران بھی بچوں پر سختی نہیں فرماتے تھے بلکہ محبت کو اولیت دیتے تھے۔ راستے میں بچوں سے ملاقات ہوتی تو آپ ﷺ خود سلام میں پہل فرماتے، ان کے سروں پر شفقت کا ہاتھ پھیرتے اور ان سے ہنسی مذاق فرماتے، جس سے بچوں کے دلوں میں دین اور معلمانِ دین کی عزت اور محبت راسخ ہو جاتی تھی۔خواتین کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے آپ ﷺ نے دورِ جاہلیت کی ان تمام تاریک رواجوں کا قلعہ قمع کر دیا جو عورت کو علم اور بنیادی حقوق سے محروم رکھتے تھے۔ جب انصار اور دیگر صحابیات نے عرض کی کہ مرد حضرات آپ ﷺ کی مجلس سے زیادہ استفادہ کرتے ہیں، تو آپ ﷺ نے خصوصیت کے ساتھ ہفتے کا ایک دن عورتوں کی تعلیم کے لیے مقرر فرما دیا۔ اس مجلس میں خواتین بلا جھجک اور بغیر کسی شرم و حیا کی رکاوٹ کے اپنے شرعی، طبی، خاندانی، اور زناشوئی سے متعلق تمام مسائل کے بارے میں سوالات پوچھتی تھیں۔ جب ایک خاتون نے احتلام کے حوالے سے سوال کیا اور دیگر خواتین شرما گئیں، تو آپ ﷺ نے واضح اور صریح جواب دے کر یہ بات سکھائی کہ دین کی سمجھ بوجھ اور علم کے حصول میں شرم کو حائل نہیں ہونا چاہیے۔ آپ ﷺ نے عورت کو معاشرے میں وہ مقام دیا جو اس سے قبل تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ جب ایک عورت نے پوچھا کہ مرد جہاد کر کے بڑا اجر کمانے لے جاتے ہیں اور ہم گھروں میں رہتی ہیں تو ہمارا کیا بنے گا، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ عورت کا اپنے شوہر کی اچھے طریقے سے دیکھ بھال کرنا اور بچوں کی صحیح تربیت کرنا جہاد کے مساوی اجر رکھتا ہے۔ آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو، اور خود کو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین نمونہ بنا کر پیش کیا۔ آپ ﷺ کا قائم کردہ چار نکاتی نصاب کرامتِ انسانی، عفو و درگزر، تدریج، اور موقع و محل کے مطابق حکمتِ عملی آج کی جدید دنیا کے لیے بھی تعلیم و تربیت کا سب سے جامع، متوازن اور کامیاب ترین ماڈل ہے، جس نے تلوار کے بغیر صرف اور صرف حسنِ اخلاق، محبت، مساوات اور تعلیم کے زور پر پوری دنیا کے دلوں کو فتح کیا۔
39











