9

عالمی منظرنامے میں پاکستان کا فیصلہ کن کردار حمید علی

ایک جانب پاکستان نے آئندہ تین برسوں کے لیے مکہ ڈیفنس الائنس کی قیادت سنبھالی ہے، جبکہ دوسری جانب 2026-27 کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم، یعنی ایس سی او، کی صدارت کا اعزاز بھی پاکستان کے پاس ہے۔ یہ محض رسمی عہدے نہیں، بل کہ عالمی سطح پر پاکستان پر بڑھتے ہوئے اعتماد، اس کی سفارتی اہمیت اور بدلتے ہوئے بین الاقوامی منظرنامے میں اس کے ابھرتے ہوئے کردار کی علامت ہیں۔

دنیا کی سیاست تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ طاقت کے پرانے مراکز کے ساتھ نئے سیاسی اور معاشی بلاکس سامنے آ رہے ہیں، علاقائی تنازعات عالمی امن کو متاثر کر رہے ہیں اور سلامتی کے مسائل پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ ایسے وقت میں پاکستان کو اہم بین الاقوامی فورمز پر قیادت کی ذمہ داری ملنا ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کو محض ایک جغرافیائی ریاست کے طور پر نہیں، بل کہ ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو مختلف خطوں اور طاقتوں کے درمیان رابطے اور تعاون میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع ہمیشہ اس کی بڑی طاقت رہا ہے اور جنوبی ایشیا، چین، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان اس کی حیثیت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔

لیکن جدید دور میں صرف جغرافیہ کافی نہیں ہوتا۔ اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب ایک ملک اپنی جغرافیائی اہمیت کو مضبوط سفارت کاری، معاشی روابط اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کرے۔ پاکستان کے سامنے آج یہی سب سے بڑا موقع موجود ہے کہ وہ اپنی اس قدرتی حیثیت کو عملی کامیابی میں تبدیل کرے۔

مکہ ڈیفنس الائنس کی قیادت پاکستان کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ مسلم دنیا ایک طویل عرصے سے سیاسی اختلافات، علاقائی کشیدگیوں اور سلامتی کے مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے ماحول میں مشترکہ دفاعی تعاون، انٹیلی جنس کے تبادلے اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمتِ عملی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

پاکستان اس میدان میں قابلِ قدر تجربہ رکھتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف طویل جدوجہد، داخلی سلامتی کے پیچیدہ حالات اور عالمی امن مشنز میں شرکت نے پاکستان کی عسکری صلاحیتوں کو منفرد تجربہ عطا کیا ہے۔ یہ تجربہ مختلف ممالک کے درمیان تعاون اور مشترکہ سلامتی کی بہتر حکمتِ عملی تشکیل دینے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

اس قیادت کی اصل اہمیت صرف دفاعی طاقت کے اظہار میں نہیں، بل کہ مختلف ممالک کے درمیان اعتماد پیدا کرنے میں بھی ہے۔ پاکستان اگر دانش مندانہ حکمتِ عملی اختیار کرے تو وہ اختلافات کم کرنے اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر مسلم دنیا کے درمیان تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

دوسری جانب شنگھائی تعاون تنظیم کی 2026-27 کی صدارت پاکستان کے لیے سفارتی اور معاشی امکانات کا ایک وسیع میدان فراہم کرتی ہے۔ ایس سی او کے پلیٹ فارم پر خطے کے اہم ممالک سیاسی، معاشی اور سلامتی کے معاملات میں تعاون کرتے ہیں۔ پاکستان اس موقع کو وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت بڑھانے اور علاقائی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کر سکتا ہے۔

وسطی ایشیا پاکستان کے لیے غیر معمولی معاشی اہمیت رکھتا ہے۔ توانائی کے وسیع ذخائر، نئی تجارتی منڈیاں اور علاقائی رابطوں کے امکانات پاکستان کی معیشت کے لیے نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔ پاکستان کی بندرگاہیں اور مواصلاتی راستے وسطی ایشیائی ممالک کے لیے بھی اہم مواقع فراہم کرتے ہیں۔

اگر علاقائی تعاون کو عملی منصوبوں سے جوڑا جائے تو پاکستان ایک اہم تجارتی اور معاشی رابطے کے مرکز کے طور پر اپنی حیثیت مزید مضبوط کر سکتا ہے۔ توانائی، تجارت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں تعاون نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ترقی اور استحکام کے نئے امکانات پیدا کر سکتا ہے۔

لیکن ہر اعزاز کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی آتی ہے۔ عالمی فورمز کی قیادت صرف اجلاسوں کی صدارت، تقاریر یا سفارتی پروٹوکول کا نام نہیں۔ اصل قیادت کا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب اختلافات کو کم کیا جائے، مشترکہ مفادات تلاش کیے جائیں اور ایسے فیصلے کیے جائیں جن کے عملی نتائج سامنے آئیں۔

پاکستان کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ دنیا کو اپنی سفارتی پختگی اور مسائل کے حل کی صلاحیت سے متاثر کرے۔ اس کے لیے داخلی استحکام بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے، کیوں کہ ایک مضبوط خارجہ پالیسی اسی وقت مؤثر ثابت ہوتی ہے جب ملک کے اندر سیاسی اور معاشی سمت واضح اور مستحکم ہو۔

قومی معاملات میں اختلافِ رائے جمہوری عمل کا حصہ ہے، لیکن خارجہ پالیسی، سلامتی اور قومی مفادات کے بنیادی معاملات پر ایک واضح قومی سوچ ضروری ہوتی ہے۔ پاکستان کو عالمی سطح پر اپنا مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے داخلی سطح پر بھی اعتماد، تسلسل اور استحکام پیدا کرنا ہو گا۔

آج پاکستان کے پاس ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کو مزید متوازن اور فعال بنائے۔ چین کے ساتھ مضبوط تعلقات، مسلم دنیا میں اعتماد، وسطی ایشیا سے بڑھتے ہوئے روابط اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ سفارتی توازن پاکستان کے لیے نئے امکانات پیدا کر سکتے ہیں۔

پاکستان کو اپنے عالمی کردار کو محض سفارتی اعزاز تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ ان مواقع کو تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی رابطوں، توانائی، امن اور عوامی ترقی سے جوڑنا ضروری ہے تاکہ ان ذمہ داریوں کے حقیقی فوائد پاکستان کے عوام تک بھی پہنچ سکیں۔

یہ پاکستان کے لیے محض دو عہدوں کا حصول نہیں، بل کہ ایک بڑے امتحان کا آغاز ہے۔ دنیا نے پاکستان کو بولنے کا موقع دیا ہے، اب پاکستان کو ثابت کرنا ہے کہ اس کے پاس سنانے کے لیے صرف مؤقف نہیں، بل کہ مسائل کے حل کے لیے ایک واضح اور مؤثر وژن بھی موجود ہے۔

اگر پاکستان نے اس موقع کو دانش مندی، قومی یک جہتی اور عملی سفارت کاری کے ساتھ استعمال کیا تو عالمی ایوانوں میں اس کی آواز صرف سنی نہیں جائے گی، بل کہ فیصلوں کی سمت متعین کرنے میں بھی شامل ہو گی۔ خاموش تماشائی کا دور گزر چکا، اب پاکستان کے سامنے تاریخ میں اپنا مقام خود لکھنے کا موقع ہےاور قوموں کی تاریخ میں ایسے مواقع بار بار نہیں آتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں