123

قائد اعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے :تحریر: ممتاز ہاشمی

جب بھی پاکستان کی تخلیق سے وابستہ کسی قسم کے واقعہ کی یاد منائی جاتی ہے تو ہمیشہ چند مفاد پرست اور اسلام دشمن عناصر پاکستان کی تخلیق کے مقاصد کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی مذموم کوششیں کرتے ہیں اور موجودہ نسل کی تاریخ سے ناواقفیت کی بناء پر ان میں شکوک و شبہات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
اسی طرح آج قائداعظم کے یوم وفات پر دوبارہ سے چند لبرل عناصر جن کا پاکستان کے قیام کی جدوجہد میں کوئی کردار نہیں تھا قائداعظم اور نظریہ پاکستان کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی ناکام کوشش میں مصروف ہیں اور اس سلسلے میں وہ ہمیشہ قائداعظم کی 11 ستمبر 1947 کو تقریر کے ایک حصے کو بغیر کسی سیاق و سباق اور پس منظر کےپیش کرتے ہیں اس لیے اس کا جائزہ لینے کے لیے ہمیں قیام پاکستان کی تاریخ کے پس منظر پر غور کرنا ہوگا۔
اس اہم مسئلے کو سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ قیام پاکستان کی بنیاد علامہ محمد اقبال کا پیش کردہ تصور ہے جو ” دو قومی نظریہ” کی اساسی بنیادوں پر قائم ہے۔
مفکر قرآن علامہ اقبال نے مسلم لیگ کے 1937 کے اجلاس میں تاریخی خطبہ دیا جس میں پاکستان کے قیام کی وجہ، بنیاد اور دین اسلام کے احیاء سے اس کے تعلق کو مکمل طور پر اجاگر کیا گیا یہ پیغام تاریخ کا رخ بدلنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اخرکار مارچ 1940 میں پاکستان کے قیام کے تصور کو عملی شکل میں قرارداد پاکستان کی صورت میں منظور کیا گیا۔

اس کے بعد قائداعظم نے اس نئی مملکت کے قیام کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا اور ایک تحریک کی صورت میں دین اسلام کے نفاذ کے لئے پاکستان کے قیام کے تصور کو ہر مقام پر نمایاں کیا۔ بلکہ بقول ڈاکٹر اسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ کے یہ کہنا ہے جا نہ ہو گا کہ قائداعظم نے دین اسلام کی قوالی کی۔ قائداعظم کی اس تحریک کا نتیجہ 1946 کے انتخابات میں مسلم لیگ کی مسلمانوں کے اکثریتی صوبوں میں مکمل کامیابی کی صورت میں نظر آیا جس کی وجہ سے برطانوی راج کے پاس مجبوراً پاکستان کے قیام کے مطالبے کو منظور کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا۔
اس دوران قائداعظم کے مختلف مواقع پر کی گئی تقاریر اور فرمودات کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں:
آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے اجلاس منعقدہ 15 نومبر 1942 ء میں قائد اعظم نے اپنے خطاب میں فرمایا :-

” مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہوگا؟ پاکستان کے طرز حکومت کا تعین کرنے والا میں کون ہوتا ہوں۔ مسلمانوں کا طرز حکومت آج سے تیرہ سو سال قبل قرآن کریم نے وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا تھا۔ الحمد للہ ، قرآن مجید ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا ”
6دسمبر 1943 کو کراچی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے 31 ویں اجلاس سے خطاب کے دوران قائد اعظم نے فرمایا:-

” وہ کون سا رشتہ ہے جس سے منسلک ہونے سے تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں ، وہ کون سی چٹان ہے جس پر ان کی ملت کی عمارت استوار ہے ، وہ کون سا لنگر ہے جس پر امت کی کشتی محفوظ کر دی گئی ہے ؟ وہ رشتہ ، وہ چٹان ، وہ لنگر اللہ کی کتاب قرانِ کریم ہے۔ مجھے امید ہے کہ جوں جوں ہم آگے بڑھتے جائیں گے ، قرآنِ مجید کی برکت سے ہم میں زیادہ سے زیادہ اتحاد پیدا ہوتا جائے گا۔ ایک خدا ، ایک کتاب ، ایک رسول ، ایک امت ”
17 ستمبر 1944ء کو گاندھی جی کے نام اپنے ایک خط میں قائداعظم نے تحریر فرمایا:-

” قرآن مسلمانوں کا ضابطہ حیات ہے۔ اس میں مذہبی اور مجلسی ، دیوانی اور فوجداری ، عسکری اور تعزیری ، معاشی اور معاشرتی سب شعبوں کے احکام موجود ہیں۔ یہ مذہبی رسوم سے لے کر جسم کی صحت تک ، جماعت کے حقوق سے لے کر فرد کے حقوق تک ، اخلاق سے لے کر انسدادِ جرائم تک ، زندگی میں سزا و جزا سے لے کر آخرت کی جزا و سزا تک غرض کہ ہر قول و فعل اور ہر حرکت پر مکمل احکام کا مجموعہ ہے۔ لہذا جب میں کہتا ہوں کہ مسلمان ایک قوم ہیں تو حیات اور مابعد حیات کے ہر معیار اور پیمانے کے مطابق کہتا ہوں ”

10 ستمبر 1945 ء کو عید الفطر کے موقع پر قائد اعظم نے فرمایا :-

” ہمارا پروگرام قرآنِ کریم میں موجود ہے۔ تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ قرآن غور سے پڑھیں۔ قرآنی پروگرام کے ہوتے ہوئے مسلم لیگ مسلمانوں کے سامنے کوئی دوسرا پروگرام پیش نہیں کر سکتی”

1947 ء کو انتقالِ اقتدار کے موقع پر جب حکومت برطانیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے لارڈ ماونٹ بیٹن نے اپنی تقریر میں کہا کہ :

” میں امید کرتا ہوں کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ویسا ہی سلوک ہوگا اور ویسے ہی اصول پیش نظر رکھے جائیں گے جن کی مثالیں اکبر اعظم کے دور میں ملتی ہیں ”
تو اس پر قائد اعظم نے برجستہ فرمایا :

” وہ رواداری اور خیر سگالی جو شہنشاہ اکبر نے غیر مسلموں کے حق میں برتی کوئی نئی بات نہیں۔ یہ تو مسلمانوں کی تیرہ صدی قبل کی روایت ہے۔ جب پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہودیوں اور عیسائیوں پر فتح حاصل کرنے کے بعد ان کے ساتھ نہ ّ صرف انصاف بلکہ فیاضی کا برتاو کرتے تھے۔ مسلمانوں کی ساری تاریخ اس قسم کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ ہم پاکستانی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں ہی پاکستان کا نظام چلائیں گے”

2 جنوری 1948 ء کو کراچی میں اخبارات کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے قائد اعظم نے ارشاد فرمایا :-

” اسلامی حکومت کے تصور کا یہ امتیاز پیش نظر رہنا چاہیے کہ اس میں اطاعت اور وفا کا مرکز اللہ تعالی کی ذات ہے جس کی تعمیل کا عملی ذریعہ قرآن کے احکام و اصول ہیں۔ اسلام میں اصلا نہ کسی بادشاہ کی اطاعت ہے نہ پارلیمنٹ کی نہ کسی شخص یا ادارے کی۔ قرآن کریم کے احکام ہی سیاست و معاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کی حدیں مقرر کر سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اسلامی حکومت قرآنی احکام و اصولوں کی حکومت ہے ”

14 فروری 1948 ء کو قائد اعظم نے بلوچستان میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا :-

” میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات کا واحد ذریعہ اس سنہری اصولوں والے ضابطہ ء عمل میں ہے جو ہمارے عظیم واضع قانون پیغمبر اسلام نے ہمارے لیے قائم کر رکھا ہے۔ ہمیں اپنی جمہوریت کی بنیادیں سچے اخلاقی اصولوں اور تصورات پر رکھنی چاہئیں۔ اسلام کا سبق یہ ہے کہ مملکت کے امور و مسائل کے بارے میں فیصلے باہمی بحث و تمحیص اور مشوروں سے کیا کرو۔”

13 اپریل 1948 ء کو اسلامیہ کالج پشاور میں تقریر کرتے ہوئے قائد اعظم نے فرمایا:-

” ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا بلکہ ہم ایسی جائے پناہ چاہتے تھے جہاں ہم اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں”

یکم جولائی 1948 ء کو سٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے قائد اعظم نے فرمایا :-

” میں اشتیاق اور دل چسپی سے معلوم کرتا رہوں گا کہ آپ کی ریسرچ آرگنائزیشن بینکاری کے ایسے طریقے کس خوبی سے وضع کرتی ہے جو معاشرتی اور اقتصادی زندگی کے اسلامی تصورات کے مطابق ہوں۔ مغرب کے معاشی نظام نے انسانیت کے لیے بے شمار مسائل پیدا کر دیے ہیں اکثر لوگوں کی یہ رائے ہے کہ مغرب کو اس تباہی سے کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔ یہ تباہی مغرب کی وجہ سے ہی دنیا کے سر منڈلا رہی ہے۔ مغربی نظام انسانوں کے مابین انصاف اور بین الاقوامی میدان میں آویزش اور چپقلش دور کرنے میں ناکام رہا ہے ”

مغرب کے اقتصادی نظام پر تنقید کرتے ہوئے اسی خطاب میں آپ نے فرمایا:-

” اگر ہم نے مغرب کا معاشی نظریہ اور نظام ہی اپنا لیا تو عوام کی خوشحالی حاصل کرنے کے لیے ہمیں کوئی مدد نہ ملے گی۔ اپنی تقدیر ہمیں اپنے منفرد انداز میں بنانا پڑے گی۔ ہمیں دنیا کے سامنے ایک مثالی معاشی نظام پیش کرنا ہے جو انسانی مساوات اور معاشی انصاف کے سچے اسلامی تصورات پر قائم ہو۔ ایسا نطام پیش کر کے ہم بحیثیت مسلمان اپنا مشن پورا کریں گے۔ انسانیت کو حقیقی امن کا پیغام دیں گے۔ صرف ایسا امن ہی انسانیت کو جنگ سے بچا سکتا ہے۔ صرف ایسا امن ہی بنی نوع انسان کی خوشی اور خوشحالی کا امین و محافظ ہے”

25 جنوری 1948 ء کراچی بار ایسوسی ایشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے فرمایا :-

” آج ہم یہاں دنیا کی عظیم ترین ہستی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نذرانہ ء عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عزت و تکریم کروڑوں عام انسان ہی نہیں کرتے بلکہ دنیا کی تمام عظیم شخصیات آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سر جھکاتی ہیں۔ وہ عظیم مصلح تھے ، عظیم رہنما تھے ، عظیم واضع قانون تھے ، عظیم سیاستدان تھے اور عظیم حکمران تھے ، ہم ان کی تعلیمات پر عمل کرتے رہے تو کسی میدان میں کبھی بھی ناکامی نہ ہوگی”

آخر میں ہم قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کا وہ تاریخی خطاب جو ان کے کردار کی سچائی کی سچی اور کھری شہادت کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے ۔
یہ خطاب آپ نے 30 جولائی 1948 ء کو لاہور میں اسکاوٹ ریلی سے کیا تھا۔ آپ نے فرمایا :-

” میں نے بہت دنیا دیکھ لی۔ اللہ تعالی نے عزت ، دولت ، شہرت بھی بے حساب دی۔ اب میری زندگی کی ایک ہی تمنا ہے کہ مسلمانوں کو باوقار و سر بلند دیکھوں۔ میری خواہش ہے کہ جب مروں تو میرا دل گواہی دے کہ جناح نے اللہ کے دین اسلام سے خیانت اور پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت سے غداری نہیں کی۔ مسلمانوں کی آزادی ، تیظیم ، اتحاد اور مدافعت میں اپنا کردارٹھیک ٹھیک ادا کیا اور میرا اللہ کہے کہ اے میرے بندے! بے شک تو مسلمان پیدا ہوا۔ بے شک تو مسلمان مرا.”
اس سے یہ بات مکمل طور پر عیاں ہو جاتی ہے کہ قائداعظم کس طرح کا پاکستان چاہتے تھے۔

ان ان تمام فرمودات کے تناظر میں قائد اعظم کی ستمبر 1947 کی تقریر کا جائزہ لیں تو یہ تقریر بھی مکمل طور پر دین اسلام کے اساسی قوانین سے مطابقت رکھتی ہے اور اس میں تمام مذہبی اکائیوں کے حقوق کی مکمل ضمانت دی گئی تھی جو کہ ہمارے دین اسلام کے عین مطابق ہے اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں مذہب اور دین میں فرق کو سمجھنا ہوگا کیونکہ اکثر مسلمانوں کو ان میں فرق کا علم نہیں ہے جس کی وجہ اسلام سے دوری اور اس کو سمجھنے کے کی کوشش نہ کرنا ہے اور اسطرح سے سنی سنائی باتوں پر بغیر علم و تصدیق کے یقین کرنا ہے۔

دین کا مطلب مکمل نظام زندگی ہے جس میں سیاسی، معاشی، معاشرتی، تہذیبی قوانین کے مجموعہ ہے اسلئے دین اسلام شریعت کے تمام معاملات، احکامات اور قوانین کے نفاذ کا نام ہے۔ مذہب صرف عقائد، عباداتی طریقوں اور فیملی معاملات و وراثت تک محدود ہیں۔

اسلام نے تمام مذہبی اکائیوں کو ان کے مذہبی عقائد کی ادائیگی میں آزادی دی ہے بلکہ ان کو اس میں تحفظ فراہم کرنے کا اہتمام کیا ہے صرف یہ ہی نہیں جتنی مذہبی آزادی دین اسلام نے تمام مذہبی اکائیوں کو دی ہے آج کی نام نہاد بڑی سے بڑی سیکولر ریاستیں بھی دینے کا تصور نہیں کر سکتی۔ دین اسلام تمام مذہبی اکائیوں کو ان کے عبادات اور پرسنل معاملات یعنی وراثت وغیرہ میں ان کے مذہبی عقائد کے مطابق ادائیگی کی مکمل ضمانت دیتا ہے جس کا تصور آج دنیا کے کسی بھی نام نہاد سیکولر ریاست میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔

اس کے علاوہ تمام مذہبی اکائیوں کو اسلامی ریاست میں جہاد سے استثناء حاصل ہے اور اس کے بدلے میں معمولی جزیہ لاگو ہوتا ہے جو ان کی اپنی حفاظت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے

اسلئے دین اسلام میں آزادی اور حقوق انسانی کی حفاظت کے تصور کو کسی بھی نظام زندگی سے کوئی بھی زی شعور انسان مقابلہ کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

وقت کا تقاضا ہے کہ آج قائداعظم کے یوم وفات پر ہم انفرادی اور اجتماعی سطح پر پاکستان میں دین اسلام کے نفاذ کیلئے اپنے وعدوں کے احیاء کا اعادہ کرنے کی ضرورت ہے۔
اور اپنی صلاحیتوں و وسائل کو اقامت دین جو تخلیق کی اساس ہے اس کے لیے جدوجہد کرنے کا اعادہ کریں
اللہ ہم سب کو دین اسلام کی طرف لوٹنے اور آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں