پاکستان میں نئے صوبوں کا مطالبہ ایک مرتبہ پھر سیاسی بحث کے مرکز میں آ گیا ہے۔ وفاق اور پاکستان پیپلز پارٹی، خصوصاً سندھ کی قیادت، اس معاملے پر بظاہر ایک دوسرے کے سامنے کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔ بیانات میں اختلاف، سیاسی صف بندی اور اپنے اپنے مؤقف پر اصرار نظر آتا ہے، مگر پاکستانی سیاست کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ہر دکھائی دینے والا اختلاف لازماً حقیقی تصادم نہیں ہوتا۔ بعض اوقات سیاسی منظرنامے پر دو فریق ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں، مگر پسِ پردہ مفادات، سیاسی ضرورتیں اور طاقت کے مراکز کی ترجیحات اپنا الگ کردار ادا کر رہی ہوتی ہیں۔
یہ تاثر بھی سیاسی حلقوں میں موجود ہے کہ بڑی سیاسی جماعتیں مقتدر قوتوں کی خواہشات اور ریاستی ضرورتوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے طویل سیاسی سفر طے نہیں کر سکتیں۔ یہ بات پیپلز پارٹی بھی جانتی ہو کہ وہ گزشتہ تین دہائیوں سے اقتدار میں کس طرح ہے، لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ کون کس کے ساتھ ہے، بلکہ یہ ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل پاکستان کے لیے فائدہ مند ہو گی یا نقصان دہ؟
پاکستان کی موجودہ انتظامی ساخت میں آبادی، وسائل اور انتظامی ضروریات کے حوالے سے بڑے صوبوں کے اندر نمایاں عدم توازن موجود ہے۔ بعض علاقوں میں عوام کو یہ شکایت رہتی ہے کہ صوبائی دارالحکومت سے دور ہونے کے باعث ان تک ریاستی سہولتیں مؤثر انداز میں نہیں پہنچ پاتیں۔ اگر نئے صوبے انتظامی بنیادوں پر، واضح آئینی طریقہ کار کے تحت اور مقامی آبادی کی حقیقی رضامندی سے بنائے جائیں تو اس کے نتیجے میں حکمرانی عوام کے قریب آ سکتی ہے۔ صحت، تعلیم، پولیس، بلدیاتی نظام اور ترقیاتی منصوبوں پر زیادہ مؤثر توجہ ممکن ہو سکتی ہے۔
نئے صوبوں کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وسائل کی تقسیم زیادہ منظم اور شفاف بنائی جا سکے۔ ایک وسیع و عریض صوبے میں ترقیاتی بجٹ کے استعمال اور دور دراز علاقوں تک اس کے ثمرات پہنچانے میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ چھوٹے انتظامی یونٹس میں حکومت کے لیے اپنے علاقوں کی ضروریات کا درست تعین نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ اگر انتظامی اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں تو محرومی کا احساس کم اور ریاست سے وابستگی زیادہ مضبوط ہو سکتی ہے۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال بھی موجود ہے: کیا صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے سے مسائل حل ہو جائیں گے؟ جواب نفی میں ہے۔ اگر نئے صوبے صرف سیاسی مفادات، اقتدار کی نئی تقسیم یا انتخابی انجینئرنگ کے لیے بنائے گئے تو یہ اصلاح کے بجائے ایک نئے بحران کو جنم دے سکتے ہیں۔ نئے صوبے بنانے کے لیے نئے دارالحکومت، اسمبلیاں، سیکریٹریٹ، محکمے، سرکاری ڈھانچے اور انتظامی اخراجات درکار ہوں گے۔ ایک کمزور معیشت رکھنے والے ملک کے لیے یہ اضافی مالی بوجھ معمولی نہیں ہو گا۔
سندھ کے معاملے میں حساسیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ سندھ صرف ایک انتظامی اکائی نہیں، بل کہ ایک تاریخی، ثقافتی اور لسانی شناخت بھی رکھتا ہے۔ یہاں صوبوں یا انتظامی تقسیم کی بحث محض نقشے پر ایک لکیر کھینچنے کا معاملہ نہیں رہتی۔ اگر اس عمل میں کسی مخصوص لسانی یا سیاسی گروہ کو یہ احساس پیدا ہو کہ اس کی شناخت یا مفادات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو صورتحال پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ اس لیے سندھ سمیت کسی بھی صوبے کی تقسیم کا فیصلہ جذبات، نعروں یا سیاسی دباؤ کے بجائے وسیع تر قومی اتفاقِ رائے سے ہونا چاہیے۔
پاکستان کے لیے سب سے بڑا نقصان اس وقت ہو گا جب نئے صوبوں کا مطالبہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مستقل کشمکش کا ذریعہ بن جائے۔ اگر ایک انتظامی اصلاح کو صوبائی خود مختاری کے خلاف تصور کیا جانے لگے یا اسے کسی مخصوص قوم، زبان یا سیاسی جماعت کے خلاف منصوبہ سمجھا جائے تو معاشرتی فاصلے بڑھ سکتے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی سیاسی تقسیم، معاشی مشکلات اور ادارہ جاتی کشمکش کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں کوئی بھی فیصلہ جو قومی وحدت کو کمزور کرے، اس کے نتائج دور رس ہو سکتے ہیں۔
دوسری طرف اگر نئے صوبوں کی تشکیل ایک جامع قومی منصوبے کا حصہ ہو تو یہ پاکستان کے انتظامی مستقبل کو بہتر بنا سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے واضح معیار طے کیے جائیں۔ آبادی، جغرافیہ، انتظامی ضرورت، معاشی استعداد، عوامی رضامندی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو بنیادی اصول بنایا جائے۔ کسی صوبے کی تشکیل صرف اس بنیاد پر نہ ہو کہ وہاں کوئی سیاسی جماعت انتخابی فائدہ حاصل کر سکتی ہے۔
یہاں پارلیمان کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ آئین میں صوبائی حدود کی تبدیلی کے لیے ایک واضح طریقہ کار موجود ہے۔ اس عمل کو پارلیمانی بحث، متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کی رضامندی اور عوامی مشاورت کے ذریعے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ اگر فیصلے بند کمروں میں ہوں اور عوام کو صرف نتیجہ بتایا جائے تو اس سے اعتماد کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ ریاستی فیصلوں کی پائیداری کا انحصار صرف طاقت پر نہیں، بل کہ عوامی قبولیت پر بھی ہوتا ہے۔
اس سارے سیاسی منظرنامے میں اصل امتحان پیپلز پارٹی، وفاق یا کسی دوسری سیاسی جماعت کا نہیں، بل کہ پاکستان کی ریاستی سوچ کا ہے۔ اگر اختلاف حقیقی ہے تو اسے آئینی اور سیاسی مکالمے کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، اور اگر اختلاف محض سیاسی بیانیے کی حد تک ہے تو عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اصل پالیسی کیا ہے۔ جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کا کام صرف ایک دوسرے کے خلاف بیانات دینا نہیں، بل کہ عوام کے سامنے واضح منصوبہ رکھنا بھی ہے۔
پاکستان کو ایسے صوبوں کی ضرورت ہے جو عوام کے لیے آسانی پیدا کریں، نہ کہ ایسے نئے مراکز جو اقتدار کی کشمکش بڑھا دیں۔ نئے صوبے اگر انتظامی کارکردگی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوامی سہولت کا ذریعہ بنتے ہیں تو یہ ملک کے لیے مثبت قدم ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر ان کا مقصد سیاسی طاقت کی نئی تقسیم، مخالفین کو کمزور کرنا یا کسی مخصوص علاقے میں سیاسی اثر و رسوخ بڑھانا ہو تو یہ فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بنیں گے۔
پاکستان کو نقشے کی نئی لکیروں سے زیادہ حکمرانی کے نئے معیار کی ضرورت ہے۔ صوبے کم ہوں یا زیادہ، اصل کامیابی اس وقت ہو گی جب عام شہری کو تعلیم، صحت، روزگار، انصاف اور تحفظ اپنے دروازے کے قریب ملے۔ اگر نئے صوبے یہ سہولتیں فراہم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو ان کی تشکیل قومی مفاد میں ہو گی، لیکن اگر صرف نام، حدود اور سیاسی اختیار بدلتا ہے اور عوام کی زندگی وہیں کی وہیں رہتی ہے تو پھر یہ تبدیلی محض سیاسی منظرنامے کا ایک نیا پردہ ہو گی۔











