کسی بھی ریاست کی عظمت کا اندازہ اس کی بلند و بالا عمارتوں، وسیع شاہراہوں،جدید منصوبوں ، حکمرانوں کی طویل تقریروں ، دفاعی معاہدوں یا ثالثی کی کوششوں سے نہیں لگایا جا سکتا بل کہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہاں ایک انسانی جان کو کتنی قدر و قیمت حاصل ہے۔ مہذب معاشروں میں انسان کی زندگی سب سے قیمتی امانت سمجھی جاتی ہے۔ ایک شہری کی موت محض ایک عدد یا خبر نہیں ہوتی بل کہ اس کے پیچھے ایک خاندان، کئی خواب، رشتے اور امیدیں دم توڑتی ہیں۔ ریاست کا سب سے بنیادی فرض یہی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی جان، عزت اور بنیادی حقوق کی حفاظت کرے۔ جب کسی سرکاری ادارے میں ایسی غفلت سامنے آئے جس کے نتیجے میں انسانی جانیں ضائع ہوں تو معاملہ صرف ایک حادثے تک محدود نہیں رہتا بل کہ پورے نظام کی کارکردگی، نگرانی اور ذمہ داری پر سوال اٹھتا ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری طبی اداروں میں شمار ہونے والے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، یعنی پمز، کی نرسری میں پیش آنے والا المناک واقعہ اسی سوال کو ہمارے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔ پندرہ نومولود بچے، جو زندہ تھے اور طبی نگہداشت کے لیے نرسری میں موجود تھے، آگ کی زد میں آ کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ ایسے بچے تھے جو اپنی حفاظت کے لیے خود کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ انھیں خطرے کا اندازہ نہیں تھا، وہ مدد کے لیے دوڑ نہیں سکتے تھے اور نہ ہی کسی ہنگامی صورت حال سے خود نکل سکتے تھے۔ ان کی زندگی مکمل طور پر ان لوگوں کے سپرد تھی جن پر ان کی حفاظت کی ذمہ داری عائد ہوتی تھی۔ اسی لیے یہ واقعہ صرف ایک حادثہ نہیں بل کہ ریاستی ذمہ داری کے ایک انتہائی اہم پہلو کا امتحان ہے۔
ذرا ان خاندانوں کا تصور کیجیے جنھوں نے اپنے نومولود بچوں کو علاج کی امید کے ساتھ اسپتال کے حوالے کیا ہوگا۔ کسی ماں نے اپنے بچے کو نرسری میں چھوڑتے وقت اس کے صحت یاب ہونے کی دعا کی ہوگی، کسی باپ نے اسپتال کی راہداری میں کھڑے ہو کر مستقبل کے خواب دیکھے ہوں گے۔ کسی نے بچے کا نام سوچ رکھا ہوگا، کسی نے اس کے پہلے قدم کا تصور کیا ہوگا اور کسی نے آنے والے دنوں میں اسے اپنی بانہوں میں لینے کی امید باندھی ہوگی۔ والدین کے لیے اسپتال صرف علاج گاہ نہیں ہوتا، وہ امید کی جگہ ہوتا ہے۔ جب یہی جگہ ان کے بچے کی حفاظت نہ کر سکے تو صدمہ صرف بچے کی موت کا نہیں رہتا بل کہ ریاستی نظام پر قائم اعتماد بھی شدید زخمی ہوتا ہے۔
نومولود بچوں کی نرسری عام وارڈ سے کہیں زیادہ حساس جگہ ہوتی ہے۔ یہاں ایسے بچے موجود ہوتے ہیں جو انتہائی کم زور ہوتے ہیں اور جنھیں مسلسل نگرانی، طبی آلات اور خصوصی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ آگ یا دھویں جیسی ہنگامی صورت حال میں ان بچوں کو خود محفوظ مقام تک منتقل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے نرسری میں فائر الارم، آگ بجھانے کے آلات، ہنگامی راستے، بجلی کا محفوظ نظام، تربیت یافتہ عملہ اور فوری انخلا کا منصوبہ بنیادی ضرورت ہیں، کوئی اضافی سہولت نہیں۔ اگر ان میں سے کسی ایک حصے میں بھی سنگین کم زوری موجود ہو تو خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے اس واقعے کے بعد ہر حفاظتی پہلو کا غیر جانب دارانہ جائزہ ناگزیر ہے۔
اصل سوال صرف یہ نہیں کہ آگ کہاں سے لگی، اصل سوال یہ ہے کہ آگ لگنے کے بعد پندرہ نومولود بچوں کو کیوں نہ بچایا جا سکا؟ کیا فائر الارم نے بروقت کام کیا؟ کیا آگ بجھانے کے آلات فعال تھے؟ کیا عملے کو ایسی صورت حال سے نمٹنے کی عملی تربیت حاصل تھی؟ کیا بچوں کو محفوظ مقام تک منتقل کرنے کا واضح منصوبہ موجود تھا؟ کیا ہنگامی راستے کھلے تھے؟ کیا انتظامیہ نے پہلے کبھی حفاظتی خامیوں کی نشاندہی کی تھی؟ اور اگر کوئی خامی موجود تھی تو اسے دور کیوں نہیں کیا گیا؟ ان سوالات کے جواب کسی ایک ملازم کو موردِ الزام ٹھہرانے سے نہیں ملیں گے۔ اس کے لیے مکمل، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی ضرورت ہے تا کہ حقیقت سامنے آ سکے اور ذمہ داری کا درست تعین ہو۔
یورپ کے کئی ممالک میں اسپتالوں کا حفاظتی نظام ہمارے لیے ایک قابلِ غور مثال پیش کرتا ہے۔ وہاں بھی حادثات ہوتے ہیں، انسانی غلطیاں بھی ہو سکتی ہیں اور آگ لگنے جیسے واقعات بھی مکمل طور پر ناممکن نہیں مگر فرق یہ ہے کہ مریضوں کی حفاظت کو ایک منظم ادارہ جاتی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔ فائر سیفٹی کی باقاعدہ جانچ، ہنگامی انخلا کی مشقیں، حفاظتی آلات کی آزمائش اور عملے کی تربیت معمول کا حصہ ہوتی ہے۔ اگر کسی اسپتال میں حفاظتی ناکامی کے نتیجے میں انسانی جانیں ضائع ہوں تو صرف تعزیتی بیان جاری کر کے معاملہ ختم نہیں کیا جاتا بل کہ تحقیقات، جواب دہی اور نظام میں اصلاح پر توجہ دی جاتی ہے۔ وہاں کسی حادثے کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے آئندہ حادثے کو روکنے کے لیے کیا سیکھا گیا۔
ہمیں یورپ کی ہر چیز کی نقل کرنے کی ضرورت نہیں مگر انسانی جان کے تحفظ اور ادارہ جاتی جواب دہی کے اصول ضرور سیکھنے چاہئیں۔ ایک مضبوط نظام وہ نہیں جس میں حادثات کبھی نہ ہوں، مضبوط نظام وہ ہے جو حادثے کے امکانات کو کم کرے اور حادثہ پیش آنے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ جانیں بچانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ہمارے ہاں اکثر سانحے کے بعد بیان، افسوس اور تحقیقات کا اعلان سامنے آتا ہے مگر کچھ عرصے بعد معاملہ خاموشی میں دفن ہو جاتا ہے۔ یہی رویہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ تحقیق کا مقصد فائل بند کرنا نہیں بل کہ خامی تلاش کر کے اسے ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہونا چاہیے۔ ہر بڑے حادثے کے بعد اصلاحات کی واضح فہرست اور ان پر عمل درآمد بھی عوام کے سامنے آنا چاہیے۔
یہ بھی سوال ہے کہ کیا غریب شہری کی جان کی قیمت واقعی ہمارے نظام میں برابر ہے؟ جو خاندان مہنگے نجی اسپتالوں کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے، ان کے لیے سرکاری اسپتال ریاست پر اعتماد کی سب سے بڑی علامت ہوتے ہیں۔ پمز جیسے ادارے میں آنے والا شہری کسی احسان کا طلب گار نہیں ہوتا، وہ اپنے بنیادی حق کے تحت علاج کے لیے آتا ہے۔ اس کا بچہ کسی امیر خاندان کے بچے سے کم قیمتی نہیں۔ ریاستی ادارے میں داخل ہونے کے بعد ہر مریض کو یکساں تحفظ، عزت اور بنیادی سہولیات ملنا اس کا حق ہے۔ اگر وسائل کی کمی ایک مسئلہ ہے تو اس کا حل انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنا نہیں بل کہ ریاستی ترجیحات کا ازسرِنو تعین کرنا ہے۔
کسی انسانی جان کا معاوضہ کبھی ممکن نہیں۔ حکومت مالی امداد دے سکتی ہے، متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کر سکتی ہے اور سرکاری بیانات جاری کر سکتی ہے مگر ایک ماں کی خالی گود واپس نہیں بھر سکتی۔ ایک باپ اپنے بچے کو دوبارہ بانہوں میں نہیں اٹھا سکتا اور وہ مستقبل واپس نہیں آ سکتا جو اس نومولود کے ساتھ وابستہ تھا۔ اسی لیے انصاف صرف مالی امداد کا نام نہیں۔ اصل انصاف یہ ہے کہ واقعے کی مکمل حقیقت سامنے آئے، ذمہ داروں کا تعین ہو، قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو یہ یقین دلایا جائے کہ ان کے بچوں کی موت کو محض ایک خبر سمجھ کر فراموش نہیں کیا جائے گا۔
اس سانحے سے ایک اور اہم سبق بھی ملتا ہے کہ اسپتال صرف علاج فراہم کرنے والی عمارت نہیں بل کہ ایک مکمل حفاظتی نظام کا نام ہے۔ ڈاکٹر اور نرسیں اپنی جگہ انتہائی اہم ہیں مگر ان کے ساتھ انتظامیہ، فائر سیفٹی، سیکیورٹی، بجلی، آکسیجن، ہنگامی خدمات اور دیگر شعبوں کا مؤثر ہونا بھی ضروری ہے۔ ایک کم زور کڑی پورے نظام کو ناکام بنا سکتی ہے۔ اس لیے ملک کے تمام بڑے سرکاری اسپتالوں، خصوصاً نرسریوں، آئی سی یوز اور دیگر حساس شعبوں کا جامع حفاظتی آڈٹ ہونا چاہیے۔ عملے کی عملی تربیت، فائر ڈرلز اور ہنگامی انخلا کے منصوبے باقاعدگی سے آزمائے جانے چاہئیں تا کہ کاغذ پر موجود حفاظتی منصوبہ حقیقت میں بھی انسانی جان بچانے کے قابل ہو۔
حکمرانوں کو سمجھنا ہوگا کہ اقتدار صرف اختیار، مراعات اور پروٹوکول کا نام نہیں بل کہ ایک بھاری امانت ہے۔ جو لوگ عوام کے پیسوں سے چلنے والے اداروں کی نگرانی کرتے ہیں، وہ دراصل عوام کی زندگیوں کے بھی امین ہیں۔ اگر کسی ادارے میں حفاظتی انتظامات ناکافی ہوں، شکایات نظر انداز کی جائیں یا نگرانی میں کوتاہی ہو تو ذمہ داری صرف نچلے درجے کے ملازم تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ اختیار جہاں ہوتا ہے، جواب دہی بھی وہیں ہونی چاہیے۔ یہی وہ اصول ہے جو اداروں کو مضبوط بناتا ہے اور عوام کے اعتماد کو بحال کرتا ہے۔ ورنہ ہر سانحے کے بعد ایک نیا ذمہ دار تلاش کرنا مسئلے کا حل نہیں، صرف اسے آگے منتقل کرنا ہوگا۔
ہمیں سانحات کو بھولنے کی عادت ختم کرنا ہوگی۔ قومیں حادثات سے نہیں بل کہ حادثات سے سبق نہ سیکھنے سے کم زور ہوتی ہیں۔ اگر پندرہ نومولود بچوں کی موت بھی ہمارے اسپتالوں کے حفاظتی نظام کو تبدیل نہیں کرتی، اگر یہ واقعہ انتظامی نگرانی کے معیار پر نظرثانی نہیں کرواتا اور اگر ذمہ داری کا واضح نظام قائم نہیں ہوتا تو پھر اگلا سانحہ صرف وقت کا منتظر ہوگا۔ آج یہ بچے پمز کی نرسری میں تھے، کل کسی اور اسپتال میں کوئی اور خاندان اسی خوف کا سامنا کر سکتا ہے۔ ریاست کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ آج ہی ایسے اقدامات کرے جن سے کل کسی ماں کو اپنے بچے کی لاش کا انتظار نہ کرنا پڑے۔
معزز حکمرانو! عوام تمہارے اعداد و شمار نہیں، انسان ہیں۔ ان کے گھروں میں امیدیں ہیں، ان کے دلوں میں خواب ہیں اور ان کی زندگیوں سے پورے خاندانوں کا مستقبل جڑا ہوا ہے۔ ایک نومولود شاید دنیا کو دیکھنے، بولنے یا چلنے کی عمر تک نہ پہنچا ہو مگر اس کی پیدائش نے اپنے والدین کی دنیا ضرور بدل دی ہوتی ہے۔ اس لیے ایک بچے کی موت کو معمول کی سرکاری خبر سمجھ لینا ہمارے اجتماعی احساس کی شکست ہے۔ ریاست کی اصل طاقت یہ نہیں کہ وہ کتنے منصوبے مکمل کرتی ہے بل کہ یہ ہے کہ وہ اپنے سب سے کم زور شہری کی حفاظت کتنی ذمہ داری سے کرتی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ تعزیتی بیانات سے آگے بڑھ کر عملی جواب دہی قائم کی جائے۔ پمز کے واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور اس کے نتائج عوام کے سامنے لائے جانے چاہئیں۔ صرف یہ معلوم کرنا کافی نہیں کہ آگ کیسے لگی؛ یہ بھی طے ہونا چاہیے کہ حفاظتی نظام کہاں ناکام ہوا، ذمہ داری کس کی تھی اور کون سی اصلاحات فوری طور پر نافذ کی جائیں گی۔ تمام سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس اور مریضوں کے تحفظ کے معیار کو لازمی بنایا جائے کیوں کہ کسی بھی ریاست کی ترقی کا سب سے معتبر پیمانہ یہ ہے کہ اس کے شہری خود کو کتنا محفوظ سمجھتے ہیں۔ اگر ایک نومولود بھی ریاستی نظام کی کم زوری سے محفوظ نہیں تو ترقی کے تمام دعوے ادھورے ہیں۔
ایک انسانی جان صرف ایک جان نہیں ہوتی، وہ ایک پورا جہاں ہوتی ہے۔ ایک نومولود کی سانس کے ساتھ ایک ماں کی امید، ایک باپ کا خواب اور ایک خاندان کا مستقبل وابستہ ہوتا ہے۔ اس لیے ریاست کا فرض صرف زندگی کے دوران علاج فراہم کرنا نہیں بل کہ ہر ممکن مرحلے پر انسانی جان کی حفاظت کرنا بھی ہے۔ یورپ کے کئی ممالک نے حادثات کو نظام کی اصلاح کا ذریعہ بنا کر دکھایا ہے، ہمیں بھی یہی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ چوں کہ ایک مضبوط ریاست وہ نہیں جو سانحے کے بعد صرف افسوس کرے بل کہ وہ ہے جو سانحے سے سبق لے کر آئندہ جانیں بچائے۔ آخرکار سوال یہی ہے: کیا ہمارے لیے عمارتیں، منصوبے اور اعداد و شمار زیادہ اہم ہیں، یا وہ انسان جن کے لیے یہ سب کچھ ہونا چاہیے؟ جس دن ہمارا جواب واضح ہو گیا، اسی دن شاید ایک انسانی جان کی حقیقی قیمت بھی واضح ہو جائے گی۔











