گزشتہ دنوں پیز ہسپتال اسلام آباد کے بچوں کے وارڈ میں آتشزدگی کا ہولناک واقعہ رُونما ہوا جس میں 14 نومولود معوم بچوں کی شہادت ہوئی۔ اس واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور پوری قوم ان کے والدین کے دکھ میں شریک ہے۔
یہ وقت اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم ان واقعات کے پس منظر کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی پالیسیوں کو ازسر نو ترتیب دیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی مناسبت روک تھام ہو سکے۔
یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ پاکستان میں آتشزدگی کے واقعات میں گزشتہ چند برسوں میں انتہائی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ آج سے 20 سال قبل اس قسم کے واقعات اکا دکا ہی ہوتے تھے۔ اگر ہم ان واقعات میں اضافہ کا سبب جاننے کی کوشش کریں تو یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ گزشتہ 20 برسوں کے درمیان ساہنس و ٹیکنالوجی نے انتہائی تیزی سے ترقی کی ہے اور ہر جگہ پر نئی نئی مشینری کی تنصیبات کا عمل زوع و شور سے جاری ہے۔ اس ترقی نے جہاں انسان کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا ہے وہی پر ان سے مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں۔ جس میں سب سے اہم حصہ ان جدید مشینری میں بجلی کے استعمال کا ہے۔ ان تمام جدید مشینری کی تنصیبات اور اس کیے استمال کی احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنا لازم ہے۔ ہر مشینری کے استمال پروٹوکول بھی واضح طور پر لکھے گئے۔
مگر بدقسمتی سے پاکستان میں ان احتیاطی ضوابط پر عملدرآمد نہیں
ہو رہا ہے جس کی بنیادی وجہ ان سے وابستہ افراد و اداروں میں ٹریننگ کا فقدان ہے۔ ان جدید مشینری کے استمال کی وجہ سے بجلی کی سپلائی لاہن اور اس کی مینٹنس کے ساتھ ساتھ اس کی مانیٹرنگ کرنا انتہائی لازم اور سیکورٹی پروٹوکول کا اہم جز ہے۔
اس قسم کی آتشزدگی کا سب سے زیادہ وجہ بجلی کے شارٹ سرکٹ
ہوتے ہیں جو یکدم بڑی تباہی کا باعث جاتی ہیں۔
نوے کی دہائی میں جب کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز کا ازسر نو جائزہ لینے اور اس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا عمل شروع ہوا تو میں اس عمل میں شروع سے آخر تک مختلف کمیٹیوں میں بطور کوراڈینٹر شامل رہا۔ اس وقت کمیٹی کے چیئرمین مشہور انجینئر سلیم تھاریانی ( مرحوم ) نے حفاظتی قوانین اور خاص کر آگ سے بچاؤ کے قوانین میں ترامیم کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور ہم نے نہ صرف مختلف پروفیشنل سے اس سلسلے میں راہنمائی حاصل کی بلکہ دیگر ممالک کے قوانین کا جائزہ لیتے ہوئے ان حفاظتی قوانین کو ترتیب دیا تھا۔ اس سلسلے میں جناب تھاریانی صاحب نے ایک دن اسوقت کے فائر چیف کو اپنے گھر کھانے پر مدعو کیا تھا جس میں میں اور میرا ساتھی سید حیدر جاوید ( مرحوم ) بھی تھے ہم نے ان سے اپنے آگ سے بچاؤ کے حفاظتی قوانین پر طویل مشاورت کی اور اسطرح سے ایک جامع دستاویز تیار کرنے میں کامیاب ہوئے جس میں رہائشی، تجارتی، کمرشل و صنعتی پراجیکٹس کے لیے قوانین شامل ہیں اور وہ بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز کا اہم حصہ ہیں۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کسی بھی ادارے نے ان حفاظتی قوانین کو یقینی بنانے کیلئے کوئی کردار ادا نہیں کیا اور اسطرح سے آے دن اس قسم کے واقعات شدید جانی و مالی نقصانات کا موجب بنتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ان فائر ریگولیشنز کے اطلاق کی ضمانت کے لیے ایک مربوط لائحہ عمل ترتیب دیا جائے اور کم از کم ضلعی سطح پر مانیٹرنگ کمیٹیاں قائم کی جائیں جو فائر سیفٹی آیڈٹ کے فراہض انجام دے سکیں اس کے علاوہ رہائشی، کمرشل، تجارتی، انڈسٹریل، ہیلتھ یونٹس اور دیگر عوامی استمال کی عمارات میں فائر سٹاف کی تعیناتی یقینی بنانے کیلئے قانون سازی کی جائے۔
میں آتشزدگی کی کیا وجوہات ہیں اور کیا اسباب بنے، ان کا تو تحقیقات کے بعد پتہ چلے گا یا نہیں اس بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا مگر ایک بات یقینی ہے کہ حفاظتی قوانین پر عملدرآمد نہ ہونا ہی اس قسم کے حادثات کو جنم دیتا ہے۔
جیسا کہ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ اس قسم کے واقعات کے بعد حسب معمول مختلف جماعتیں تنظیمیں و افراد حکومت اور اداروں کو اس کا مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیتی ہیں جو صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ تک محدود ہوتا ہے اور اس کے بعد اس پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔
ہمیں اپنے یہ رویے بدلنا ہوں گے اور سب سے پہلے اللہ سبحانہ و تعالٰی سے صدق دل سے استغفار و معافی مانگنی چاہیے اور اس بات کا عہد کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنا فریضہ پوری دیانتداری سے ادا کرئے گا تاکہ اللہ سبحانہ و تعالٰی کی رحمت و برکات کی امید رہے۔ اللہ ہم کو اس واقعہ سے سبق حاصل کرنے اور تمام حفاظتی قوانین و تدابیر پر مکمل طور پر دیانتداری سے عمل پیرا ہونے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین
10











