3

انسانی زندگیوں سے کھیلتا ڈیجیٹل ڈکیتی کا کاروبار ​: رفیع صحرائی

​بیماری محض ایک جسمانی عارضہ نہیں ہوتی یہ اپنے ساتھ اور بہت سے مسائل بھی لے کر آتی ہے۔ یہ انسان کے اعصاب کو توڑتی ہے اور اسے امید کا محتاج بنا دیتی ہے۔ جب ایک نڈھال مریض برسوں کی تکلیف، اسپتالوں کے چکروں اور مہنگے علاج سے تھک ہار جاتا ہے، تو اس کی نفسیات کسی ایسے سہارے کی تلاش میں ہوتی ہے جو اسے شفا کی حتمی نوید سنا دے۔ اسے خبر دے کہ اس کی مشکل کے دن کٹنے والے ہیں۔ یہی وہ نازک موڑ ہے جہاں انسانی مجبوریاں اور دکھی دلوں کی حسرتیں بدقماش عناصر کے لیے سب سے بڑا تجارتی سرمایہ بن جاتی ہیں۔ بدقسمتی سے آج کے دورِ جدید میں سوشل میڈیا کا بے لگام گھوڑا ایسے ہی جعل سازوں، نام نہاد حکیموں اور جعلی مسیحاؤں کا سب سے بڑا مرکز اور شکار گاہ بن چکا ہے۔
​فیس بک، یوٹیوب، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام کو اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ پلیٹ فارمز اب سائبر کلینکس میں تبدیل ہو چکے ہیں جہاں کوئی خود ساختہ حکیم ہاتھ میں پراسرار جڑی بوٹیوں کی پُڑیا تھامے، گلے میں سپیکٹرم لٹکائے یا کسی صدیوں پرانے خاندانی نسخے کے امین کا روپ دھارے مسندِ طب پر براجمان نظر آتا ہے۔ ان ڈیجیٹل حکیموں کے دعوے اتنے خوفناک اور سنسنی خیز ہوتے ہیں کہ جدید سائنس اور میڈیکل ریسرچ بھی ششدر رہ جائے۔ “شوگر کا چند دنوں میں مکمل خاتمہ”، “کینسر کا بغیر آپریشن علاج”، “گردوں اور جگر کی سو فیصد صفائی” اور “ناقابل علاج امراض کا حتمی روحانی و ہربل حل” جیسے پرکشش نعروں سے سادہ لوح عوام کو بڑی صفائی سے سوشل میڈیا پر بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔
​اس مکروہ کاروبار کا سب سے خطرناک اور دلکش ہتھیار “ویڈیو شہادتیں” (Testimonial Videos) ہیں۔ ویڈیو میں کسی شخص کو دکھایا جاتا ہے جو نہایت جذباتی انداز میں بتاتا ہے کہ “میں دس سال سے بسترِ مرگ پر تھا، تمام ماہر ڈاکٹرز جواب دے چکے تھے، مگر حکیم صاحب کی معجزاتی دوا نے مجھے دو ہفتوں میں نائٹ واک کے قابل بنا دیا”۔ اسی طرح کوئی خاتون یا بزرگ اپنے معجزاتی طور پر صحت یاب ہونے کے قصے سناتے ہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ان پرفریب ویڈیوز کی تصدیق کرنے والا کوئی نہیں۔ ان مریضوں کی کوئی تصدیق شدہ میڈیکل رپورٹ ہوتی ہے اور نہ ہی علاج سے قبل اور بعد کے سائنسی لیبارٹری ٹیسٹ سامنے لایا جاتا ہے۔ یہ زیادہ تر معاوضے پر تیار کیے گئے اداکاروں کی ڈرامائی تشہیر ہوتی ہے، جو سستا معاوضہ لے کر بدلے میں ہزاروں معصوم لوگوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے کا سبب بنتے ہیں۔
​تھوڑی دیر کے لیے غور کیجیے کہ یہ جعلی حکیم کون ہیں؟ نہ ان کے پاس پاس کوئی رجسٹرڈ طبی تعلیم ہے، نہ نیشنل کونسل فار طب (NCT) کی اسناد اور نہ ہی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) سے منظور شدہ کوئی فارمولا یا دوا ہوتی ہے مگر ایک خوبصورت کلینک کا سیٹ، چمکدار سفید کوٹ، پیسے دے کر خریدی گئی فیک لائکس اور فالوورز ان کو راتوں رات “بقراطِ عصر” بنا دیتے ہیں۔ یہ بدقماش عناصر سنے سنائے نسخوں، بازار سے ملنے والے کیمیکلز، اور بعض اوقات تو انتہائی طاقتور اینٹی بائیوٹکس یا سٹیرائڈز (Steroids) کا پِیسا ہوا سفوف دیسی ادویات میں ملا کر غریب مریضوں کو تھما دیتے ہیں۔ مریض کو وقتی طور پر تو افاقہ محسوس ہوتا ہے مگر بعد میں اس کے گردے اور جگر ہمیشہ کے لیے بے کار ہو جاتے ہیں۔
​اس نام نہاد دیسی علاج کی مالی لوٹ مار بھی حیران کن ہے۔ بازار سے چند سو روپے میں ملنے والے جڑی بوٹیوں کے ملغوبے کو “طلسماتی کورس” کا نام دے کر بیس سے تیس ہزار روپے میں بیچا جاتا ہے۔ مریض چونکہ بیماری سے نبرد آزما ہوتا ہے، اس لیے وہ سوچتا ہے کہ “دوا جتنی مہنگی ہوگی، اتنی ہی اثر انگیز ہوگی”۔ حالانکہ “قدرتی” یا “ہربل” کا لیبل لگ جانے سے کوئی دوا بالکُل محفوظ نہیں ہو جاتی۔ بعض دیسی جڑی بوٹیاں بھی بے احتیاطی سے استعمال کے سبب خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ سب سے زیادہ تباہ کن صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دل، بلڈ پریشر یا شوگر کا کوئی مریض ان جعلی حکیموں کے دلاسے میں آ کر اپنی انسولین یا مستند ڈاکٹر کی جاری کردہ ادویات یکلخت چھوڑ دیتا ہے۔ نتائج کے طور پر مریض اچانک آرگن فیلیر (Organ Failure) یا ہارٹ اٹیک کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
​یہاں یہ نقطہ ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ علمِ طب یا حکمت ایک باقاعدہ اور قدامت پسندانہ سائنس ہے۔ ہمارے ملک میں قابلِ احترام، باصلاحیت اور تعلیمی اسناد کے حامل طبیب موجود ہیں جو پیشہ ورانہ اخلاقیات کی پاسداری کرتے ہیں۔ اصل فتنہ وہ جعلی ڈیجیٹل عطائی ہیں جو کسی اجازت نامے اور قانونی گرفت کے خوف کے بغیر انسانی زندگیوں کا سودا کر رہے ہیں۔
​قانون کی بات کی جائے تو پاکستان میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کے پاس متبادل ادویات کے لیے 2014 کے ان لسٹمنٹ رولز (Enlistment Rules) موجود ہیں۔ اسی طرح نومبر 2025 میں نافذ ہونے والے ‘تھراپیوٹک گڈز ایڈورٹائزمنٹ رولز’ (Therapeutic Goods Advertisement Rules) کے تحت کسی بھی دوا یا ہیلتھ پراڈکٹ کی عوام میں براہِ راست غیر منظور شدہ تشہیر سخت جرم ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب قوانین موجود ہیں تو پھر ٹک ٹاک اور فیس بک پر جادوئی ادویات کے اشتہارات کی بھر مار کیوں ہے؟ ان کے خلاف عملی کارروائی کی رفتار اتنی سست کیوں ہے؟
​ان جعلی حکیموں سے عوام کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ وزارتِ صحت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کو مشترکہ طور پر ایک بااختیار سائبر مانیٹرنگ سیل قائم کرنا چاہیے، جو سوشل میڈیا پر طبی ادویات سے متعلق گمراہ کن اشتہارات اور دعوؤں کا سراغ لگا کر ان کے صفحات فوری بلاک کرے۔ اس کے علاوہ ڈریپ (DRAP)، نیشنل کونسل فار طب، صوبائی ہیلتھ کیئر کمیشنز، ایف آئی اے سائبر کرائم اور پولیس پر مشتمل ایک سپیشل ٹاسک فورس تشکیل دی جائے جو صرف عطائیوں کے مطب پر چھاپے نہ مارے بلکہ ان کے پورے ڈیجیٹل ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک، کسٹمر کیئر ہاٹ لائنز اور سپلائرز کا بھی خاتمہ کرے نیز حکومتِ پاکستان کو فیس بک، گوگل اور ٹک ٹاک انتظامیہ سے معاہدہ کرنا چاہیے کہ وہ طبی نوعیت کے اشتہارات کو اس وقت تک لائیو (Live) نہ کریں جب تک ان کے ساتھ ڈریپ کا رجسٹریشن نمبر یا متعلقہ ہیلتھ اتھارٹی کا این او سی (NOC) منسلک نہ ہو۔
​ انسانوں کی صحت سے کھیلنا سخت جرم ہے۔ اس کا ارتکاب کرنے والے ان اتائیوں کے خلاف اقدامِ قتل اور فراڈ کی سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جائیں تاکہ معاشی مفاد کے لیے انسانی جانوں کا رسک لینے والوں کے لیے مثال قائم ہو سکے۔
​یہ قدم اٹھانا بھی بہت ضروری ہے کہ حکومت کی طرف سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر تسلسل کے ساتھ مہم چلائی جائے کہ سوشل میڈیا کی کوئی ویڈیو میڈیکل نسخہ نہیں ہو سکتی اور کسی مریض کی تصدیق کے بغیر کی گئی بات سائنسی حقیقت کا بدل نہیں ہے۔ صحت کوئی تجربہ گاہ ہے اور نہ ہی انسانی زندگی کسی نوسرباز کی شکار گاہ۔ یہ معاملہ صرف چند ہزار روپے کے فراڈ کا نہیں، بلکہ اس ماں کی امیدوں کا ہے جو اپنے بیمار بچے کے لیے آخری جمع پونجی ان جعلی دواؤں پر نچھاور کر دیتی ہے، اور اس بوڑھے باپ کا ہے جو شفا کے سراب میں اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ ریاست کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ سوشل میڈیا کے ان عطائیوں کو پیسے کمانے کی کھلی چھٹی دے گی یا اپنے شہریوں کو اس ڈیجیٹل ڈکیتی اور موت کے جال سے نجات دلائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں