آج بچوں بڑوں سب کی چھٹی ہے۔صبح نماز پڑھ کر دوبارہ لیٹ گئے۔بچوں کی چھٹی ہو تو صبح ہی آٹھ جاتے ہیں ۔پھر ادھر اُدھر ہلچل مچ جاتی ہے۔اسی میں بڑے بھی نہ چاہتے ہوئے اٹھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔پھر خبریں لگ جاتی ہیں۔لیکن آج کی خبروں نے تو سب کو ہی سوگوار کردیا۔ بچوں کی نرسری میں اے۔سی کا کمپریسر پھٹ گیا ۔جس سے 14نومولود بچے جھلس کر وفات پا گئے۔یہ سب کیوں ہوا کیسے ہوا۔جیسے بے شمار سوال ادھورے چھوڑ گیا۔حادثہ تو ہو جاتا ہے۔لیکن اس کے مابعد اثرات کب تک رہیں گے۔صبح صبح کتنے گھروں کے چراغ بجھے کتنے خاندان سوگ میں ہیں۔ابھی تو انہوں نے نظر بھی کر اپنے پیاروں کو دیکھا بھی نہ تھا۔کتنی ماؤں کے جگر گوشے آتے ہی واپسی کا رخت سفر باندھ لیا۔لیکن ایسی دردناک موت اللہ کسی دشمن کو بھی نہ دے۔وہ تو معصوم پھول تھے۔کھلنے سے قبل ہیں مرجھا گئے۔اللہ ان کے والدین اور لواحقین کو صبر دے ان کے زخموں پر مرہم بھی اللہ ہی رکھنے والا ہے۔تمام پاکستانی قوم ان دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام والدین کو صبر دے اور اس کا بہترین نعم البدل عطا فرمائے۔آمین۔لیکن حکومتی سطح پر ایسے دل خراش واقع کی تحقیقات ہونی چاہییں ۔اور مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے ۔اس کے ساتھ ایسے ٹھوس حفاظتی اقدامات ہونے چاہئیں تاکہ دوبارہ اس طرح کا سانحہ رونما نہ ہو سکے۔آج صبح سے ان بچوں اور ان کے والدین کا سوچ سوچ کر دل بہت رنجیدہ ہے ۔ اس کے ساتھ فلسطین والوں کے بارے میں بھی بار بار خیال آرہا ہے کہ وہاں اب تک نجانے کتنے بچے اور بڑے بلکہ پورے پورے خاندان ہی لقمہ جل بن چکے ہیں اور روز کتنے اور ان شہیدوں میں شامل ہورہے ہیں۔یہ سب تو شہید ہیں۔جنت ان شاءاللہ ان کی مستقل قیام گاہ ہوگی۔اللہ سب کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین یارب العالمین ۔
7











