14

کائنات کے ذرے ذرے کے لیے پیکرِ رحمت تحریر: رفیع صحرائی

حضور نبی مکرّم حضرت محمد ﷺ کی حیاتِ طیبہ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ ایک طرف صادق اور امین ہیں تو دوسری طرف حُسنِ اخلاق کا ایسا عملی نمونہ کی جس کی نظیر روئے زمین پر نہیں ملتی۔ دیگر اوصافِ حمیدہ کے ساتھ ساتھ آپﷺ کو مجسمہء رحمت بنا کر بھی بھیجا گیا۔
​تاریخِ انسانیت میں بے شمار عظیم شخصیات آئیں، جنھوں نے اپنے افکار، فلسفوں اور اصلاحی تحریکوں سے دنیا کو متاثر کیا۔ لیکن جب ہم تاریخ کے اس درخشاں باب پر نظر ڈالتے ہیں جسے سیرتِ طیبہ سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے تعبیر کیا جاتا ہے، تو ہمیں عظمتِ انسانی کا ایک ایسا عالمگیر اور دلنشین منظرنامہ نظر آتا ہے جس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ اللہ رب العزت نے قرانِ پاک میں ارشاد فرمایا: “وما أرسلناك إلا رحمة للعالمین” (اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے)۔ یہ آیتِ مبارکہ صرف ایک دعویٰ یا جملہ نہیں، بلکہ کائنات کے اس تمام تر حسن، توازن اور امن کی حقیقت ہے جو نبی اکرم ﷺ کے اس دنیا میں تشریف لانے سے قائم ہوئی۔
​آپ ﷺ کی رحمت کسی ایک خاص دور، خطے، قبیلے، یا صرف مسلمانوں تک محدود نہیں تھی، بلکہ “عالمین” کے لفظ نے اس کا دائرہ کار تمام انسانوں، حیوانات، نباتات، حشرات اور کائنات کے ذرے ذرے تک وسیع کر دیا ہے۔
​نبی کریم ﷺ سے پہلے کا عرب معاشرہ جہالت، ظلم، بے حسی اور لاقانونیت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔ عورت کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی اور بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔ مظلوم اور غلام انسانوں کی تذلیل کا کوئی حد و حساب نہ تھا۔ ایسے ہولناک دور میں آپ ﷺ رحمت کا نور بن کر اُمڈے۔
​آپ ﷺ نے انسانیت کو رنگ، نسل، زبان اور قبیلے کی قید سے آزاد کر کے تقویٰ کو فضیلت کا معیار قرار دیا۔ فتحِ مکہ کے موقع پر جہاں دنیا کے فاتحین انتقام کی آگ میں شہر کے شہر جلا دیتے تھے، آپ ﷺ نے اپنے جانی دشمنوں، آپ پر پتھر برسا نے والوں اور آپ کا معاشی بائیکاٹ کرنے والوں کے لیے عمومی معافی کا اعلان کر کے فرمایا: “آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔”
آپﷺ نے عورتوں کو معاشرے میں عزت، وراثت اور بلند مقام دیا، اور وہ بیٹی جسے پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیا جاتا تھا، اس کی پرورش کو جنت کے حصول کا ذریعہ بتایا۔ بچوں سے شفقت اور بڑوں کے احترام کی جو تعلیم آپ ﷺ نے دی، اس نے انسانی معاشرت کو تہذیب کا نیا سلیقہ سکھایا۔ غیر مسلموں اور اقلیتوں کے حقوق کی جو پاسداری آپ ﷺ نے فرمائی، وہ انسانی حقوق کا سب سے پہلا اور جامع منشور بن کر سامنے آئی۔
​اسلام سے قبل جانوروں کو سائے، خوراک اور آرام سے محروم رکھ کر ان سے ان کی طاقت سے زیادہ کام لیا جاتا تھا اور ان پر بے رحمی سے تشدد کیا جاتا تھا یہاں تک کہ اپنی خوراک کی ضرورت کے لیے زندہ جانور کے بدن سے گوشت کا ٹکڑا بھی کاٹ لیا جاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے جانوروں کے حقوق کا تحفظ فرما کر شفقت کی ایک نئی مثال قائم کی۔
​ایک مرتبہ جب آپ ﷺ ایک اونٹ کے پاس سے گزرے جس کی پیٹھ پیٹ سے لگی ہوئی تھی اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، تو آپ ﷺ نے اس کے مالک کو بلا کر فرمایا: “ان بے زبان جانوروں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، ان پر سواری کرو تو اچھے طریقے سے کرو اور ان سے کام لو تو اچھے طریقے سے لو۔” آپ ﷺ نے جانوروں پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ لادنے، ان کو بلاوجہ مارنے، اور ان کے چہروں پر داغنے سے سخت منع فرمایا۔ ذبح کے وقت بھی چھری کو پہلے سے تیز کرنے کا حکم دیا تاکہ جانور کو کم سے کم تکلیف ہو۔ آپ ﷺ کا یہ فرمان تاریخِ عالم کا سنہری جملہ ہے کہ: “ہر تر جگر (زندہ مخلوق) کی خدمت میں اجر و ثواب ہے۔”
​رحمتِ عالم ﷺ کا فیضِ کرم اتنا عام تھا کہ اس سے ننھے حشرات اور پرندے بھی محروم نہ رہے۔ ایک غزوہ کے دوران جب کسی صحابی نے ایک پرندے (حمرہ) کے گھونسلے سے اس کے بچے اٹھا لیے اور وہ پرندہ بے تابی سے اپنے پر پھڑپھڑانے لگا، تو آپ ﷺ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے فرمایا: “کس نے اس کے بچوں کو لے کر اسے تکلیف پہنچائی ہے؟ اس کے بچے اسے واپس لوٹا دو۔”
​اسی طرح ایک سفر کے دوران جب صحابہ کرام نے چیونٹیوں کے ایک بھٹ کو آگ لگا دی، تو آپ ﷺ نے شدید ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: “آگ کا عذاب دینا صرف آگ کے رب ہی کے شایانِ شان ہے، کسی دوسرے کو آگ سے عذاب دینے کا حق نہیں ہے۔” یہ واقعات اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ آپ ﷺ کی رحمت میں زمین پر رینگنے والے چھوٹے سے چھوٹے کیڑے مکوڑوں کی زندگی کا تحفظ بھی شامل تھا۔
​حضورِ اکرم ﷺ کی رحمت کا سایہ جمادات، نباتات اور ماحول کے تحفظ تک بھی پھیلا ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے درخت لگانے کو صدقہ جاریہ قرار دیا اور دورانِ جنگ بھی دشمن کے پھل دار درختوں کو کاٹنے یا فصلوں کو تباہ کرنے سے سخت منع فرمایا۔ آپ ﷺ نے پانی کے بے جا استعمال سے روکا، حتیٰ کہ ندی کے کنارے وضو کرتے ہوئے بھی اسراف سے منع فرمایا۔
​جمادات (بے جان اشیاء) بھی آپ ﷺ کے لمس اور محبت کو محسوس کرتے تھے۔ مسجدِ نبوی کا وہ خشک ستون (حنانہ) جس سے ٹیک لگا کر آپ ﷺ خطبہ دیا کرتے تھے، جب منبر بننے کے بعد آپ ﷺ نے اس سے ٹیک لگانا چھوڑی، تو وہ ستون ایک چھوٹے بچے کی طرح زار و قطار رو پڑا۔ آپ ﷺ نے اپنے مقدس ہاتھوں سے اس پر ہاتھ پھیرا اور اسے تسلی دی تو وہ شانت ہوا۔ احد پہاڑ کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا: “احد ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم احد سے محبت کرتے ہیں۔”
​آپ ﷺ کی پوری حیاتِ طیبہ اور تعلیمات اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ آپ کا وجودِ مسعود اس کائنات کے ہر حصے اور ہر ذرے کے لیے سراپا رحمت و سلامتی ہے۔ آج جب دنیا بدامنی، انتشار، ظلم، اور ماحولیاتی تنزل کا شکار ہے، تو اس کا واحد حل سیرتِ نبوی ﷺ کے اسی عالمگیر پیغامِ رحمت کو اپنانے میں پوشیدہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم آپ ﷺ کے اس اسوۂ حسنہ کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں اور بلا تفریقِ مذہب و ملت، انسانوں، جانوروں اور پوری کائنات کے لیے امن اور رحمت کا باعث بنیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں