حبیب جالب صرف ایک شاعر نہیں تھے، وہ اس ملک کے اجتماعی ضمیر کی آواز تھے۔ وہ ان لوگوں کے لیے لکھتے رہے جن کے پاس اقتدار نہیں تھا، دولت نہیں تھی اور جن کی آواز ایوانِ اقتدار تک پہنچنے سے پہلے ہی دب جاتی تھی۔ ان کی شاعری کا بنیادی سوال یہی تھا کہ ریاست اور معاشرے میں عام آدمی کا مقام کیا ہے۔ آج جب ان کی بیٹی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ سامنے آتا ہے تو یہ محض ایک خاتون کے کاروبار کا معاملہ نہیں رہتا بل کہ ریاستی رویے اور شہری کے بنیادی حقِ روزگار کا سوال بن جاتا ہے۔
اس معاملے کا ایک اہم پس منظر یہ بتایا گیا ہے کہ حبیب جالب کی صاحب زادی کے ڈھابے کو مبینہ طور پر اس لیے بند کیا گیا کہ وہاں مریم نواز کی تصویر والا پینا فلیکس نہیں لگایا گیا تھا۔ اگر واقعی کسی کاروباری مقام کو محض اس بنیاد پر بند کیا گیا کہ وہاں کسی سیاسی شخصیت کی تصویر والا فلیکس موجود نہیں تھا تو یہ معاملہ تجاوزات یا انتظامی نظم و ضبط سے کہیں آگے بڑھ جاتا ہے۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی شہری کو اپنے کاروبار کو جاری رکھنے کے لیے حکمران شخصیت کی تصویر آویزاں کرنا لازمی قرار دیا جا سکتا ہے؟
قانون کی پابندی ہر شہری کی ذمہ داری ہے مگر قانون کی حدود میں رہتے ہوئے اپنی سیاسی یا شخصی ترجیحات رکھنا بھی شہری آزادیوں کا حصہ ہے۔ ایک چھوٹے کاروبار کو کسی سیاسی شخصیت کی تصویر نہ لگانے کی بنیاد پر بند کرنا ایک ایسا طرزِ عمل ہے جو ریاستی اختیار کے استعمال پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ اگر کسی فلیکس یا اشتہار کے حوالے سے کوئی باقاعدہ قانونی ضابطہ موجود تھا تو اس کا اطلاق واضح، تحریری اور یکساں اصول کے تحت ہونا چاہیے تھا نہ کہ کسی ایک خاتون کے کاروبار کو نشانہ بنا کر۔
طاہرہ حبیب جالب کا معاملہ اسی لیے اہم ہے کہ یہاں ایک طرف ریاستی مشینری ہے اور دوسری طرف ایک عورت جو اپنی محنت سے اپنے قدموں پر کھڑے ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کی اصل طاقت اس کا سرمایہ نہیں بل کہ اس کی محنت ہے۔ ایک ڈھابا اس کے لیے صرف کاروباری جگہ نہیں بلکہ اس کی روزی اور خود انحصاری کا ذریعہ ہے۔ ایسے میں اسے بند کر دینا محض ایک دکان کا شٹر گرانا نہیں بلکہ ایک محنت کش عورت کے معاشی حق پر اثر انداز ہونا ہے۔
ریاست صرف قانون نافذ کرنے والی مشینری کا نام نہیں۔ ریاست اپنے شہریوں کے جان و مال، عزت اور بنیادی حقوق کی محافظ بھی ہے،کہا جاتا ہے ریاست ماں ہوتی ہے۔اگر کسی کاروبار میں واقعی قانونی خلاف ورزی تھی تو اس کی نشان دہی کی جاتی، متعلقہ قانون بتایا جاتا اور اسے درست کرنے کا موقع دیا جاتا۔ مگر اگر اصل وجہ کسی سیاسی شخصیت کی تصویر والا فلیکس نہ لگانا تھی تو یہ ریاستی اختیار کے استعمال کا نہایت سنجیدہ سوال ہے۔ حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ کارروائی کس قانون اور کس ضابطے کے تحت کی گئی۔
حبیب جالب کی بیٹی ہونے کا حوالہ اس معاملے کو مزید معنوی گہرائی دیتا ہے۔ جس شخص نے اپنی پوری زندگی شخصی آمریت، سیاسی جبر اور عام آدمی کے استحصال کے خلاف آواز بلند کی آج اسی کی بیٹی اگر اپنے کاروبار اور اپنی خودداری کے تحفظ کے لیے سوال اٹھا رہی ہے تو اس آواز کو محض ذاتی شکایت سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کسی بااثر نام کے ذریعے خصوصی رعایت حاصل کرنے کی بات نہیں بل کہ اس اصول کی بات ہے کہ ریاست شہری سے وفاداری کا ثبوت کسی سیاسی شخصیت کی تصویر کے ذریعے کیوں مانگے۔
ایک سیاسی جماعت یا اس کے قائدین کی تصاویر لگانا کسی شہری کی ذاتی پسند ہو سکتی ہے مگر اسے کاروبار جاری رکھنے کی شرط بنانا ایک الگ معاملہ ہے۔ ریاستی اداروں کا کام شہریوں کو قانون کی پابندی کا پابند بنانا ہے نہ کہ انہیں سیاسی وابستگی کے اظہار پر مجبور کرنا۔ اگر ایک شہری کسی سیاسی رہنما کی تصویر اپنے کاروبار پر نہیں لگانا چاہتا تو محض اس وجہ سے اس کے روزگار کو خطرے میں ڈالنا جمہوری معاشرے کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ دکھائی نہیں دیتا۔
اصل سوال یہاں صرف حبیب جالب کی بیٹی کا نہیں۔ سوال ان تمام چھوٹے کاروباری افراد کا ہے جو روزانہ ریاستی اداروں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ اگر ایک ڈھابے کے مالک سے سیاسی شخصیت کا فلیکس لگانے کا تقاضا کیا جا سکتا ہے تو کل کسی ریڑھی بان، چھوٹے دکاندار یا مزدور سے بھی کسی خاص سیاسی نعرے، تصویر یا علامت کو اپنانے کا تقاضا کیا جا سکتا ہے۔ پھر کاروبار اور شہری آزادی کے درمیان لکیر کہاں رہے گی؟
ریاست کا اصل امتحان وہاں ہوتا ہے جہاں سامنے ایک بے نام اور بے وسیلہ شہری کھڑا ہو۔ اگر قانون کا استعمال شہری کو کسی سیاسی وابستگی کے اظہار پر مجبور کرنے کے لیے ہونے لگے تو یہ قانون کی بالادستی کے بجائے اختیار کی بالادستی بن جاتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسے معاملات میں واضح کرے کہ کارروائی کس قانونی بنیاد پر ہوئی اور کیا یہی اصول ہر کاروباری شخص پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔
یہاں ایک بڑا سوال ان ہزاروں بے نام لوگوں کا بھی ہے جن کی آواز سوشل میڈیا تک نہیں پہنچتی۔ وہ ریڑھی بان جن کا سامان اٹھا لیا جاتا ہے، وہ چھوٹے دکاندار جن کا کاروبار بند کرا دیا جاتا ہے اور وہ محنت کش جن کی دن بھر کی کمائی کسی ایک انتظامی فیصلے سے ختم ہو جاتی ہے ان کے لیے کون کھڑا ہوگا؟ اگر کسی معروف شخصیت کے خاندان سے تعلق رکھنے والے شہری کا معاملہ فوراً قومی بحث بن جاتا ہے تو عام آدمی کی آواز بھی اتنی ہی اہم ہونی چاہیے کیوں کہ آئین اور قانون شہری کی شہرت نہیں بل کہ اس کے حقوق دیکھتے ہیں۔
طاہرہ حبیب جالب کسی خصوصی رعایت کی نہیں بل کہ ایک شہری کی حیثیت سے انصاف کی حق دار ہیں۔ اور یہی حق ہر ریڑھی بان، ہر چھوٹے دکاندار اور ہر محنت کش کو حاصل ہے۔ ایک عورت کا اپنی محنت سے جینا، اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا اور اپنی عزتِ نفس کے ساتھ زندگی گزارنا جرم نہیں۔ حبیب جالب کی بیٹی ہونا تو قطعاً جرم نہیں۔ اگر صرف ایک فلیکس نہ لگانے پر اس کا ڈھابا بند کیا گیا تو سوال اس عورت سے زیادہ اس نظام سے بنتا ہے جس نے یہ فیصلہ کیا۔
حبیب جالب نے ظلم کے سامنے خاموشی اختیار نہیں کی تھی۔ ان کی شاعری میں ایک ایسی ریاست کا خواب تھا جہاں شہری کی عزت اس کی سیاسی وابستگی سے نہیں بلکہ اس کی انسانیت سے متعین ہو۔ آج ان کی بیٹی کے معاملے میں ریاست کے سامنے بھی یہی امتحان ہے کہ وہ قانون کو سیاسی پسند و ناپسند سے بالاتر رکھتی ہے یا نہیں۔
ایک عورت کو صرف اس لیے اپنے حق کے لیے آواز نہ اٹھانی پڑے کہ وہ حبیب جالب کی بیٹی ہے۔ اسے صرف اس لیے اپنی خودداری کی قیمت نہ چکانی پڑے کہ اس نے اپنے زورِ بازو پر جینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست کا کام شہری کو جھکانا نہیں بل کہ اسے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے عزت سے جینے کا حق دینا ہے۔ اگر اس معاملے میں واقعی زیادتی ہوئی ہے تو اس کا ازالہ صرف ایک فرد کا مسئلہ حل کرنا نہیں بل کہ اس اصول کو زندہ کرنا ہے جس کے لیے
حبیب جالب نے اپنی پوری زندگی آواز بلند کی: انصاف سب کے لیے، قانون سب کے لیے اور عزت کے ساتھ جینے کا حق بھی سب کے لیے۔











