مکہ دفاعی معاہدے کی پہلی باضابطہ میٹنگ آج ترکیہ میں ہونا محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بل کہ مشرقِ وسطیٰ کے بدلتے ہوئے تزویراتی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ خطے میں مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی، باہمی بداعتمادی، بیرونی طاقتوں کی مداخلت اور اسرائیل کے ساتھ جاری تنازعات نے عرب و مسلم دنیا کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں مشترکہ سلامتی کے کسی نئے تصور کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ ایسے میں مکہ معاہدہ اگر محض ایک دفاعی اتحاد کے بجائے وسیع تر علاقائی سلامتی کے نظام کی بنیاد بنتا ہے، تو اس کے اثرات نہ صرف خلیج بل کہ پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
تاہم اس معاہدے کے مستقبل کا ایک اہم سوال ایران کے ممکنہ ردِعمل سے جڑا ہوا ہے۔ ایران خطے میں کسی بھی ایسے دفاعی یا عسکری بندوبست کو اپنے خلاف محاذ بندی کے تناظر میں دیکھ سکتا ہے جس میں اسے شامل نہ کیا جائے۔ تہران کے خدشات کو نظر انداز کرنا اس نئے انتظام کو مضبوط کرنے کے بجائے مزید تقسیم اور کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔ چوں کہ ایران ایک اہم علاقائی طاقت ہے، اس لیے مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا کوئی بھی منصوبہ اس کے تحفظات کو سمجھے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔
یہاں سفارت کاری کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ اگر تہران کو یہ یقین دلایا جا سکے کہ مکہ معاہدہ ایران کو گھیرنے یا اس کے خلاف اسرائیل یا امریکہ کے ساتھ کسی نئے محاذ کی تشکیل نہیں بل کہ علاقائی سلامتی کے ایک نئے نظام کے لیے ہے تو ایران کے خدشات بڑی حد تک کم کیے جا سکتے ہیں۔ اس یقین دہانی کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ خطے میں ماضی کے تجربات نے ہر نئے عسکری اتحاد کو شک و شبہے کی نگاہ سے دیکھنے کی ایک فضا پیدا کر دی ہے۔
مکہ معاہدے کی کامیابی اس بات سے مشروط ہو گی کہ اس کا مقصد صرف طاقت کا توازن تبدیل کرنا ہے یا واقعی امن کا ایک نیا ڈھانچا تشکیل دینا۔ اگر یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف صف بندی کا ذریعہ بن گیا تو یہ خطے میں موجود تقسیم کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔ لیکن اگر اس کا بنیادی مقصد دہشت گردی، بیرونی جارحیت، سمندری سلامتی، سرحدی تحفظ اور مشترکہ دفاع کے ایسے اصول وضع کرنا ہے جو تمام علاقائی ممالک کے لیے قابلِ قبول ہوں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
ترکیہ میں ہونے والی پہلی باضابطہ میٹنگ اس حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ ترکیہ خود مشرق و مغرب کے درمیان ایک اہم جغرافیائی اور سیاسی پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی موجودگی اس عمل کو محض خلیجی سطح کی سرگرمی کے بجائے ایک وسیع تر علاقائی تناظر فراہم کرتی ہے۔ اگر ان مذاکرات میں دفاع کے ساتھ ساتھ سفارت کاری، تنازعات کے حل اور باہمی اعتماد سازی کو بھی اہمیت دی گئی تو مکہ معاہدہ مستقبل میں ایک جامع علاقائی فورم کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
اس پورے معاملے میں سعودی عرب کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ مکہ سے منسوب اس معاہدے کی علامتی حیثیت اپنی جگہ لیکن اصل طاقت اس کے عملی خدوخال میں ہو گی۔ مسلم دنیا میں سعودی عرب کی سیاسی اور مذہبی اہمیت اسے یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ دفاعی تعاون کو کسی ایک ملک کے خلاف اتحاد کے بجائے اجتماعی سلامتی کے تصور سے جوڑے۔ یہی حکمتِ عملی اس معاہدے کو عالمی طاقتوں کی کشمکش سے نکال کر علاقائی مفاد کے دائرے میں لا سکتی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے لیے بھی یہ پیش رفت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان کے عرب دنیا کے ساتھ تاریخی، مذہبی، دفاعی اور معاشی روابط ہیں، جب کہ ایران اس کا اہم ہمسایہ ہے۔ اس لیے اسلام آباد کسی ایسے علاقائی بندوبست کا خواہاں ہو گا جو ایک طرف اس کے دوست ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کو مضبوط کرے اور دوسری طرف ایران کے ساتھ تعلقات کو متاثر نہ کرے۔ پاکستان کی متوازن سفارت کاری اس عمل میں ایک پل کا کردار ادا کر سکتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کو اس وقت مزید عسکری اتحادوں سے زیادہ اعتماد کی ضرورت ہے۔ جنگیں وقتی طور پر طاقت کا توازن تبدیل کر سکتی ہیں لیکن دیرپا امن صرف سیاسی مکالمے اور باہمی یقین دہانیوں سے قائم ہوتا ہے۔ اگر مکہ معاہدہ واقعی ایک نئے علاقائی سلامتی کے نظام کی بنیاد بننا چاہتا ہے تو اسے ایران سمیت تمام اہم علاقائی طاقتوں کے ساتھ مکالمے کے دروازے کھلے رکھنے ہوں گے۔ کسی ملک کو مستقل طور پر دشمن قرار دے کر امن کا نظام قائم نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی ضروری ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے معاہدے کی حدود اور ترجیحات واضح ہوں۔ اگر خطے کے ممالک اپنے دفاع کے لیے باہمی تعاون کرتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے لیکن اس تعاون کو کسی بڑی طاقت کے وسیع تر تزویراتی مفادات کا حصہ بننے سے روکنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ علاقائی سلامتی کا نظام اسی وقت قابلِ اعتماد ہو گا جب اس کے فیصلوں کی بنیاد مقامی ممالک کے اجتماعی مفادات پر ہو گی۔
آج ترکیہ میں ہونے والی یہ پہلی باضابطہ میٹنگ ایک آغاز ہے، منزل نہیں۔ اس آغاز کو کامیابی میں بدلنے کے لیے واضح مقاصد، شفاف پالیسی، مسلسل سفارتی رابطے اور تمام فریقوں کے تحفظات کو سننے کی ضرورت ہو گی۔ مکہ معاہدہ اگر طاقت کے مظاہرے کے بجائے امن کی ضمانت، محاذ آرائی کے بجائے مکالمے اور تقسیم کے بجائے مشترکہ سلامتی کی علامت بن جائے تو یہ خطے کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ مکہ معاہدہ کس کے خلاف ہے بل کہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ یہ کس کے لیے ہے۔ اگر جواب یہ ہو کہ یہ خطے کے عوام، ریاستوں اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے ہے تو ایران کے خدشات بھی کم کیے جا سکتے ہیں اور ایک نئے علاقائی امن کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کو آج ایک اور محاذ نہیں، ایک ایسا راستہ درکار ہے جو جنگ سے مذاکرات، بداعتمادی سے اعتماد اور کشیدگی سے پائیدار امن کی طرف لے جائے۔











