3

مطالعہ کُتب کی فکری و تہذیبی ضرورت:احمدخان اچکزئی

محترم قارئین، عصر حاضر میں جہاں ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ نے انسانی توجہ کو سطحیت اور عارضی معلومات کی گہرائیوں میں دھکیل دیا ہے، وہاں یہ سوال محض ایک نصابی یا روایتی سوال نہیں رہتا کہ “کتاب کیوں پڑھنی چاہیے؟” بلکہ یہ انسانی شعور کی بقا، فکری استقامت اور تہذیبی تداوم کی ایک بنیادی ضرورت بن کر ابھرتا ہے۔ کتاب صرف کاغذ پر چھپے ہوئے الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ نوعِ انسانی کے ہزاروں سالہ تجربات، فلسفیانہ افکار اور سائنسی دریافتوں کا ایک ایسا حیات بخش عصارہ ہے جو انسان کی داخلی دنیا کو تسخیر کرنے اور خارجی دنیا کو فہم و ادراک کے سانچے میں ڈھالنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔ کتاب کی قراءت بنیادی طور پر انسانی دماغ کے لیے ایک ایسا فکری مشق نامہ ہے جو تفکیرِ تنقیدی کو جلا بخشتا ہے، کیونکہ جب انسان کسی مصنف کی تحریر کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ صرف الفاظ نہیں پڑھ رہا ہوتا بلکہ وہ ایک متوازی شعوری دنیا میں قدم رکھتا ہے جہاں منطق، دلیل، جمالیات اور فلسفے کا ایک وسیع سمندر موجزن ہوتا ہے۔ بصری ابلاغی ذرائع کے برعکس، جہاں معلومات پکی پکائی شکل میں بغیر کسی ذہنی جہد کے ذہن پر مسلط کی جاتی ہیں، کتاب کا مطالعہ قاری کی تخیلاتی صلاحیتوں کو بیدار کرتا ہے؛ یہ ذہن کو اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ خود مناظر، کردار اور مفاہیم کے مفروضات تشکیل دے، جس کے نتیجے میں انسان کی تحلیلی اور فکری استطاعت میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے۔تہذیبی و تمدنی ارتقاء کا تاریخ وار جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ زندہ اور سرسیّد اقوام کی بنیاد ہمیشہ صاحبِ کتاب اور صاحبِ قلم طبقے ہی نے رکھی ہے، کیونکہ کتابیں علم کو ایک نسل سے دوسری نسل تک محفوظ انداز میں منتقل کرنے کا سب سے مستحکم ذریعہ ہیں۔ جب ایک انسان کتاب کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ سینکڑوں سال قبل گزرے ہوئے دانادانوں، مفکروں، سائنسدانوں اور ادیبوں کے ذہن کے ساتھ بلا واسطہ گفتگو کے مقام پر فائز ہو جاتا ہے، جس سے اس کی اپنی زندگی کے مختصر تجربات کو صدیوں کے اجتماعی انسانی تجربے کی پشت پناہی حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ عمل انسان کو کٹ حجتی، سطحی تعصبات، تنگ نظری اور فکری جمود سے نکال کر ایک کھلے، کشادہ اور عالمگیر زاویہ نگاہ سے نوازتا ہے۔ مطالعہ کتب کی یہ عادت انسان کے اندر خود بینی اور خود شناسی کا مادہ پیدا کرتی ہے؛ یہ محض معلومات کا ذخیرہ نہیں بڑھاتی بلکہ شخصیت کی تزکیہ و تہذیب کرتی ہے، لفظیات کے ذخیرے کو وسعت دیتی ہے، بیان و انشاء میں بلاغت اور فصاحت پیدا کرتی ہے، اور انسان کے مافی الضمیر کی ادائیگی کو باوقار اور مدلل بناتی ہے۔ جس معاشرے میں کتب بینی کا عنصر مفقود ہو جاتا ہے، وہاں مکالمے کی جگہ مناظرہ، دلیل کی جگہ جذباتی نعرہ بازی اور فکری گہرائی کی جگہ سطحی معلومات لے لیتی ہیں، جس کے نتیجے میں اجتماعی دانش زوال پذیر ہو جاتی ہے۔ کتب کی تحریک کا جوہر اسی نکتے پر محیط ہے کہ کتب بینی دراصل فرد کے اندر “خود آگاہی” اور “سیلف ایکچوئلائزیشن” کو حاصل کرنے کی کلید ہے۔ موجودہ دور کا تیز رفتار میڈیا انسان کو معلومات سے تو لبالب بھر دیتا ہے مگر اسے حکمت اور بصیرت سے محروم رکھتا ہے، جبکہ کتاب معلومات کو حکمت میں بدلنے کا صبر آزما اور پروقار ذریعہ ہے۔ کتاب پڑھنا ایک ایسا خاموش مگر شدید انقلاب ہے جو قاری کی شخصیت کے نہاں خانوں میں برپا ہوتا ہے؛ یہ اس کے احساسات میں لطافت، جذبات میں توازن اور فکر میں پختگی لاتا ہے۔ یہ ذہنی تناؤ سے نجات کا بہترین فکری علاج بھی ہے اور تنہائی کا سب سے بااعتبار اور سچا ساتھی بھی، جو قاری سے کسی قسم کے مفاد کے بغیر اسے علم اور آگاہی کی روشن شاہراہ پر گامزن رکھتا ہے۔ علمی و صحافتی تناظر میں یہ بات بلا خوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ کتاب کا مطالعہ انسان کے اندر استفسار اور تلاشِ حقیقت کا وہ جذبہ زندہ رکھتا ہے جو کسی بھی باضمیر اور زندہ معاشرے کی بنیادی ضمانت ہے۔ لہٰذا، کتاب پڑھنا کسی شوق یا وقت گزاری کا نام نہیں بلکہ یہ ہر اس فرد کے لیے ایک لازمہِ حیات ہے جو اپنے وجود کو فکری تاریکیوں سے نکال کر معرفت، علم، دانائی اور حقیقی تہذیبی ترقی کی روشنی سے منور کرنا چاہتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں