کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ ملک کی معاشی شہ رگ ہے۔ پاکستان کی صنعت، تجارت اور بندرگاہوں کا مرکز ہے۔ ملک کی معیشت میں سب سے زیادہ حصہ دینے والا یہی شہر ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہی شہر آج پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہا ہے۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جس نے کروڑوں شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔پانی ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ یہ کسی پر احسان نہیں بلکہ ہر شہری کا حق ہے۔ مگر کراچی کے عوام کئی برسوں سے اس حق سے محروم ہیں۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں پانی روزانہ نہیں آتا۔ کہیں ہفتے میں ایک بار سپلائی ہوتی ہے۔ کہیں پندرہ دن بعد۔ اور کئی بستیاں ایسی ہیں جہاں مہینوں تک پانی کا نام و نشان نہیں ہوتا۔ لوگ ہر روز نل کھول کر دیکھتے ہیں، لیکن انہیں صرف مایوسی ملتی ہے۔اگر کہیں پانی آ بھی جائے تو ایک اور مصیبت ان کا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔ پانی کا پریشر اتنا کم ہوتا ہے کہ وہ صرف پمپنگ اسٹیشن کے قریب واقع گھروں تک پہنچتا ہے۔ دور کی گلیاں، اندرونی آبادیاں اور بلند عمارتیں خالی رہ جاتی ہیں۔ وہاں کے لوگ صرف انتظار کرتے رہتے ہیں۔کراچی میں شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں بغیر موٹر یا پسٹن پمپ کے پانی آ جاتا ہو۔ شہریوں نے اپنی جیب سے موٹر خریدی، پائپ لگائے اور اضافی اخراجات برداشت کیے، کیونکہ متعلقہ ادارہ مناسب پریشر کے ساتھ پانی فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ اگر بجلی چلی جائے تو پھر ایک اور امتحان شروع ہو جاتا ہے۔ لوگ بیٹری استعمال کرتے ہیں۔ سولر سسٹم چلاتے ہیں۔ جنریٹر کا سہارا لیتے ہیں تاکہ پانی کھینچ سکیں۔ یعنی پانی حاصل کرنے کے لیے پہلے پانی کا بل ادا کریں، پھر موٹر خریدیں، پھر بجلی کا بل دیں، اور لوڈشیڈنگ ہو تو سولر، بیٹری یا جنریٹر کا بھی انتظام کریں۔ دنیا کے شاید ہی کسی بڑے شہر میں بنیادی ضرورت حاصل کرنے کے لیے شہریوں کو اتنی قیمت ادا کرنا پڑتی ہو۔اس سب کے باوجود واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے بل وقت پر پہنچ جاتے ہیں۔ اگر بل ادا نہ کیا جائے تو یاددہانی بھی آتی ہے اور ادائیگی پر زور بھی دیا جاتا ہے۔ لیکن کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ جس گھر میں کئی دن یا کئی ہفتے پانی ہی نہیں آیا، اس سے مکمل بل کس بات کا وصول کیا جا رہا ہے کیا یہ انصاف ہے کیا کسی ادارے کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خدمت فراہم کیے بغیر پوری قیمت وصول کرے کراچی کے شہری صرف پانی کے بل ہی نہیں دیتے بلکہ موٹر کی خریداری، اس کی مرمت، بجلی کے اضافی اخراجات، اور بعض اوقات ٹینکر خریدنے کا خرچ بھی برداشت کرتے ہیں۔ ایک بنیادی سہولت کے لیے شہریوں پر اتنا مالی بوجھ ڈال دینا کسی بھی فلاحی ریاست کے تصور کے خلاف ہے۔اس سے بھی زیادہ افسوسناک منظر یہ ہے کہ ایک طرف لوگ ایک بالٹی پانی کے لیے پریشان ہیں اور دوسری طرف شہر کی سڑکوں پر صاف پانی بہہ رہا ہوتا ہے۔ جگہ جگہ ٹوٹی ہوئی لائنوں سے ہزاروں گیلن پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ کئی علاقوں میں پانی نالوں میں گرتا رہتا ہے۔ کئی جگہ سڑکیں تالاب بن جاتی ہیں۔ یہ لیکیج ایک دو دن نہیں بلکہ کئی کئی ہفتے جاری رہتی ہے۔ شہری شکایت کرتے ہیں، تصاویر بناتے ہیں، ویڈیوز سوشل میڈیا پر ڈالتے ہیں، لیکن مرمت میں غیر معمولی تاخیر ہوتی ہے۔یہ پانی صرف ضائع نہیں ہو رہا بلکہ عوام کا حق ضائع ہو رہا ہے۔ جس پانی سے ہزاروں گھروں کے نل چل سکتے تھے، وہ سڑکوں اور نالوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ پھر یہی ادارے کہتے ہیں کہ شہر میں پانی کی کمی ہے۔ سوال یہ ہے کہ موجود پانی کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری کس کی ہے اداروں کی نااہلی اس بحران کی سب سے بڑی وجہ بن چکی ہے۔ ہر سال نئے منصوبوں کا اعلان ہوتا ہے۔ اجلاس ہوتے ہیں۔ بیانات دیے جاتے ہیں۔ مگر عام شہری کی زندگی میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ کئی منصوبے برسوں سے تاخیر کا شکار ہیں۔ پرانی پائپ لائنیں اپنی مدت پوری کر چکی ہیں۔ تقسیم کا نظام کمزور ہے۔ نگرانی مؤثر نہیں۔ شکایات کے ازالے کا نظام بھی شہریوں کا اعتماد حاصل نہیں کر سکا۔کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی ذمہ داری صرف بل وصول کرنا نہیں بلکہ ہر گھر تک پانی پہنچانا بھی ہے۔ اگر لاکھوں لوگ پانی سے محروم ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ کہیں نہ کہیں نظام میں سنگین خامیاں موجود ہیں۔ ان خامیوں کو تسلیم کیے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوگا۔پانی کی غیر قانونی چوری بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ غیر قانونی کنکشن اور ہائیڈرنٹس برسوں سے زیر بحث ہیں۔ اگر عوام کے حصے کا پانی راستے ہی میں چوری ہو جائے تو آخری صارف تک کیا پہنچے گاسوال یہ بھی ہے کہ یہ سب کچھ برسوں تک کیسے جاری رہتا ہے متعلقہ ادارے اس پر مکمل قابو کیوں نہیں پا سکے اس بحران نے ایک اور کاروبار کو جنم دیا ہے، یعنی ٹینکر مافیا۔ جب گھروں میں پانی نہیں پہنچے گا تو لوگ مجبوری میں ٹینکر خریدیں گے۔ ایک ٹینکر کی قیمت کئی غریب خاندانوں کے ماہانہ بجٹ کو متاثر کر دیتی ہے۔ یوں پانی ایک بنیادی حق کے بجائے مہنگی چیز بن جاتا ہے۔اس سارے بحران کا سب سے زیادہ اثر خواتین، بچوں اور بزرگوں پر پڑتا ہے۔ خواتین رات بھر جاگ کر پانی بھرنے کا انتظار کرتی ہیں۔ بچے اسکول جانے سے پہلے پانی کے برتن بھرنے میں لگ جاتے ہیں۔ بزرگ پانی کی قلت کے باعث شدید مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ پانی کی کمی صرف پیاس کا مسئلہ نہیں بلکہ صحت، تعلیم، صفائی اور عزتِ نفس کا بھی مسئلہ ہے۔حکومت سندھ اور متعلقہ اداروں کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ کراچی صرف پاکستان کا ایک شہر نہیں بلکہ قومی معیشت کی بنیاد ہے۔ اگر اسی شہر کے شہری بنیادی سہولت سے محروم رہیں گے تو اس کے اثرات پورے ملک پر پڑیں گے۔وقت آ گیا ہے کہ پانی کی تقسیم کے پورے نظام کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے۔ بوسیدہ لائنیں فوری تبدیل کی جائیں۔ جہاں پانی ضائع ہو رہا ہے وہاں ہنگامی بنیادوں پر مرمت کی جائے۔ ہر علاقے تک مناسب پریشر کے ساتھ پانی پہنچانے کا انتظام کیا جائے تاکہ شہریوں کو موٹر، پسٹن پمپ، سولر، بیٹری یا جنریٹر کے سہارے پانی حاصل نہ کرنا پڑے۔ پانی کی چوری ختم کی جائے۔ غیر قانونی کنکشن ختم کیے جائیں۔ شکایات کے فوری ازالے کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔ اور سب سے بڑھ کر اداروں کی کارکردگی کا سخت احتساب کیا جائے۔کراچی کے عوام کسی رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ وہ صرف اپنا آئینی اور انسانی حق مانگ رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے گھروں میں باقاعدگی سے پانی آئے۔ مناسب پریشر کے ساتھ آئے۔ بغیر موٹر کے آئے۔ انہیں ایسے بل نہ بھیجے جائیں جن کے بدلے انہیں پانی ہی نہ ملے۔اب وقت آ گیا ہے کہ متعلقہ ادارے اعداد و شمار کے بجائے زمینی حقائق دیکھیں۔ وہ ان گلیوں میں جائیں جہاں لوگ ہفتوں پانی کا انتظار کرتے ہیں۔ ان گھروں کو دیکھیں جہاں خواتین رات کے آخری پہر پانی بھرنے کے لیے جاگتی ہیں۔ ان بچوں کو دیکھیں جو پانی کی قلت کے باعث مشکلات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر ان مناظر کے بعد بھی کسی ادارے کی بے حسی ختم نہ ہو تو پھر مسئلہ صرف پانی کا نہیں بلکہ طرزِ حکمرانی کا ہے۔کراچی آج صرف پیاسا نہیں ہے، بلکہ انصاف کا طلبگار بھی ہے۔ اس شہر کے لوگ وعدے نہیں، نتائج چاہتے ہیں۔ انہیں تقریریں نہیں، پانی چاہیے۔ کیونکہ پانی زندگی ہے، اور زندگی کسی بھی شہری سے نہیں چھینی جا سکتی۔
14











