94

محمود قزلباش کے مظالم، غصب شدہ جائیدادیں اور جرائم کی تاریخ کا سیاہ باب: احمدخان اچکزئی

محترم قارئین، محمود قزلباش کی منشیات کے حوالے سے تاریخ بھی انتہائی داغدار اور درخشان رہی ہے۔ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب نور محمد ترہ کی کے دورِ حکومت میں قندھار کے والی (گورنر) نے اسپن بولدک میں پڑی 20ٹن ضبط شدہ افیون قزلباش کے حوالے کی تھی، تاکہ پاکستان میں پناہ گزین ہونے والے افغان مہاجرین کو تنگ کر کے واپس بھیجا جا سکے۔ شاید آپ کو یاد ہوگا، بلکہ یاد کیا ہونا، آپ تو اس وقت خود دیواروں پر “افغان بھگوڑو بھاگ جاؤ” کے نعرے لکھا کرتے تھے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اب تک قزلباش کی زمینوں پر پوست کاشت ہوتی ہے اور اس کے خاندان کے متعدد افراد ہیروئن کے کاروبار میں براہِ راست ملوث ہیں۔اسی طرح محمود قزلباش کی پارٹی کا مرکزی دفتر سردار عبدالمنان خلجی کی ملکیت ہے، جس پر گزشتہ 40 سال سے محمود قزلباش نے غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔ وہ اس کا نہ تو کوئی کرایہ ادا کرتا ہے اور نہ ہی اسے خالی کرنے پر تیار ہے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ جس گھر میں اس وقت محمود قزلباش رہائش پذیر ہے، وہ گھر کچھ مہینوں کے لیے جانکئی ملیزئی کی ملکیت کے طور پر عارضی بنیادوں پر دیا گیا تھا، مگر اس پر بھی اس نے اب تک غاصبانہ قبضہ برقرار رکھا ہوا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ پورے محلے میں کوئی بھی ہمسایہ اپنی جائیداد کسی اور کے ہاتھ فروخت نہیں کر سکتا، بلکہ محمود قزلباش زبردستی ان کی جائیدادیں اونے پونے داموں خریدنے پر مجبور کرتا ہے۔لینڈ گریبنگ اور قبضہ مافیا کے اس سرغنہ قزلباش نے ایک فارسی زبان بولنے والے شہری آبادان کی کواڑی روڈ پر واقع دو ایکڑ زمین پر موجود شراب خانے کو ہڑپنے کے لیے اسے اغوا کیا اور وہ شراب خانہ اپنے نام کروا کر آبادان کو قتل کر دیا۔ چونکہ اس زمین کی فردِ ملکیت آبادان اور اس کی بیوی کے نام پر مشترک تھی، اس لیے اس کی بوڑھی بیوی کو بھی اغوا کر کے 10 مہینے تک حبسِ بے جا میں رکھا گیا۔ وہ مظلوم عورت دستخط کرنے سے انکار کرتی رہی اور مسلسل یہی کہتی رہی کہ “میرا شوہر مجھے لوٹا دو، تب میں دستخط کروں گی”، لیکن آبادان زندہ ہوتا تو واپس ملتا۔ بالاآخر اس بے بس عورت نے اپنی جان چھڑانے کے لیے دستخط کر دیے، جس کے بعد 10 مہینوں کی قید کے بعد اسے ایک گاڑی میں ڈال کر کوئٹہ کی ایک سڑک پر پھینک دیا گیا۔ اس مظلوم عورت نے ہمارے اس مردہ دل ملک کے تمام اداروں اور بااثر شخصیات کے دروازے کھٹکھٹائے، لیکن کہیں بھی اس کی آہ و بقا نہ سنی گئی، اور یوں اس شراب خانے کی ملکیت اب محمود قزلباش کے پاس منتقل ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ بھی مشرقی بائی پاس پر سینکڑوں ایکڑ اور غزہ بند پر ہزاروں ایکڑ زمینیں اور کوئٹہ شہر میں متعدد پلازے اسی طرح غصب کیے گئے ہیں۔قوم کے پیسے کھا کر جو بے تحاشا سرمایہ کاری کی گئی ہے، اس کو سنبھالنے کے لیے قزلباش کے کئی فرنٹ مین متحرک ہیں۔ ان میں سرفہرست نصیب اللہ شادیزئی ملیزئی ہے، جس کے ذریعے ٹویوٹا شورم کوئٹہ اور اسلام آباد کے بلیو ایریا میں 8 ارب روپے کا قیمتی پلاٹ اور متعدد پلازے خریدے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی دیگر کئی افراد لوٹ مار کے اس کھیل میں بطور فرنٹ مین اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور ان کے پاس اربوں روپے کا سرمایہ موجود ہے۔محمود قزلباش کے جرائم، ڈکیتیوں اور قتل و غارت گری کی فہرست اتنی طویل ہے کہ اسے مکمل تحریر کرنے میں کئی مہینے درکار ہوں گے۔ آخر میں یہ حقیقت واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ محمود قزلباش ایسا منصوبہ ساز شخص ہے جو کبھی سامنے آ کر میدان میں نہیں لڑے گا، بلکہ ہمیشہ دوسروں کو آگے کر کے اپنے مفادات کے لیے لڑوائے گا۔ اب جس فاتحہ کے موقع پر ویران نے باتیں کی ہیں، وہ تمام لوگ ہمارے اپنے قریبی رشتہ دار ہیں اور وہ قزلباش کے ہر سازشی منصوبے اور مکروہ ہتھکنڈوں سے مکمل طور پر واقف ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں