17

سیلاب اور غریب عوام تحریر: سماویہ اعظم

معصوم بستیوں کو سمندر نگل گیا
سیلاب کا بھی زور غریبوں پہ چل گیا
(شہزاد قیس)
پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں قدرتی آفات بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بنتی ہیں۔ کبھی زلزلے تو کبھی سیلاب ہر سال کوئی نہ کوئی آزمائش ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ سیلاب ہر سال ہزاروں افراد کی زندگیوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس تباہی کا سب سے بڑا بوجھ ہمیشہ غریب عوام کے کندھوں پر پڑتا ہے۔ وہ لوگ پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنی بنیادی ضروریاتِ زندگی سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ ان کے پاس نہ کھانے کے لیے روٹی، نہ پہننے کے لیے کپڑے اور نہ ہی رہنے کے لیے چھت باقی رہتی ہے۔ دریا کنارے آباد کچی بستیاں اور نشیبی علاقے سب سے پہلے خطرے کی زد میں آتے ہیں۔ حفاظتی اقدامات اپنی جگہ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہزاروں خاندان ایسے ہیں جن کے پاس محفوظ مقام پر منتقل ہونے کے وسائل ہی موجود نہیں ہوتے۔ وہ اپنے مال مویشی، گھروں اور تھوڑی بہت جمع پونجی کو چھوڑ کر کہاں جائیں؟ جب پانی بستیوں میں داخل ہوتا ہے تو سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ سیلاب کی تباہ کاری کے اثرات کئی سالوں تک رہتے ہیں۔ غریب کسان اور مزدور طبقے کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے۔ قدرتی آفت ہزاروں خاندانوں کو غربت کی مزید گہری دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ آفات کے بعد امدادی سرگرمیوں کی خبریں تو بہت عام ہوتی ہیں مگر ضرورت مند تک ہر چیز بروقت نہیں پہنچ پاتی۔ کہیں سڑکیں ٹوٹ جاتی ہیں، کہیں انتظامی کمزوریاں آڑے آتی ہیں اور کہیں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم مسائل کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ غریب لوگ پہلے ہی محرومی کا شکار ہوتے ہیں، امداد کے انتظار میں کئی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے بچوں، خواتین اور بزرگوں کی مشکلات الگ نوعیت کی ہوتی ہیں۔ بچے آلودہ پانی پینے سے مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ حاملہ خواتین کو طبی سہولیات نہ ہونے کے باعث شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں جب کہ بزرگ افراد کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ عارضی کیمپوں میں زندگی گزارنا بھی آسان نہیں ہوتا۔ گرمی، مچھر، صاف پانی کی کمی اور بیماریوں کا خطرہ متاثرہ خاندانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیتا ہے۔ ان حالات میں غریب آدمی صرف اپنے گھر کا نقصان ہی نہیں اٹھاتا بل کہ مستقبل کے بارے میں بھی شدید پریشان ہوتا ہے۔ قدرتی آفات کو روکا نہیں جا سکتا لیکن ان سے ہونے والے نقصانات ضرور کم کیے جا سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر توجہ تب دی جاتی ہے جب پانی آبادیوں میں داخل ہو جاتا ہے۔ اگر پہلے سے منصوبہ بندی اور حفاظتی اقدامات پر کام کیا جائے تو بہت سی قیمتی جانیں اور اربوں روپے کے نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔ متاثرین کی بروقت مدد نہ صرف ان کی مشکلات میں کمی لاتی ہے بل کہ معاشرے میں اخوت اور یک جہتی کو بھی فروغ دیتی ہے۔ سیلاب لوگوں کی زندگیوں میں بے شمار مشکلات پیدا کرتا ہے۔ جب پانی آبادیوں میں داخل ہوتا ہے تو صرف گھر ہی تباہ نہیں ہوتے بل کہ لوگوں کا روزگار بھی شدید خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ ایک غریب خاندان جو کئی برسوں کی محنت سے اپنا گھر بناتا ہے، دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ سیلاب کی نذر ہو جاتا ہے۔ اس نقصان کی تلافی کسی ایک امدادی پیکج سے ممکن نہیں ہے۔ دیہی علاقوں میں رہنے والے زیادہ تر افراد کا انحصار زراعت اور مال مویشی پر ہوتا ہے۔ سیلاب سے فصلوں کا ہی نقصان نہیں ہوتا بل کہ کسان آئندہ کئی مہینوں کی آمدنی سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔ قرض کے سہارے کاشت کاری کرنے والے کسان کو مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے اس کی معاشی حالت مزید کم زور ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیلاب کے بعد بہت سے خاندان غربت کی چکی میں پس جاتے ہیں۔ شہری علاقوں میں بھی صورت حال زیادہ مختلف نہیں ہوتی۔ روزانہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور اگر کئی دن تک کام پر نہ جا سکے تو اس کے گھر کا چولہا ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ رکشہ چلانے والا، ریڑھی لگانے والا یا محنت مزدوری کرنے والا شخص اپنی روزانہ کی آمدنی سے ہی گھر چلاتا ہے۔ چند دن کی بندش بھی اس کے لیے شدید مالی بحران پیدا کر دیتی ہے۔ ایسے لوگ بینک بیلنس کے مالک نہیں ہوتے اس لیے ہر نئی مصیبت انھیں پہلے سے زیادہ کم زور کر دیتی ہے۔ تعلیمی نظام بھی سیلاب سے بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ کئی بچے سیلاب کی وجہ سے دوبارہ اسکول نہیں جا پاتے۔ صحت کے مسائل بھی تیزی سے بڑھنے لگتے ہیں۔ آلودہ پانی کے استعمال سے ہیضہ، ٹائیفائیڈ، جلدی امراض اور دیگر متعدی بیماریاں پھیلنے لگتی ہیں۔ غریب آدمی نجی اسپتال کا خرچ برداشت نہیں کر سکتا جب کہ سرکاری طبی مراکز پہلے ہی محدود وسائل کے باعث دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ بات سچ ہے کہ مشکل گھڑی میں پاکستانی قوم نے ہمیشہ ایثار اور ہمدردی کی مثال قائم کی ہے۔ نوجوان، سماجی تنظیمیں، فلاحی ادارے اور عام شہری متاثرین کی مدد کے لیے تیار رہتے ہیں۔ کوئی کھانا تقسیم کرتا ہے، کوئی کپڑے فراہم کرتا ہے اور کوئی طبی امداد پہنچاتا ہے۔ یہ جذبہ قابلِ ستائش ہے مگر صرف وقتی امداد کافی نہیں۔ حکومت، متعلقہ اداروں اور انتظامیہ کو چاہیے کہ سیلاب سے پہلے حفاظتی اقدامات کیے جائیں، غیر قانونی تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے اور موسمی پیش گوئی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ اگر منصوبہ بندی بروقت ہو تو نقصان کی شدت کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امدادی سامان کی تقسیم اور متاثرین کی جلد بحالی بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے۔ جب تک ہم قدرتی وسائل کے تحفظ، ماحول کی بہتری، شجرکاری پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دیں گے تب تک ہر سال یہی منظر دیکھنے کو ملے گا۔ احتیاط، منصوبہ بندی اور اجتماعی ذمہ داری ہی وہ راستہ ہے جو اس نقصان کو کم کر سکتا ہے۔ سیلاب کے نقصانات کو کم کرنے کے لیے ایسی قومی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جس میں جدید ٹیکنالوجی اور عوامی تعاون کو یکجا کیا جائے۔ جنگلات کی کٹائی اور آلودگی نے قدرتی نظام کو متاثر کیا ہے۔ اگر ہم قدرتی آفات سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں، جنگلات کی حفاظت کریں اور قوانین پر عمل کریں۔ ذرائع ابلاغ کا کردار بھی اس سلسلے میں نہایت اہم ہے۔ غلط خبریں لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کرتی ہیں جب کہ درست معلومات جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ تعلیمی اداروں کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔ اسکولوں اور کالجوں میں طلبہ کو قدرتی آفات سے نمٹنے کی بنیادی تربیت دی جائے تاکہ وہ ہنگامی حالات میں گھبرانے کے بجائے مناسب فیصلے کر سکیں۔ سیلاب کے خطرات کم کرنے کے لیے مقامی رضاکاروں کی تربیت اور ریسکیو مشقیں بھی بہت ضروری ہیں۔ ایک باشعور قوم ہی ان آزمائشوں کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکتی ہے۔ اگر ہم نالیوں میں کچرا پھینکنے سے گریز کریں، صفائی کا خیال رکھیں، درخت لگائیں، ادویات یا مالی امداد کے ذریعے متاثرین کی مدد کریں تو یہ اقدامات مثبت نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔ مصیبت کی گھڑی میں دوسروں کا سہارا بننا صرف سماجی ذمہ داری ہی نہیں بل کہ ایک اخلاقی فریضہ بھی ہے۔ اگر حکومت، ادارے، سماجی تنظیمیں اور شہری اپنی اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کریں تو سیلاب جیسی آفات کے نقصانات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے
(علامہ محمد اقبال)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں