تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف معیشت، سیاست یا طاقت سے زندہ نہیں رہتیں بلکہ ان لوگوں کی قربانیوں سے قائم رہتی ہیں جو اپنے وطن، اپنے دین اور اپنے عوام کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر کھڑے ہوتے ہیں۔ پاکستان کی افواج اور دیگر سکیورٹی اداروں کے جوان بھی انہی لوگوں میں شامل ہیں جو دن ہو یا رات، گرمی ہو یا برف باری، سرحدوں پر بیدار رہتے ہیں تاکہ قوم سکون کی نیند سو سکے۔ ان میں سے بے شمار سپاہی وطن کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں اور اپنے خون سے سرحدوں کی حفاظت کی تاریخ رقم کرتے ہیں۔
حالیہ دنوں ایک ایسا بیان سامنے آیا جس میں یہ تاثر دیا گیا کہ چونکہ فوجی عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہ لیتے ہیں، اس لیے وطن کے دفاع میں جان دینے والے شہید نہیں کہلا سکتے۔ یہ رائے نہ صرف امت کے اجتماعی احساسات سے متصادم ہے بلکہ قرآن و سنت اور اسلامی تاریخ کے تناظر میں بھی قابلِ غور ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
“اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں، انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تم شعور نہیں رکھتے۔”
(سورۃ البقرہ: 154)
اسی مضمون کو سورۃ آل عمران (169 تا 171) میں مزید وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے راہِ حق میں جان قربان کرنے والوں کی عظمت اور ان کے بلند مقام کا ذکر فرمایا ہے۔ قرآن مجید میں کہیں بھی یہ شرط موجود نہیں کہ شہادت صرف اسی شخص کو ملے گی جس نے اپنی خدمت کے بدلے کوئی معاوضہ یا تنخواہ نہ لی ہو۔
اسلامی تاریخ بھی اس حقیقت کی روشن دلیل ہے۔ عہدِ نبوی ﷺ اور خلافتِ راشدہ میں اسلامی ریاست اپنے مجاہدین کی کفالت کرتی تھی۔ انہیں بیت المال سے وظائف ملتے تھے، ان کے اہلِ خانہ کی ذمہ داری ریاست اٹھاتی تھی، اور میدانِ جنگ میں کامیابی کی صورت میں مالِ غنیمت میں ان کا مقررہ حصہ بھی دیا جاتا تھا۔ اس کے باوجود جو راہِ حق میں جان قربان کرتے، انہیں شہداء کہا جاتا، اور جو زندہ واپس آتے وہ غازی کہلاتے تھے۔ اگر تنخواہ یا مالی معاونت شہادت کے منافی ہوتی تو اسلامی تاریخ میں شہداء اور غازیوں کا پورا تصور ہی باقی نہ رہتا۔
یہی اصول دیگر شعبہ ہائے زندگی پر بھی منطبق ہوتا ہے۔ مساجد کے ائمہ کرام تنخواہ لیتے ہیں، مدارس کے اساتذہ، قراء اور علماء بھی اپنی خدمات کے عوض معاوضہ وصول کرتے ہیں۔ کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ ثواب سے محروم ہیں؟ اگر کوئی امام مسجد نماز پڑھاتے ہوئے یا کوئی قاری قرآن مجید کی تعلیم دیتے ہوئے جان کی بازی ہار جائے تو کیا صرف اس وجہ سے کہ وہ تنخواہ لیتا تھا، اس کے اجر و مقام پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے؟ یقیناً ایسا استدلال نہ قرآن سے ثابت ہے، نہ سنت سے اور نہ ہی امت کے تعامل سے۔
حقیقت یہ ہے کہ تنخواہ لینا ایک ملازمت کا انتظامی پہلو ہے، نہ کہ کسی خدمت کی عظمت یا اس کے اجر کا معیار۔ ملک کا ہر سرکاری ملازم، استاد، ڈاکٹر، جج، پولیس اہلکار اور امام مسجد کسی نہ کسی شکل میں معاوضہ وصول کرتا ہے۔ لیکن ان تمام شعبوں میں سب سے کٹھن اور جان جوکھوں کا فریضہ افواجِ پاکستان اور دیگر سکیورٹی اداروں کے جوان ادا کرتے ہیں، جو ہر لمحہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر قوم کی حفاظت کرتے ہیں۔
علماء کرام امت کے رہبر اور فکری راہنما ہوتے ہیں۔ ان کے ایک ایک لفظ کا اثر لاکھوں دلوں پر پڑتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ایسے حساس معاملات میں ایسے الفاظ اختیار کیے جائیں جو امت میں اتحاد، احترام اور اعتدال کو فروغ دیں، نہ کہ ایسے سوالات کو جنم دیں جو قوم کے محافظوں کی قربانیوں کو مشکوک بنا دیں۔
اختلافِ رائے ہر دور میں رہا ہے اور رہے گا، لیکن ایسا اختلاف جو قوم کے اجتماعی حوصلے، قربانی کے جذبے اور شہداء کے احترام کو متاثر کرے، اس پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ اہلِ علم قرآن و سنت، امت کے تعامل اور اسلامی تاریخ کی روشنی میں اس مسئلے پر ایسی رہنمائی فراہم کریں گے جو امت کو جوڑنے کا سبب بنے، تقسیم کا نہیں۔
پاکستان کے محافظوں کی قربانیوں کا اعتراف کرنا صرف قومی ذمہ داری نہیں بلکہ اخلاقی تقاضا بھی ہے۔ جو لوگ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے قوم کے مستقبل کو محفوظ بناتے ہیں، ان کے بارے میں گفتگو کرتے وقت ہمیں انتہائی احتیاط، انصاف اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔











