8

رین واٹر ہارویسٹنگ (Rainwater Harvesting) :حمید علی

پانی قدرت کا وہ انمول تحفہ ہے جس کے بغیر زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں۔ انسان ہو، حیوان ہو، نباتات ہوں یا صنعت و زراعت، ہر شعبہ پانی کا محتاج ہے۔ بدقسمتی سے آج دنیا کے کئی ممالک پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں اور پاکستان بھی انہی ممالک کی صف میں تیزی سے شامل ہوتا جا رہا ہے۔ ماہرین برسوں سے خبردار کر رہے ہیں کہ اگر پانی کے ضیاع کو نہ روکا گیا اور زیرِ زمین پانی کو دوبارہ بھرنے کے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کو پانی کی ایک ایک بوند کے لیے ترسنا پڑ سکتا ہے۔

پاکستان میں ہر سال مون سون کے دوران اربوں گیلن بارش کا پانی برستا ہے، مگر افسوس کہ اس قیمتی نعمت کا بیشتر حصہ نالوں، دریاؤں اور بالآخر سمندر کی نذر ہو جاتا ہے۔ اگر یہی پانی سائنسی انداز میں محفوظ کیا جائے تو نہ صرف زیرِ زمین پانی کی سطح بلند ہو سکتی ہے بلکہ مستقبل میں پانی کے بحران پر بھی بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔

ترقی یافتہ ممالک نے اس مسئلے کی سنگینی کو بہت پہلے سمجھ لیا تھا۔ آسٹریلیا، جرمنی، جاپان، سنگاپور اور دیگر کئی ممالک میں رین واٹر ہارویسٹنگ (Rainwater Harvesting) کا نظام عام ہے۔ گھروں، تعلیمی اداروں، سرکاری عمارتوں، کارخانوں اور عوامی مقامات پر بارش کے پانی کو خصوصی ٹینکوں، کنوؤں اور ریچارج ویلز کے ذریعے محفوظ کیا جاتا ہے۔ اس پانی کا ایک حصہ مختلف ضروریات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جب کہ دوسرا حصہ زمین میں جذب کر کے زیرِ زمین آبی ذخائر کو دوبارہ بھرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میں پانی کا بحران نسبتاً کم ہے اور زیرِ زمین پانی کی سطح بھی متوازن رہتی ہے۔

اس کے برعکس پاکستان میں صورتحال نہایت تشویش ناک ہے۔ ایک طرف ٹیوب ویلز کے ذریعے مسلسل زیرِ زمین پانی نکالا جا رہا ہے، دوسری طرف بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کا کوئی مؤثر قومی نظام موجود نہیں۔ شہروں میں سڑکیں چند گھنٹوں کی بارش سے تالاب بن جاتی ہیں، لیکن یہی پانی چند لمحوں بعد سیوریج کے راستے ضائع ہو جاتا ہے۔ دیہی علاقوں میں بھی یہی کیفیت دکھائی دیتی ہے۔ اگر یہ پانی زمین میں واپس پہنچانے کے لیے مناسب انتظامات کیے جائیں تو زیرِ زمین پانی کی سطح میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔

حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک گیر سطح پر رین واٹر ہارویسٹنگ کو قومی پالیسی کا حصہ بنائے۔ نئی تعمیر ہونے والی رہائشی کالونیوں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں، پلازوں اور سرکاری عمارتوں میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کا نظام لازمی قرار دیا جائے۔ پارکوں، میدانوں اور کھلی جگہوں پر ایسے ریچارج پٹس، کنویں اور چھوٹے ذخیرہ جاتی گڑھے بنائے جائیں جن کے ذریعے بارش کا پانی زمین میں جذب ہو سکے۔ یہ منصوبے بہت زیادہ مہنگے نہیں، مگر ان کے فوائد کئی نسلوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

صرف حکومت ہی نہیں بلکہ مقامی حکومتوں، بلدیاتی اداروں، تعلیمی اداروں اور نجی شعبے کو بھی اس قومی ذمہ داری میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ مساجد، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور سرکاری دفاتر کی چھتوں سے آنے والے بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے سادہ اور کم لاگت نظام نصب کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ عوام میں شعور بیدار کرنا بھی ناگزیر ہے تاکہ ہر شہری پانی کی اہمیت کو سمجھے اور اس کے تحفظ میں اپنا حصہ ڈالے۔

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ کہیں خشک سالی ہے تو کہیں اچانک شدید بارشیں اور سیلاب۔ اگر بارش کے اضافی پانی کو محفوظ کرنے کا مناسب انتظام موجود ہو تو ایک طرف سیلابی پانی کے نقصانات کم کیے جا سکتے ہیں اور دوسری طرف یہی پانی مستقبل کی ضروریات کے لیے کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ اس طرح ایک مسئلے کو موقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

زرعی شعبہ، جو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، بھی پانی کی کمی سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ زیرِ زمین پانی کی مسلسل گرتی ہوئی سطح نے کسانوں کے لیے آب پاشی کو مہنگا اور دشوار بنا دیا ہے۔ اگر بارش کے پانی کو زمین میں واپس پہنچایا جائے تو نہ صرف آبی ذخائر بحال ہوں گے بلکہ زرعی پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا، جس سے قومی معیشت کو تقویت ملے گی۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر منصوبے اس وقت بنتے ہیں جب حالات قابو سے باہر ہو چکے ہوتے ہیں۔ پانی کے معاملے میں بھی اگر یہی روش برقرار رہی تو مستقبل مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ وقتی بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کیے جائیں۔ ہر ضلع، ہر شہر اور ہر قصبے میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی جائے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔

پانی کو صرف ایک قدرتی نعمت نہیں بلکہ قومی امانت سمجھیں۔ اگر آج ہم نے بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، ریچارج ویلز بنانے، چھوٹے ذخیرہ جاتی گڑھے تعمیر کرنے اور زیرِ زمین پانی کو دوبارہ بھرنے کی طرف سنجیدگی سے توجہ نہ دی تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ ترقی یافتہ اقوام نے اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے جو راستہ اختیار کیا ہے، ہمیں بھی اسی شعور اور عزم کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ پانی بچانا دراصل زندگی بچانا ہے، اور یہی وہ سرمایہ ہے جس کی حفاظت آج کی سب سے بڑی قومی ذمہ داری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں