بعض کہاوتیں صرف زبان کی زینت نہیں ہوتیں، وہ نسلوں کے تجربات، آنکھوں سے بہے آنسوؤں اور سینوں میں دفن ہزاروں کہانیوں کا نچوڑ ہوتی ہیں۔ پنجابی کی ایک ایسی ہی دل گداز ضرب المثل ہے: “روٹی بندہ کھا جاندی اے۔” بظاہر یہ جملہ حقیقت کے الٹ دکھائی دیتا ہے، مگر جب زندگی کی دھوپ میں جلنے والے چہروں کو دیکھا جائے، وقت سے پہلے سفید ہوتے بالوں پر نظر پڑے اور ذمہ داریوں کے بوجھ تلے جھکتے کندھوں کو محسوس کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ واقعی بعض اوقات روٹی انسان نہیں کھاتا، روٹی انسان کو کھا جاتی ہے۔
ہر صبح جب ایک باپ اپنے بچوں کے ماتھے کو چوم کر گھر سے نکلتا ہے تو وہ صرف روزگار کی تلاش میں نہیں جاتا، بل کہ اپنے ساتھ گھر بھر کی امیدیں، دعائیں اور ضروریات بھی اٹھائے چل پڑتا ہے۔ اس کے قدموں میں بچوں کی تعلیم، والدین کی دوائیں، بہن کی شادی، بیٹے کے خواب، بیٹی کی مسکراہٹ اور گھر کے چولہے کی حرارت بندھی ہوتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر اس کے قدم رک گئے تو کئی خواب بھی رک جائیں گے۔ اس لیے وہ چلتا رہتا ہے… تھکتا ہے، گرتا ہے، سنبھلتا ہے، مگر رکتا نہیں۔
زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ انسان تھک جاتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کی تھکن کو کوئی دیکھتا نہیں۔ لوگ اس کی لائی ہوئی روٹی تو دیکھتے ہیں، مگر اس روٹی کے پیچھے بہنے والا پسینہ، ٹوٹتی ہوئی ہڈیاں، ادھوری نیندیں اور دبے ہوئے ارمان نہیں دیکھتے۔ وہ مسکراتا ضرور ہے، مگر اس کی مسکراہٹ کے پیچھے کتنی فکر، کتنی بے بسی اور کتنی خاموش اذیت چھپی ہوتی ہے، اس کا اندازہ شاید اسے بھی نہیں ہوتا جو اس کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
دیارِ غیر میں محنت کرنے والے مزدوروں کی زندگی اس کہاوت کی سب سے بڑی تفسیر ہے۔ وہ برسوں اپنے بچوں کو سینے سے نہیں لگا پاتے، والدین کی عیادت نہیں کر پاتے، اپنوں کے دکھ سکھ میں شریک نہیں ہو پاتے۔ ان کے لیے ہر تہوار ایک عام دن بن جاتا ہے اور ہر خوشی ایک ادھوری خواہش۔ وہ صرف اس لیے سب کچھ برداشت کرتے ہیں کہ ان کے اپنے کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائیں۔ ان کی جوانی پردیس کی خاک میں گم ہو جاتی ہے، مگر گھر کے دروازے پر خوش حالی کی دستک سنائی دیتی ہے۔
یہ صرف مزدور کی کہانی نہیں، ہر اُس انسان کی داستان ہے جو ذمہ داریوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہے۔ کوئی فیکٹری کی مشینوں کے شور میں اپنی سماعت کھو دیتا ہے، کوئی دھوپ میں اینٹیں اٹھاتے اٹھاتے اپنے جسم کی طاقت ہار دیتا ہے، کوئی دفتر کی کرسی پر بیٹھے بیٹھے اپنی صحت گنوا دیتا ہے، تو کوئی سڑکوں پر گاڑی چلاتے چلاتے اپنی آنکھوں کی چمک کھو بیٹھتا ہے۔ ہر شخص کی قربانی کا رنگ الگ ہے، مگر درد ایک ہی ہے۔
وقت بڑا بے رحم ہے۔ جب تک انسان کما رہا ہوتا ہے، وہ سب کی ضرورت ہوتا ہے۔ مگر جب اس کے ہاتھ لرزنے لگتے ہیں، آنکھوں کی روشنی مدھم پڑنے لگتی ہے اور قدم ساتھ چھوڑنے لگتے ہیں تو اکثر وہی شخص، جس نے ساری زندگی دوسروں کے لیے جینا سیکھا، خود تنہائی کا مسافر بن جاتا ہے۔ اس کے سینے میں دفن قربانیوں کی کتاب شاید ہی کوئی کھول کر پڑھتا ہو۔
سب سے زیادہ یہ حقیقت ایک باپ کی زندگی میں دکھائی دیتی ہے۔ وہ اپنی خواہشوں کا گلا گھونٹ کر اولاد کے خوابوں کو زندگی دیتا ہے۔ اس کی جیب خالی ہو سکتی ہے، مگر وہ بچوں کی خواہش خالی نہیں لوٹنے دیتا۔ وہ پرانے کپڑوں میں برس گزار دیتا ہے، مگر اولاد کے لیے نئے لباس ضرور لے آتا ہے۔ وہ اپنی بیماری چھپا لیتا ہے تاکہ بچوں کی پڑھائی متاثر نہ ہو۔ اس کے چہرے کی جھریاں عمر کی نہیں، ذمہ داریوں کی لکیر ہوتی ہیں۔
لیکن افسوس! ہم اکثر اس وقت جاگتے ہیں جب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ جب وہ مضبوط ہاتھ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتے ہیں، جب وہ دروازہ جس سے رزق اندر آتا تھا ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتا ہے، تب احساس ہوتا ہے کہ گھر کا سب سے قیمتی سرمایہ دولت نہیں، وہ انسان تھا جو اپنی زندگی جلا کر ہمارے لیے آسانیاں پیدا کرتا رہا۔
یہ کہاوت ہمیں صرف محنت کی تلقین نہیں کرتی، بل کہ احساس کی دعوت بھی دیتی ہے۔ یہ سکھاتی ہے کہ اپنے گھر کے کمانے والے فرد کی عزت کیجیے، اس کی تھکن کو سمجھیے، اس کے خاموش دکھ کو محسوس کیجیے، اس کے لیے آسانی پیدا کیجیے اور اسے یہ احساس دلائیے کہ وہ صرف ذمہ داری اٹھانے والی مشین نہیں، بلکہ جذبات رکھنے والا ایک انسان بھی ہے۔
“روٹی بندہ کھا جاندی اے” دراصل زندگی کا وہ آئینہ ہے جس میں ہر محنت کش اپنا عکس دیکھ سکتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ رزق کمانے والے ہاتھ صرف گھر نہیں چلاتے، وہ اپنے وجود کو آہستہ آہستہ چراغ کی طرح جلاتے بھی رہتے ہیں۔ اس لیے ان ہاتھوں کی حرمت پہچانیے، ان کے ماتھے کے پسینے کا احترام کیجیے اور ان کے وجود کی قدر کیجیے، کیوں کہ بعض انسان مرنے کے بعد دفن نہیں ہوتے، وہ تو برسوں پہلے ہی اپنی ذمہ داریوں کی بھٹی میں جل کر راکھ ہو چکے ہوتے ہیں، صرف سانس لینا باقی رہ جاتا ہے۔











