قومیں صرف سرحدوں، جھنڈوں اور قومی ترانوں سے زندہ نہیں رہتیں، بل کہ ان کی حقیقی زندگی ان کی خود داری، خود مختاری اور آزاد فیصلوں میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب کسی قوم کے فیصلے اس کے اپنے ہاتھ سے نکل جائیں، اس کی معیشت دوسروں کی دہلیز کی محتاج ہو جائے، اس کی سیاست بیرونی اشاروں پر چلنے لگے اور اس کی فکری سمت بھی مستعار ہو جائے تو وہ بظاہر زندہ ضرور دکھائی دیتی ہے، مگر اس کی روح غلامی کی زنجیروں میں قید ہو چکی ہوتی ہے۔
تاریخ کے اوراق اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتے ہیں کہ دنیا میں عزت، وقار اور ترقی صرف انہی قوموں کے حصے میں آئی جنہوں نے غلامی کو اپنی تقدیر ماننے سے انکار کیا۔ جنہوں نے مشکلات کا سامنا کیا، قربانیاں دیں، بھوک اور تنگ دستی برداشت کی، مگر اپنی آزادی، خود داری اور قومی وقار کا سودا نہ کیا۔ آزادی کبھی تحفے میں نہیں ملتی، بل کہ کردار، قربانی اور استقامت کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے۔
غلامی صرف کسی غیر ملکی فوج کے قبضے کا نام نہیں۔ سب سے خطرناک غلامی ذہنوں کی غلامی ہوتی ہے۔ جب سوچنے کا اختیار بھی دوسروں کے پاس چلا جائے، جب اپنی رائے کی جگہ دوسروں کی خواہشات لے لیں، جب قومی مفاد کو بیرونی مفاد پر قربان کرنا معمول بن جائے، تو ایسی غلامی نسلوں کے مستقبل کو تاریک کر دیتی ہے۔ ایسی قومیں دوسروں کی تاریخ لکھتی رہتی ہیں، اپنی تاریخ بنانے کی صلاحیت کھو بیٹھتی ہیں۔
برصغیر کے مسلمانوں نے پاکستان کا خواب اسی لیے دیکھا تھا کہ وہ آزادی کے ساتھ اپنی تہذیب، اپنے دین، اپنی اقدار اور اپنی قومی شناخت کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں لاکھوں لوگوں نے جان و مال کی قربانیاں دیں۔ کتنے ہی خاندان اجڑ گئے، کتنی ہی مائیں اپنے لختِ جگر سے محروم ہوئیں اور کتنی ہی بیٹیوں نے ناقابلِ بیان مصائب برداشت کیے، مگر آزادی کی شمع بجھنے نہ دی۔ وہ ایک ایسا پاکستان چاہتے تھے جہاں فیصلے اسلام، آئین اور قومی مفاد کے مطابق ہوں، نہ کہ بیرونی دباؤ کے زیرِ اثر۔
افسوس کہ آزادی کے بعد ہم نے کئی مواقع پر خود انحصاری کے بجائے دوسروں کے سہاروں کو ترجیح دی۔ قرضوں کی معیشت، سیاسی مصلحتیں اور وقتی مفادات نے ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کیا جہاں خود مختاری کا تصور بھی کئی بار آزمائش میں دکھائی دیتا ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ جو قوم اپنے وسائل پر اعتماد نہیں کرتی، دنیا بھی اس پر اعتماد نہیں کرتی۔
پاکستان بے شمار نعمتوں سے مالا مال ہے۔ زرخیز زمین، قدرتی وسائل، نوجوان آبادی، مضبوط نظریاتی بنیاد اور بے پناہ صلاحیت رکھنے والے افراد اس ملک کا سرمایہ ہیں۔ اگر یہی قوم تعلیم، تحقیق، دیانت، محنت اور میرٹ کو اپنا شعار بنا لے تو اسے کسی کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ قوموں کی تقدیر قرضوں سے نہیں، بل کہ کردار، علم اور خود اعتمادی سے بدلتی ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم غلامانہ ذہنیت سے نجات حاصل کریں۔ اپنی زبان، اپنی تہذیب، اپنی قومی شناخت اور اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھیں۔ دنیا سے تعلقات ضرور قائم کریں، تجربات سے سیکھیں، مگر اپنے قومی وقار اور خود مختاری پر کبھی سمجھوتہ نہ کریں۔ عزت ہمیشہ برابری کی بنیاد پر تعلقات میں ہوتی ہے، محتاجی میں نہیں۔
ریاست کی آزادی کا تحفظ صرف حکمرانوں کی ذمہ داری نہیں، بل کہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ جب تک عوام قانون کا احترام، دیانت داری، محنت اور قومی مفاد کو اپنی زندگی کا حصہ نہیں بنائیں گے، اس وقت تک محض نعروں سے حالات تبدیل نہیں ہوں گے۔ قومیں تقریروں سے نہیں، کردار سے بنتی ہیں۔
تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ ایک ہی رہا ہے۔ غلام قومیں دوسروں کے نقشِ قدم پر چلتے چلتے مٹ جاتی ہیں، جب کہ خود دار قومیں اپنے نقشِ قدم چھوڑ جاتی ہیں۔ پاکستان بھی اسی دن حقیقی معنوں میں ترقی کرے گا جب ہم ذہنی، معاشی اور سیاسی غلامی کی ہر زنجیر توڑ کر خود اعتمادی، خود انحصاری اور قومی وقار کو اپنی شناخت بنا لیں گے۔ یہی آزادی کا اصل مفہوم ہے، یہی بانیانِ پاکستان کی امنگ تھی اور یہی آنے والی نسلوں کے محفوظ، خود مختار اور روشن مستقبل کی ضمانت بھی۔











