10

وقارِ حیات اور بیداریِ ضمیر:احمدخان اچکزئی

محترم قارئین، زندگی کی اصل عظمت عمر کے بڑھتے ہوئے ہندسوں میں نہیں بلکہ اس شعور میں پوشیدہ ہے جو انسان کو ہر نئے دن کے ساتھ مزید پختہ، باوِقار، مفید اور بااثر بناتا ہے۔ وقت جسم پر اپنی تحریر ضرور لکھتا ہے، مگر ارادہ، فکر، کردار اور امید اگر زندہ رہیں تو انسان کبھی حقیقی معنوں میں بوڑھا نہیں ہوتا۔ حقیقت یہی ہے کہ بڑھاپا ایک جسمانی مرحلہ ہے، ذہنی یا روحانی شکست نہیں۔ جو انسان زندگی کو مسلسل سیکھنے، دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے، تعلقات کو محبت سے سینچنے، مقصد کے ساتھ جینے اور اپنے رب کی عطاء کردہ نعمتوں پر شکر گزار رہنے کا ہنر سیکھ لیتا ہے، وہ زمانے کے بدلتے موسموں میں بھی اپنی تازگی برقرار رکھتا ہے۔ ایسے انسان اپنی شناخت آسائشوں، شہرت یا دولت سے نہیں بلکہ کردار کی خوشبو، اخلاق کی روشنی، عمل کی صداقت اور دل کی وسعت سے قائم کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اصل کامیابی لمبی زندگی نہیں بلکہ بامقصد زندگی ہے، کیونکہ مقصد کے بغیر گزرا ہوا ہر دن عمر میں اضافہ تو کرتا ہے مگر شخصیت میں نہیں۔ یہی شعور انسان کو مسلسل متحرک رکھتا ہے؛ وہ چلنے کو صحت، مطالعے کو ذہنی غذا، خدمت کو عبادت، مسکراہٹ کو صدقہ، دوستی کو سرمایہ، خاندان کو قوت، شکرگزاری کو سکون اور امید کو زندگی کی حقیقی توانائی سمجھتا ہے۔ ایسے افراد بیماری کو شکست نہیں بلکہ آزمائش، مشکلات کو رکاوٹ نہیں بلکہ تربیت، اور بڑھتی ہوئی عمر کو زوال نہیں بلکہ تجربے کی دولت تصور کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک خوشی کا تعلق وسائل کی فراوانی سے نہیں بلکہ قناعت، محبت، حسنِ اخلاق اور باطن کی آسودگی سے ہوتا ہے، اسی لیے وہ چھوٹی چھوٹی نعمتوں میں بھی عظیم مسرت تلاش کر لیتے ہیں، ایک اچھی گفتگو، کسی دوست کی ملاقات، اہلِ خانہ کی مسکراہٹ، ایک کتاب، ایک دعا، ایک سفر، بارش کی خوشبو یا صبح کی پہلی کرن بھی ان کے لیے زندگی کے جشن کا حصہ بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس عصرِ حاضر کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ وسائل کم ہو گئے ہیں بلکہ یہ ہے کہ احساس کی حرارت، ضمیر کی بیداری اور اخلاقی ذمہ داری کی روشنی دھندلا گئی ہے۔ مادیت کی اندھی دوڑ، لالچ کی کشش، شہرت کی ہوس، مصنوعی کامیابی کا فریب، اطلاعات کے بے ہنگم شور اور ذاتی مفاد کی نفسیات نے انسان کے اندر موجود حق و باطل کے فطری پیمانے پر گرد جما دی ہے۔ یوں انصاف کی جگہ فائدہ، دیانت کی جگہ چالاکی، قناعت کی جگہ حِرص، خدمت کی جگہ خود غرضی اور حقیقت کی جگہ نمود نے لے لی ہے۔ تاہم یہ تصور حقیقت سے بعید ہے کہ معاشرہ مکمل طور پر اخلاقی زوال کا شکار ہو چکا ہے، کیونکہ خاموشی سے اپنے فرائض ادا کرنے والے بے شمار معلم، مزدور، تاجر، والدین، نوجوان، اہلِ علم اور خدمت گزار افراد آج بھی اس تہذیبی چراغ کو روشن رکھے ہوئے ہیں جس کی لو پر معاشروں کی بقاء قائم ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے نیکی ہمیشہ خاموش اور برائی ہمیشہ شور مچاتی ہے، اسی لیے چند منفی کردار پوری سوسائٹی کا چہرہ دکھائی دینے لگتے ہیں، حالانکہ اصل طاقت انہی بے نام لوگوں میں پوشیدہ ہوتی ہے جو بغیر کسی ستائش کے سچائی، امانت، انصاف اور خیر خواہی کا راستہ اختیار کیے رکھتے ہیں۔ انسان کا ضمیر آج بھی ظلم دیکھ کر بے چین ہوتا ہے، خیانت پر شرمندگی محسوس کرتا ہے، جھوٹ سے نفرت اور سچ سے محبت رکھتا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ فطرت مری نہیں بلکہ غفلت کی دبیز تہوں میں دب گئی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام انسان کو محض عبادات نہیں بلکہ مکمل طرزِ حیات عطاء کرتا ہے، ایسا طرزِ حیات جس کی بنیاد عدل، رحم، سچائی، امانت، قناعت، شکر، خدمت، صبر، حسنِ سلوک اور اجتماعی ذمہ داری پر استوار ہے۔ جب انسان اللہ کی نگرانی کا احساس اپنے دل میں زندہ رکھتا ہے تو قانون سے بچ نکلنے کی خواہش بھی ختم ہو جاتی ہے، کیونکہ اس کا احتساب صرف معاشرہ نہیں بلکہ اس کا زندہ ضمیر بھی کرتا ہے۔ اسی احساس سے لالچ قناعت میں، خود غرضی خدمت میں، بے حسی ہمدردی میں اور ناامیدی امید میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔ معاشروں کی تعمیر بڑے نعروں، وقتی جذبات یا شور مچانے سے نہیں بلکہ گھروں میں سچ بولنے کی تربیت، رزقِ حلال کی پابندی، تعلقات میں احترام، روزمرہ معاملات میں دیانت، اختلاف میں برداشت، کمزور کی مدد، بزرگوں کی عزت، نوجوانوں کی صحیح رہنمائی اور ہر روز اپنے کردار کا محاسبہ کرنے سے ہوتی ہے۔ یہی چھوٹے چھوٹے اعمال اجتماعی تہذیب کی مضبوط بنیاد بنتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زندہ قومیں وہ نہیں ہوتیں جن کے پاس صرف بلند عمارتیں، جدید ٹیکنالوجی یا وسیع معیشت ہو بلکہ وہ ہوتی ہیں جن کے افراد کے دل احساس سے بھرپور، ضمیر بیدار، کردار دیانت دار، رشتے مضبوط، مقصد واضح اور امید زندہ ہو۔ انسان جب اپنی عمر کو بوجھ کے بجائے ذمہ داری، اپنے تجربے کو دولت، اپنے علم کو امانت، اپنے وقت کو سرمایہ، اپنے اخلاق کو شناخت اور اپنی زندگی کو خدمت کا موقع سمجھ لیتا ہے تو وہ نہ صرف خود وقار کے ساتھ جیتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی روشنی کا مینار بن جاتا ہے۔ یہی وہ زندگی ہے جو عمر کی قید سے آزاد، کردار کی خوشبو سے معطر، احساس کی گرمی سے منور، شکرگزاری کی لطافت سے سرشار اور ایمان کی قوت سے تابندہ ہوتی ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو ایک فرد کو معاشرے کا سرمایہ، ایک خاندان کو محبت کا مرکز، ایک قوم کو اخلاقی طاقت اور پوری انسانیت کو امید کا استعارہ بنا دیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں