انسان کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، مگر ان تمام نعمتوں میں سب سے قیمتی نعمت ایک زندہ ضمیر ہے۔ ضمیر وہ خاموش آواز ہے جو انسان کو نیکی اور بدی، حق اور باطل، انصاف اور ظلم کے درمیان فرق کرنا سکھاتی ہے۔ جب ضمیر زندہ ہو تو انسان تنہائی میں بھی برائی سے بچتا ہے، کیونکہ اسے صرف قانون کا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی گرفت کا بھی احساس ہوتا ہے۔ لیکن جب یہی ضمیر مفاد، لالچ، حسد اور دنیا پرستی کی دھول میں دب جائے تو پھر ظلم معمول بن جاتا ہے، جھوٹ کو مہارت سمجھا جاتا ہے، خیانت کو ذہانت کا نام دیا جاتا ہے اور حق گوئی کو بے وقوفی تصور کیا جانے لگتا ہے۔آج اگر ہم اپنے معاشرے کا غیر جانبداری سے جائزہ لیں تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہم ترقی کے نام پر بہت آگے نکل آئے ہیں، مگر اخلاقی اعتبار سے پیچھے چلے گئے ہیں۔ ہماری عمارتیں بلند ضرور ہو گئی ہیں، لیکن کردار کی بنیادیں کمزور پڑ چکی ہیں۔ تعلیم عام ہوئی ہے، مگر شعور ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ معلومات کے ذرائع بڑھ گئے ہیں، مگر سچائی کی قدر کم ہوتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں بے چینی، عدم اعتماد، نفرت اور ناانصافی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔” (سورۂ الرعد: 11)۔ یہ آیت ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ تبدیلی کا آغاز حکومتوں، اداروں یا قوانین سے پہلے انسان کے اپنے دل اور ضمیر سے ہوتا ہے۔ اگر ہر شخص خود کو درست کر لے تو پورا معاشرہ سنور سکتا ہے، لیکن اگر ہر کوئی صرف دوسروں کی اصلاح کی فکر کرے اور اپنا احتساب بھول جائے تو تبدیلی صرف ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے۔آج ہمارے ہاں ایک عام آدمی سے لے کر اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے افراد تک، ہر سطح پر یہ شکایت سننے کو ملتی ہے کہ انصاف نہیں مل رہا، میرٹ ختم ہو چکا ہے، رشوت اور سفارش نے نظام کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ کسی ایک فرد نے کیا ہے؟ نہیں، یہ اجتماعی غفلت اور سوئے ہوئے ضمیر کا نتیجہ ہے۔ جب ہم خود چھوٹے چھوٹے معاملات میں اصولوں کو نظر انداز کرتے ہیں تو پھر بڑے پیمانے پر ہونے والی بدعنوانی پر احتجاج بھی اپنی تاثیر کھو دیتا ہے۔یہ کالم کسی ایک طبقے، ادارے یا شخصیت پر تنقید نہیں بلکہ ہم سب کے لیے ایک آئینہ ہے۔ اگر ہم واقعی ایک بہتر پاکستان، ایک باوقار معاشرہ اور انصاف پر مبنی نظام چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں اپنے ضمیر کو جگانا ہوگا۔ کیونکہ زندہ ضمیر ہی وہ چراغ ہے جو اندھیروں میں راستہ دکھاتا ہے، اور اسی چراغ کی روشنی میں قومیں ترقی، عزت اور استحکام کی منزلیں طے کرتی ہیں ، ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جنہوں نے ہمارے اجتماعی ضمیر کو کمزور کر دیا ہے، اور وہ کون سے راستے ہیں جن پر چل کر ہم ایک بہتر، مہذب اور انصاف پر مبنی معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔آج ہمارا معاشرہ بے شمار مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی، رشوت، اقربا پروری، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، جھوٹ، دھوکہ دہی اور قانون شکنی جیسے مسائل روزمرہ زندگی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ ان مسائل کا تعلق صرف حکومتی نظام سے نہیں بلکہ ہماری اجتماعی سوچ اور رویوں سے بھی ہے۔ جب ایک دکاندار ناقص چیز فروخت کرتے ہوئے یہ سوچتا ہے کہ “سب ہی تو ایسا کرتے ہیں”، جب ایک سرکاری ملازم رشوت لیتے ہوئے اپنے ضمیر کی آواز کو دبا دیتا ہے، جب ایک طالب علم نقل کو کامیابی کا ذریعہ سمجھ لیتا ہے، جب ایک تاجر ناجائز منافع خوری کو کاروباری ذہانت کا نام دیتا ہے اور جب ایک شہری ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو معمولی بات سمجھتا ہے، تو درحقیقت یہ سب ایک سوئے ہوئے ضمیر کی نشانیاں ہیں۔ہم اکثر یہ کہتے ہیں کہ ملک کے حالات خراب ہیں، لیکن شاید ہی کبھی یہ سوال کرتے ہوں کہ ان حالات کو بہتر بنانے میں ہمارا اپنا کردار کیا ہے۔ معاشرے کی اصلاح صرف قانون سازی سے ممکن نہیں ہوتی، کیونکہ قانون انسان کے ہاتھ روک سکتا ہے، نیت نہیں بدل سکتا۔ نیت کو صرف ایمان، اخلاق اور زندہ ضمیر ہی بدل سکتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے ظاہری اعمال کے ساتھ ساتھ باطنی اصلاح پر بھی زور دیا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “اور نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو، اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔” یہی وہ اصول ہے جس پر ایک مہذب معاشرہ قائم ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے اردگرد ہونے والی برائیوں پر خاموش رہیں، ظالم کا ساتھ دیں یا مظلوم کی مدد نہ کریں تو ہم بھی کسی نہ کسی درجے میں اس برائی کے ذمہ دار بن جاتے ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ آج سوشل میڈیا نے جہاں آگاہی میں اضافہ کیا ہے، وہیں کردار کشی، جھوٹ، بہتان اور نفرت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ بغیر تحقیق کے خبریں شیئر کرنا، کسی کی عزت کو مجروح کرنا اور سنسنی خیزی کو سچائی پر ترجیح دینا ایک ایسا رجحان بنتا جا رہا ہے جو معاشرے کے اخلاقی ڈھانچے کو کمزور کر رہا ہے۔ ایک باشعور اور باکردار انسان وہی ہے جو ہر خبر کو تحقیق کے بعد قبول کرے اور اپنی زبان و قلم کو صرف حق کے لیے استعمال کرے۔صحافت کو معاشرے کی آنکھ کہا جاتا ہے۔ اگر یہ آنکھ حقائق کو درست انداز میں نہ دیکھے تو پورا معاشرہ گمراہی کا شکار ہو سکتا ہے۔ صحافی کا قلم صرف خبر لکھنے کا ذریعہ نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے۔ قلم کی حرمت کا تقاضا ہے کہ وہ سچائی، انصاف اور عوامی مفاد کے لیے استعمال ہو، نہ کہ ذاتی مفادات یا وقتی شہرت کے لیے۔ ایک دیانت دار قلم کبھی بھی ظلم، جھوٹ اور ناانصافی کے سامنے خاموش نہیں رہتا۔والدین، اساتذہ اور علماء کرام کی ذمہ داری بھی غیر معمولی ہے۔ اگر گھروں میں سچ بولنے کی تعلیم نہ دی جائے، اگر اسکولوں میں کردار سازی کو نظر انداز کر دیا جائے اور اگر مذہبی تعلیم صرف رسمی عبادات تک محدود ہو جائے تو نئی نسل اخلاقی بحران کا شکار ہو جاتی ہے۔ بچوں کو صرف یہ نہ سکھائیں کہ زندگی میں کامیاب کیسے ہونا ہے، بلکہ یہ بھی سکھائیں کہ کامیابی کے راستے میں دیانت، امانت اور انصاف کو کبھی قربان نہیں کرنا۔ ہمارے معاشرے میں ایک خطرناک رجحان یہ بھی پیدا ہو چکا ہے کہ ہم دوسروں کی غلطیوں پر تو فوری تنقید کرتے ہیں، مگر اپنی اصلاح کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ احتساب ہمیشہ دوسروں کا چاہتے ہیں، اپنا نہیں۔ حالانکہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ انسان ہر روز اپنے اعمال کا محاسبہ کرے۔ اگر ہر شخص سونے سے پہلے صرف چند لمحے یہ سوچ لے کہ آج اس نے کسی کا دل تو نہیں دکھایا، کسی کا حق تو نہیں مارا، کسی کے ساتھ ناانصافی تو نہیں کی، تو یقیناً معاشرہ بدلنا شروع ہو جائے گا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ قوموں کی تقدیر نوجوانوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اگر نوجوان نسل محنت، علم، کردار اور دیانت کو اپنا شعار بنا لے تو کوئی طاقت اس قوم کو ترقی سے نہیں روک سکتی۔ لیکن اگر نوجوان شارٹ کٹ، نقل، دھوکہ، جھوٹ اور غیر ذمہ داری کو اپنا لے تو مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔ اس لیے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا کے مصنوعی ہیروز کے بجائے ان شخصیات کو اپنا آئیڈیل بنائیں جنہوں نے علم، کردار اور خدمت کے ذریعے تاریخ میں اپنا مقام پیدا کیا۔ہمیں اپنے معاشرے میں چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو بھی عام کرنا ہوگا۔ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا، قطار میں اپنی باری کا انتظار کرنا، وعدہ پورا کرنا، وقت کی پابندی کرنا، صفائی کا خیال رکھنا، ضرورت مند کی مدد کرنا، یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنا، سچ بولنا اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرنا ایسے اعمال ہیں جو ایک زندہ ضمیر کی علامت ہیں۔ بڑی تبدیلی ہمیشہ چھوٹے اعمال سے شروع ہوتی ہے۔پاکستان وسائل سے مالا مال ملک ہے۔ یہاں باصلاحیت نوجوان ہیں، محنتی لوگ ہیں، بہترین تعلیمی ادارے ہیں، دین اسلام کی روشنی موجود ہے اور ایک مضبوط خاندانی نظام بھی موجود ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو ایمانداری اور دیانت کے ساتھ استعمال کریں۔ جب تک ہم اپنے مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دیتے رہیں گے، اس وقت تک مسائل ختم نہیں ہوں گے۔آج ہمیں ایک نئے عہد کی ضرورت ہے۔ ایسا عہد جس میں ہم رشوت نہ لینے اور نہ دینے کا فیصلہ کریں، جھوٹ نہ بولنے کا عزم کریں، قانون کی پابندی کو اپنی ذمہ داری سمجھیں، اپنے بچوں کو کردار کی دولت دیں، اپنے قلم کو حق کے لیے وقف کریں، اپنی تجارت کو دیانت داری سے چلائیں اور اپنے ضمیر کو ہر حال میں زندہ رکھیں۔آخر میں صرف ایک سوال چھوڑنا چاہتا ہوں۔ اگر آج ہم دنیا سے رخصت ہو جائیں تو کیا ہمارا ضمیر گواہی دے گا کہ ہم نے اپنے حصے کا حق ادا کیا؟ کیا ہم نے کسی مظلوم کا ساتھ دیا؟ کیا ہم نے کبھی کسی بے بس کی مدد کی؟ کیا ہم نے اپنے قلم، اپنے منصب، اپنی دولت یا اپنی صلاحیت کو انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کیا؟ اگر ان سوالات کے جواب اطمینان بخش نہیں تو ابھی بھی وقت ہے۔ زندگی باقی ہے، توبہ کا دروازہ کھلا ہے، اصلاح کی راہ موجود ہے اور تبدیلی کا آغاز آج، اسی لمحے سے کیا جا سکتا ہے۔یاد رکھیے قوموں کی قسمت ایوانوں سے پہلے انسانوں کے دلوں میں لکھی جاتی ہے۔ جب دل بدلتے ہیں تو معاشرے بدلتے ہیں، جب ضمیر جاگتے ہیں تو انصاف زندہ ہوتا ہے، جب انصاف زندہ ہوتا ہے تو قومیں عزت، وقار اور ترقی کی منزلیں حاصل کرتی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو ایمان کی روشنی، ہمارے ضمیر کو بیداری، ہمارے کردار کو دیانت اور ہمارے وطن کو امن، انصاف، خوشحالی اور استحکام عطا فرمائے۔ آمین۔
43











