رات کافی گزر چکی تھی۔ گھر کے سب لوگ سو رہے تھے مگر ماریہ جاگ رہی تھی۔ وہ خاموشی سے لیٹی چھت کو دیکھ رہی تھی۔ دل عجیب سا بےچین تھا۔ نہ جانے کیوں اسے بار بار وہی خواب یاد آ رہا تھا۔
فجر کی اذان ہوئی تو وہ اٹھ گئی۔ وضو کیا، نماز پڑھی اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیے۔
یا اللہ! مجھے ایک خواب بہت ڈرا رہا ہے۔ میں خواب میں امی سے کہتی ہوں کہ میں مر جاؤں گی، تو امی کہتی ہیں کہ بیٹیاں نہیں مرتیں، وہ والدین کے لیے آزمائش ہوتی ہیں۔ یا اللہ! کیا واقعی بیٹیاں صرف آزمائش ہوتی ہیں؟
نماز پڑھنے کے بعد وہ خاموشی سے کچن میں گئی۔ اس کی امی ناشتا بنا رہی تھیں۔ ماریہ نے آہستہ سے پوچھا:
امی! لوگ کہتے ہیں اللہ جس
سے محبت کرتا ہے اسے جلد اپنے پاس بلا لیتا ہے۔ کیا میں بھی جلد مر جاؤں گی؟
اس کی امی ہنس پڑیں۔
کیسی باتیں کرتی ہو؟ تم ابھی بچی ہو۔ تمہاری زندگی بہت لمبی ہے اور ویسے بھی، بیٹیاں جلد نہیں مرتیں۔ وہ تو والدین کے لیے آزمائش ہوتی ہیں۔
ماریہ کچھ دیر خاموش رہی پھر اس نے دھیمی آواز میں کہا:
امی! صرف بیٹیاں ہی آزمائش کیوں ہوتی ہیں؟ بیٹے کیوں نہیں؟
ماں خاموش رہی اور وہ بولتی گئی:
جو بیٹے والدین سے بدتمیزی کرتے ہیں، انہیں دکھ دیتے ہیں، بڑھاپے میں چھوڑ جاتے ہیں، کیا وہ آزمائش نہیں ہوتے؟ پھر بھی والدین بیٹوں کو ہر حال میں اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ آخر کیوں؟
ماں نے جواب نہ دیا۔
اتنے میں ماریہ کا بھائی طاہر جلدی سے کچن میں آیا۔
امی! مجھے دفتر کے لیے دیر ہو رہی ہے، ناشتا تیار نہیں ہوا ابھی تک؟
بس بیٹا، ابھی لائی۔
ماں فوراً اس کے لیے ناشتا نکالنے لگیں۔
ماریہ خاموش کھڑی سب دیکھتی رہی۔ پھر اس نے کہا:
امی! مجھے بھی ناشتا دے دیں۔
ماں نے بےدھیانی میں جواب دیا:
تم اب بڑی ہو گئی ہو، اپنا کام خود کیا کرو۔
یہ سن کر ماریہ خاموش ہو گئی۔ اس نے خود ناشتا بنایا، چند نوالے کھائے اور اسکول جانے کے لیے نکل گئی۔
راستے میں اس کے ذہن میں بار بار وہی الفاظ گونج رہے تھے:
بیٹیاں آزمائش ہوتی ہیں۔۔۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور دل میں کہا:
یا اللہ! مجھے کبھی اپنے والدین پر بوجھ نہ بنانا۔
آج اسے ہر چیز اداس لگ رہی تھی۔ سڑکیں سنسان تھیں اور پرندے بھی کہیں دکھائی نہیں دے رہے تھے۔
وہ انہی سوچوں میں چل رہی تھی کہ اچانک ایک تیز رفتار گاڑی نے اسے ٹکر مار دی۔
سب کچھ ایک لمحے میں ختم ہو گیا۔
پندرہ سال کی ماریہ دنیا چھوڑ گئی۔ جب اس کی موت کی خبر گھر پہنچی تو گھر میں کہرام مچ گیا۔ وہی ماں جو کہتی تھی
تمہاری زندگی بہت لمبی ہے۔
آج بیٹی کی لاش سے لپٹ کر رو رہی تھی۔
وقت گزرتا گیا اور ماریہ کے بغیر سب کچھ ادھورا لگنے لگا۔
ایک رات اس کی ماں نے خواب دیکھا۔ ماریہ ایک باغ میں تتلیوں کے پیچھے بھاگ رہی تھی۔ وہ بہت خوش لگ رہی تھی پھر اس نے اپنی ماں کو دیکھا۔
ماں نے اسے پکارا:
ماریہ!
ماریہ مسکرائی اور دھیرے سے بولی:
امی۔۔۔بیٹیاں آزمائش نہیں ہوتیں۔ وہ بھی ایک دن چلی دنیا سے چلی جاتی ہیں۔
یہ کہہ کر وہ دور چلی گئی۔
اس خواب کے بعد اس کی ماں اکثر اس کی تصویر ہاتھ میں لے کر روتی رہتی تھی۔
ماریہ۔۔۔مجھے معاف کر دو۔
سچ تو یہ ہے کہ بیٹیاں آزمائش نہیں ہوتیں، رحمت ہوتی ہیں۔ انسان جب تک کسی کو کھو نہ دے، تب تک اس کی قدر نہیں سمجھ پاتا۔
68











