105

ٹیکس کے بوجھ کی غیرمنصفانہ تقسیم : رفیع صحرائی

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ریاستیں صرف ٹیکس سے نہیں بلکہ ٹیکس کے نظام پر عوام کے اعتماد سے چلتی ہیں۔ جب شہری یہ محسوس کرے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، ہر صاحبِ حیثیت اپنی استطاعت کے مطابق قومی خزانے میں حصہ ڈال رہا ہے اور اس کی ادا کی گئی رقم عوامی فلاح پر خرچ ہو رہی ہے تو ٹیکس ادا کرنا اسے بوجھ نہیں بلکہ قومی ذمہ داری محسوس ہوتا ہے۔ لیکن افسوس کہ پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ یہاں ٹیکس کا نظام انصاف سے زیادہ مجبوری کی علامت بنتا جا رہا ہے، جہاں جس کی آمدنی دستاویزی ہے، وہی سب سے آسان شکار ہے، جبکہ اصل دولت کے بے شمار مراکز آج بھی قانون کی گرفت سے بڑی حد تک محفوظ ہیں۔
گزشتہ مالی سال کے اعداد و شمار خود چیخ چیخ کر یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا واقعی ہمارا ٹیکس نظام متوازن ہے؟ گزشتہ مالی سال میں تنخواہ دار طبقے سے 633 ارب روپے وصول کیے گئے، جبکہ ایکسپورٹرز سے صرف 174 ارب روپے اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے سے 191 ارب روپے حاصل ہوئے۔ ان اعداد و شمار میں صرف فرق نہیں بلکہ ایک پورا المیہ پوشیدہ ہے۔ آخر وہ کون سے معاشی اصول ہیں جن کے تحت پہلے سے مہنگائی، بجلی، گیس، تعلیم، علاج اور بے شمار بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ اٹھانے والے تنخواہ دار افراد ہی قومی خزانے کے سب سے بڑے معاون بن جائیں، جبکہ معیشت کے بڑے بڑے شعبے اپنی حقیقی ذمہ داری سے مسلسل پہلو تہی کرتے رہیں؟
اگر کوئی شخص لاہور، کراچی، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ، پشاور یا دیگر بڑے شہروں کی معروف تجارتی منڈیوں کا محض ایک چکر لگا لے تو اسے اندازہ ہو جائے گا کہ چند گز یا چند فٹ کی دکانوں پر روزانہ لاکھوں اور ماہانہ کروڑوں روپے کا کاروبار ہو رہا ہے۔ حیرت اس وقت ہوتی ہے جب انہی میں سے بے شمار دکان دار یا تو نان فائلر ہوتے ہیں یا اتنی معمولی آمدنی ظاہر کرتے ہیں کہ گویا ان کا کاروبار چند ہزار روپے ماہانہ سے زیادہ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر کروڑوں روپے کا کاروبار کرنے والے لوگ بھی ٹیکس نیٹ سے باہر رہیں گے تو پھر ریاست اپنی آمدنی کہاں سے پوری کرے گی؟ ظاہر ہے پھر وہی تنخواہ دار طبقہ، وہی سفید پوش ملازم اور وہی محدود آمدنی والا شہری آسان ہدف بنے گا۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ایف بی آر اپنی حکمت عملی بنیادی طور پر تبدیل کرے۔ اصلاحات کا مطلب صرف نئے ٹیکس لگانا یا پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں پر مزید بوجھ ڈالنا نہیں بلکہ اصل ٹیکس چوروں تک پہنچنا ہے۔ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ملک بھر کے ہول سیل اور ریٹیل کاروبار کو مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام سے منسلک کیا جائے۔ ہر دکاندار کے لیے کمپیوٹرائزڈ اور ایف بی آر سے منسلک پکی رسید جاری کرنا قانونی طور پر لازمی قرار دیا جائے۔ رسید نہ دینے والے دکاندار کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، کیونکہ جس کاروبار کا کوئی تحریری ریکارڈ نہیں ہوگا، اس کی حقیقی آمدنی کا تعین بھی ممکن نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ ایک خصوصی انفورسمنٹ یا پیرا فورس تشکیل دی جا سکتی ہے جسے بڑی مارکیٹوں میں اچانک معائنہ کرنے کا اختیار حاصل ہو۔ یہ اہلکار تھوک اور پرچون خریداری کرنے والوں سے رسید طلب کریں۔ اگر خریدار کے پاس رسید موجود نہ ہو تو دکاندار سے باز پرس کی جائے۔ اس ایک اقدام سے لاکھوں خرید و فروخت کے لین دین دستاویزی شکل اختیار کر سکتے ہیں اور ٹیکس چوری کے کئی راستے بند ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح ٹرانسپورٹ کا شعبہ بھی اصلاحات کا متقاضی ہے۔ آج بھی بے شمار بسیں، ویگنیں اور کوچز بغیر کسی مؤثر مالی ریکارڈ کے روزانہ لاکھوں روپے کماتی ہیں۔ انہیں لازمی طور پر کمپیوٹرائزڈ، نمبر شدہ اور چھپی ہوئی ٹکٹ جاری کرنے کا پابند بنایا جائے۔ روزانہ کی بنیاد پر مکمل واؤچر، مسافروں کا ریکارڈ اور آمدنی کی تفصیلات مرتب کی جائیں اور ان کا باقاعدہ آڈٹ کیا جائے۔ اس شعبے میں موجود غیر دستاویزی معیشت کو قابو میں لا کر قومی خزانے میں اربوں روپے کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ایف بی آر جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کرے۔ نادرا، بینکوں، جائیدادوں، گاڑیوں، موبائل فونز، یوٹیلٹی بلوں اور دیگر سرکاری اداروں کے ڈیٹا کو ایک مربوط نظام کے تحت یکجا کیا جائے تاکہ جس شخص کی طرزِ زندگی کروڑوں روپے کی گواہی دے رہی ہو، وہ لاکھوں روپے کی آمدنی ظاہر کر کے قانون کا مذاق نہ اڑا سکے۔ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالیٹکس کی مدد سے ٹیکس چوری پکڑی جا رہی ہے، پاکستان کو بھی اسی سمت بڑھنا ہوگا۔
اصلاحات صرف عوام کے لیے نہیں بلکہ خود ایف بی آر کے اندر بھی ناگزیر ہیں۔ جب تک ادارے میں شفافیت، میرٹ، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات نہیں کیے جائیں گے تب تک بہترین قوانین بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکیں گے۔ ایک ایسا ادارہ جو خود عوام کے اعتماد سے محروم ہو، وہ دوسروں سے دیانت داری کا تقاضا کیسے کر سکتا ہے؟
ایک اور بنیادی سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ جو شہری ایمانداری سے ٹیکس ادا کر رہا ہے آخر اسے اس کے بدلے میں کیا مل رہا ہے؟ ٹوٹی ہوئی سڑکیں، مہنگی بجلی، غیر معیاری سرکاری ہسپتال، کمزور تعلیمی نظام، پینے کے صاف پانی کا فقدان، بدترین ٹریفک اور انصاف کے حصول میں برسوں کی تاخیر۔ اگر ریاست شہریوں سے زیادہ وسائل چاہتی ہے تو اسے بہتر خدمات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔ ٹیکس صرف وصول کرنا نہیں بلکہ ایک سماجی معاہدہ بھی ہے جس میں ریاست اور شہری دونوں اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔
پاکستان کی معیشت کو نئے ٹیکسوں سے زیادہ نئے ٹیکس دہندگان کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت واقعی مالیاتی انصاف چاہتی ہے تو اسے ان شعبوں تک پہنچنا ہوگا جہاں دولت کے انبار ہیں مگر قومی خزانے کا حصہ انتہائی محدود ہے۔ رئیل اسٹیٹ، ہول سیل، ریٹیل، ٹرانسپورٹ، بڑے زرعی مالکان، صرافہ مارکیٹیں اور دیگر بااثر شعبوں کو قانون کے یکساں دائرے میں لائے بغیر معاشی انصاف کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت آسان راستہ چھوڑ کر درست راستہ اختیار کرے۔ بار بار انہی لوگوں پر بوجھ ڈالنا جو پہلے ہی ٹیکس ادا کر رہے ہیں، مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس کی طوالت ہے۔ حقیقی اصلاحات وہی ہوں گی جو ٹیکس کے دائرے کو وسیع کریں، ٹیکس چوری کا خاتمہ کریں، ریاستی اداروں کو شفاف بنائیں اور ہر شہری کو یہ احساس دلائیں کہ اس ملک میں قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے۔ جس معاشرے میں ٹیکس کا بوجھ انصاف کے ساتھ تقسیم نہیں ہوتا، وہاں صرف معیشت ہی کمزور نہیں ہوتی، ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ بھی آہستہ آہستہ ٹوٹنے لگتا ہے۔ اور جب اعتماد ٹوٹ جائے تو پھر صرف محصولات نہیں، پوری ریاست خسارے میں چلی جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں