87

پیر محمد کرم شاہ الازہری ایک ہمہ جہت شخصیت تحریر،محمد امین انجم مغل

جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری (1918–1998) عالمِ اسلام اور بالخصوص برصغیر پاک و ہند کی ان عبقری (بے مثال) شخصیتوں میں سے ہیں جنہوں نے علم، سیاست، تصوف اور صحافت کے میدانوں میں ایسے انمٹ نقوش چھوڑے کہ انہیں بجا طور پر ایک “ہمہ جہت شخصیت کہا جاتا ہے۔ وہ بیک وقت ایک مایہ ناز مفسرِ قرآن، محدث، ماہرِ تعلیم، زیرک سیاست دان، اور وفاقی شرعی عدالت کے معزز جج تھے۔ذیل میں ان کی زندگی، خدمات اور علمی و فکری پہلوؤں پر ایک تفصیلی مضمون پیش ہے:ابتدائی زندگی اور حصولِ علم پیر محمد کرم شاہ الازہری 1 جولائی 1918ء کو بھیرہ (ضلع سرگودھا، پنجاب) کے ایک علمی اور روحانی سادات گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والدِ گرامی پیر محمد شاہ اپنے دور کے جید عالم اور صوفی بزرگ تھے۔آپ کی تعلیم کا سفر روایتی اور جدید دونوں علوم کا ایک حسین امتزاج تھا: ابتدائی تعلیم: قرآن پاک اور فارسی و عربی کی بنیادی کتب اپنے والدِ گرامی اور مقامی علما سے پڑھیں۔ اعلیٰ اسلامی تعلیم: انہوں نے جامعہ نعیمیہ مراد آباد اور لاہور کے دیگر نامور مدارس سے دین کی اعلیٰ تعلیم (درسِ نظامی) مکمل کی۔ عصری تعلیم: انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے عربی میں ایم اے (M.A) کی ڈگری حاصل کی تاکہ جدید دور کے تقاضوں کو سمجھ سکیں۔ جامعہ الازہر (مصر) کا سفر: 1951ء میں آپ دنیا کی مشہور اسلامی یونیورسٹی “جامعہ الازہر” (قاہرہ، مصر) تشریف لے گئے، جہاں سے آپ نے “الازہری” کی معتبر ڈگری حاصل کی۔ یہاں قیام کے دوران آپ نے عرب دنیا کے بڑے بڑے شیوخ سے استفادہ کیا اور جدید عربی اسلوبِ تحریر سیکھا۔ علمی و تصنیفی خدمات (تجدیدی کارنامے)پیر کرم شاہ صاحب کا سب سے بڑا وصف ان کا اعتدال پسند اور جدید تقاضوں کے مطابق علمی اسلوب تھا۔ انہوں نے قدیم صالح اور جدید نافع کا ایسا امتزاج پیش کیا جو بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ 1۔ ضیاء القرآن (تفسیرِ قرآن)یہ 5 جلدوں پر مشتمل ان کا وہ شاہکار کارنامہ ہے جس نے انہیں برصغیر کے چوٹی کے مفسرین میں شامل کیا۔ اس تفسیر کی خاص بات یہ ہے کہ یہ سادہ، عام فہم اور دورِ حاضر کے نوجوانوں کے فکری و علمی سوالات کا جواب دیتی ہے۔ اس میں سائنسی اور سماجی تغیرات کو قرآن کی روشنی میں بہت خوبصورتی سے واضح کیا گیا ہے۔ 2۔ ضیاء النبی (سیرتِ طیبہ)یہ 7 جلدوں پر محیط نبی کریم ﷺ کی جامع اور مستند ترین سیرت ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے نہ صرف آپ ﷺ کی زندگی کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کیا، بلکہ مستشرقین (Western Orientalists) کی طرف سے سیرتِ پاک پر کیے جانے والے اعتراضات کے اتنے ٹھوس اور عقلی جوابات دیے کہ یہ کتاب ایک سنگِ میل بن گئی۔ 3۔ ماہنامہ “ضیاء حرم” (صحافت)اسلامی فکر کی ترویج اور امتِ مسلمہ کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے انہوں نے بھیرہ سے ماہنامہ “ضیاء حرم” جاری کیا۔ اس رسالے نے مسلمانوں کی فکری تربیت اور اتحادِ امت میں اہم کردار ادا کیا۔ تعلیمی اور ادارہ جاتی خدمات: دار العلوم محمدیہ غوثیہ پیر محمد کرم شاہ الازہری نے محسوس کر لیا تھا کہ جب تک مدارس کا نصاب اور نظام جدید دور کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہوگا، امت ترقی نہیں کر سکتی۔ انہوں نے اپنے آبائی شہر بھیرہ میں دار العلوم محمدیہ غوثیہ کی بنیاد رکھی اور اس کا نصاب نئے سرے سے مرتب کیا۔انہوں نے اپنے ادارے میں: روایتی درسِ نظامی کے ساتھ ساتھ انگریزی، کمپیوٹر، ریاضی اور جدید معاشیات کو لازمی قرار دیا۔ طالبات کے لیے الگ سے نیٹ ورک قائم کیا۔ ان کے اس انقلابی قدم کی وجہ سے اس ادارے کے فارغ التحصیل علما (جنہیں “اضیائی” کہا جاتا ہے) آج دنیا بھر کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، محقق اور جج کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ عدالتی خدمات: وفاقی شرعی عدالت کے ججآپ کی علمی قابلیت اور فقہی بصیرت کی وجہ سے حکومتِ پاکستان نے انہیں وفاقی شرعی عدالت (Federal Shariat Court) اور بعد میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے شریعت اپیلٹ بینچ کا جج مقرر کیا۔آپ نے تقریباً 16 سال تک بطور جج خدمات سرانجام دیں۔ اس دوران انہوں نے سود (ربا)، خواتین کے حقوق، قصاص و دیت اور دیگر پیچیدہ قانونی و سماجی مسائل پر اسلامی قوانین کے تحت ایسے تاریخی فیصلے تحریر کیے جو آج بھی پاکستان کی قانونی تاریخ کا اثاثہ ہیں۔ آپ کا اندازِ قضا انتہائی منصفانہ اور مروجہ قوانین و فقہِ اسلامی کا نچوڑ تھا۔سیاسی اور روحانی پہلو سیاسی بصیرتپیر صاحب تحریکِ پاکستان کے سرگرم کارکن تھے۔ انہوں نے قیامِ پاکستان کے لیے آل انڈیا مسلم لیگ کا بھرپور ساتھ دیا۔ بعد کی سیاست میں بھی وہ ہمیشہ ملکی استحکام، نفاذِ شریعت اور اتحادِ بین المسلمین کے داعی رہے۔ روحانیت و تصوف:وہ سلسلہ چشتیہ نظامیہ کے ایک جلیل القدر شیخ تھے۔ ان کا تصوف رہبانیت (دنیا چھوڑنے) کا نام نہیں تھا، بلکہ وہ تصوف کو کردار سازی، خدمتِ خلق اور جہدِ مسلسل کا ذریعہ مانتے تھے۔ ان کے ہاتھ پر لاکھوں لوگوں نے توبہ کی اور اپنی زندگیوں کو اسلام کے سانچے میں ڈھالا۔ وفات اور یادگارعلم و حکمت کا یہ روشن چراغ 9 ربیع الاول 1419ھ بمطابق 4 جولائی 1998ء کو اس دارِ فانی سے کوچ کر گیا۔ آپ کا مزارِ اقدس بھیرہ شریف میں مرجعِ خلائق ہے۔خلاصہ: پیر محمد کرم شاہ الازہری کی زندگی اس بات کی عملی تفسیر تھی کہ ایک سچا اسلامی عالم دین نہ صرف مسجد اور مدرسے کا رہنما ہوتا ہے، بلکہ وہ عدالت میں جج بن کر انصاف بھی فراہم کر سکتا ہے، قلم ہاتھ میں لے کر مفسر و صحافی بھی بن سکتا ہے اور اپنی قوم کی سیاسی و تعلیمی رہنمائی بھی کر سکتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہیں جو انہیں ایک حقیقی “ہمہ جہت” شخصیت بناتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں