10

وہ ریت کی دیوار تھی،سائے میں جسکے بیٹھی تھی

وہ ریت کی دیوار تھی،سائے میں جسکے بیٹھی تھی
گرجائے گی وہ ایک دم
یہ کبھی سوچا نہ تھا۔
برسیں گے بادل اس قدر
طوفان کی زد میں تھے ہم
یہ کبھی سوچا نہ تھا
خاموشی اس بلا کی تھی
اذیتوں کا لمحہ تھا
وقت بدل جاے گا ایسے
یہ کبھی سوچا نہ تھا
تڑپے تھے ہم اس قدر اعتبار جب ٹوٹا تھا ۔
ہوگا وہ اتنا بیگانہ ،یہ کبھی سوچا نہ تھا
میں ہر پل بس اسی کو سوچوں
رشتہ یہ بس احترام کا تھا یہ اس نے بھی سوچا نہ تھا
دعائیں مناجاتیں ہیں ساری ،صرف اسی کے لیے پل میں بدل جاے گا وہ
یہ کبھی سوچا نہ تھا۔
جلتی ہوئی شمع کو اک پھونک سے بجھا دیا۔
ہو گا وہ اتنا سفاک ، یہ کبھی سوچا نہ تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں