پنجاب کا استاد جب بھی بائیکاٹ کرتا ہے تو عموماً سیکھنے اور سکھانے کے عمل کا کرتا ہے۔ یہ بات تلخ ضرور ہے مگر ماضی کے کئی واقعات اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں۔
سن 2002 میں حکومت پنجاب نے سائنس اور ریاضی کی تدریس کو بہتر بنانے کے لیے ایک ماہ پر مشتمل تربیتی کورس کا آغاز کیا۔ کورس کے اختتام پر یہ جانچنے کے لیے کہ اساتذہ نے کتنا سیکھا ہے، ایک امتحان لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن امتحان دینا شاید اساتذہ کی شان کے خلاف سمجھا گیا، چنانچہ پورے پنجاب میں اس امتحان کا بائیکاٹ کر دیا گیا۔ ضلع سیالکوٹ سے صرف دو اساتذہ نے امتحان دیا، جن میں راقم الحروف بھی شامل تھا۔
بعد ازاں حکومت پنجاب نے پرائمری تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ڈی ٹی ایز (DTEs) تعینات کیے۔ ان کا بنیادی مقصد اساتذہ کی تدریسی صلاحیتوں میں اضافہ اور پیشہ ورانہ رہنمائی فراہم کرنا تھا۔ بدقسمتی سے یہ نظام جلد ہی نگرانی اور افسری کے روایتی انداز میں تبدیل ہو گیا اور اپنے اصل مقاصد حاصل نہ کر سکا۔
اس کے بعد تعلیمی اصلاحات کے تحت سکولوں کے کلسٹرز تشکیل دیے گئے اور دس سے پندرہ سکولوں کو ایک اے ای او (AEO) کی نگرانی میں دے دیا گیا تاکہ تدریسی ماحول اور تعلیمی نتائج میں بہتری لائی جا سکے۔ لیکن یہاں بھی معاملہ پیشہ ورانہ معاونت کے بجائے انتظامی اختیار تک محدود ہو گیا اور یہ منصوبہ بھی مطلوبہ نتائج نہ دے سکا۔
دو سال قبل حکومت پنجاب نے اساتذہ کی تدریسی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اور امتحان کے انعقاد کا اعلان کیا، مگر حسبِ روایت اس امتحان کا بھی بائیکاٹ کر دیا گیا۔ اب حال ہی میں اساتذہ کی انگریزی زبان پر دسترس بہتر بنانے کے لیے ایک پروفیشنل کورس شروع کیا گیا ہے جس کے اختتام پر امتحان رکھا گیا، لیکن اس امتحان کے بائیکاٹ کا اعلان بھی سامنے آ چکا ہے۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر بائیکاٹ ہی احتجاج کا مؤثر ذریعہ ہے تو پھر بائیکاٹ امتحانی ڈیوٹی کا کیوں نہیں؟ پیپر مارکنگ کا کیوں نہیں؟ میرٹ پر ہیڈ ماسٹرز کی تعیناتی کا کیوں نہیں؟ یا پھر پی ایس ای آر اور دیگر تعلیمی سرویز کا کیوں نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ان سرگرمیوں کے ساتھ مالی فوائد وابستہ ہوتے ہیں، اس لیے ان کا بائیکاٹ شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتا ہے۔
اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اساتذہ کے کئی مطالبات جائز ہیں۔ پنشن اصلاحات کے حوالے سے 2 دسمبر 2024ء کا نوٹیفکیشن، ایل پی آر کے نئے قوانین اور پنجاب کے سرکاری ملازمین کو وفاقی ملازمین کے مساوی مراعات نہ ملنا ایسے مسائل ہیں جن پر حکومت کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ اساتذہ اور دیگر سرکاری ملازمین کے جائز حقوق کو تسلیم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ پیشہ ورانہ ترقی، ترقیِ ملازمت (Promotion) اور سروس اسٹرکچر کو کارکردگی اور قابلیت کے ساتھ منسلک کیا جائے۔ دنیا بھر میں تعلیم کے شعبے میں معیار کو بہتر بنانے کے لیے تربیت اور جانچ کا نظام موجود ہے۔ اگر اساتذہ قوم کے معمار ہیں تو انہیں اپنی صلاحیتوں کے جائزے سے گھبرانے کے بجائے اسے اپنی پیشہ ورانہ ترقی کا ذریعہ سمجھنا چاہیے۔
تعلیم کا شعبہ صرف مطالبات اور مراعات سے نہیں بلکہ ذمہ داری، احتساب اور مسلسل سیکھنے کے جذبے سے آگے بڑھتا ہے۔ جب تک ہم سیکھنے کے عمل کو اپنی عزتِ نفس کے خلاف سمجھتے رہیں گے، تب تک تعلیمی نظام میں حقیقی بہتری ایک خواب ہی رہے گی۔











