9

حسینؓ ابنِ حیدر پہ لاکھوں سلام: محمد حنیف تبسم

تاریخِ عالم میں بعض شخصیات اور بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو وقت کی حدود سے آزاد ہو کر ہمیشہ کے لیے انسانیت کے اجتماعی شعور کا حصہ بن جاتے ہیں ان کا ذکر صرف کتابوں کے صفحات تک محدود نہیں رہتا بلکہ نسل در نسل دلوں ذہنوں اور کرداروں کو متاثر کرتا رہتا ہے حضرت امام حسینؓ کی ذاتِ گرامی اور واقعۂ کربلا اسی نوعیت کا ایک عظیم اور لازوال باب ہے جس نے نہ صرف اسلامی تاریخ بلکہ پوری انسانی تاریخ کا رخ متعین کیا کربلا محض ایک جنگ نہیں تھی یہ حق اور باطل عدل اور ظلم حریت اور غلامی صداقت اور مصلحت کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ تھا جس کے اثرات آج بھی دنیا کے ہر آزاد ضمیر انسان کے دل میں محسوس کیے جا سکتے ہیں
حضرت امام حسینؓ نواسۂ رسولِ اکرم ﷺ، فرزندِ علی المرتضیٰؓ اور جگر گوشۂ سیدہ فاطمۃ الزہراؓ آپؓ کا خاندان وہ مقدس خاندان جسے اللہ تعالیٰ نے طہارت تقویٰ اور فضیلت سے نوازا آپؓ نے بچپن رسول اللہ ﷺ کی آغوشِ محبت میں گزارا نبی کریم ﷺ کا آپؓ سے بے پناہ محبت کرنا متعدد احادیث سے ثابت ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
“حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں”
یہ اعزاز صرف ایک خاندانی نسبت نہیں بلکہ ان کے عظیم کردار تقویٰ اور قربانیوں کا اعتراف بھی ہے
حضرت امام حسینؓ کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپؓ نے ہمیشہ عدل، انصاف رواداری اخلاق محبت اور انسان دوستی کو فروغ دیا آپؓ کی پوری زندگی قرآن و سنت کی عملی تفسیر تھی لیکن جب اسلامی معاشرے میں ظلم، جبر اور اقتدار پرستی کے سائے گہرے ہونے لگے اور خلافتِ راشدہ کے اصول کمزور ہونے لگے تو امام حسینؓ نے خاموش رہنے کے بجائے حق کا علم بلند کیا

امام حسینؓ جانتے تھے کہ یزید کی بیعت محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی معاملہ ہے اگر آپؓ خاموشی اختیار کر لیتے تو آنے والی نسلوں کے لیے حق اور باطل کا فرق مٹ جاتا یہی وجہ ہے کہ آپؓ نے اپنے ضمیر اپنے ایمان اور اپنے نانا ﷺ کی تعلیمات کے مطابق حق کا راستہ اختیار کیا

کربلا کا سفر دراصل حق کی بقا کا سفر یہ سفر مکہ سے شروع ہوا اور کربلا کے میدان میں اپنے عروج کو پہنچا راستے میں بارہا ایسے مواقع آئے جب دنیاوی مفادات کو ترجیح دے کر مشکلات سے بچا جا سکتا تھا لیکن امام حسینؓ نے ہر بار اصولوں کو ترجیح دی یہی عظیم لوگ ہوتے ہیں جو اپنے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے فیصلے کرتے ہیں

کربلا میں امام حسینؓ کے پاس نہ بڑی فوج تھی نہ دولت نہ سیاسی طاقت اور نہ ہی دنیاوی وسائل دوسری طرف ایک منظم اور طاقتور حکومت تھی لیکن تاریخ نے ثابت کیا کہ فتح صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ سچائی اور کردار سے حاصل ہوتی ہے
اسی حقیقت کو صوفی شعرا اور اہلِ علم نے ان الفاظ میں بیان کیا
شاہ است حسینؓ، بادشاہ است حسینؓ
دین است حسینؓ، دین پناہ است حسینؓ
سر داد نہ داد دست در دست یزید
حقا کہ بنائے لا الٰہ است حسینؓ
یہ اشعار امام حسینؓ کے مقام اور فلسفۂ حیات کا مکمل خلاصہ ہیں آپؓ نے جان دے دی لیکن اصولوں کا سودا نہیں کیا آپؓ نے ثابت کیا کہ ایمان کی حفاظت کے لیے قربانی دینا عزت ہے جبکہ ظلم کے سامنے جھک جانا ذلت ہے

کربلا کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ امام حسینؓ اور ان کے اہلِ بیتؓ کو پانی تک سے محروم کر دیا گیا ننھے بچوں کی پیاس خواتین کی بے بسی اور جوانوں کی قربانیاں انسانی تاریخ کا دل دہلا دینے والا منظر ہیں لیکن ان تمام مصائب کے باوجود امام حسینؓ کے صبر استقامت اور اللہ تعالیٰ پر توکل میں کوئی کمی نہ آئی

حضرت عباسؓ کی وفاداری حضرت علی اکبرؓ کی جوانی حضرت قاسمؓ کی قربانی اور حضرت علی اصغرؓ کی معصوم شہادت آج بھی انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتی ہے یہ قربانیاں صرف ایک خاندان کی قربانیاں نہیں تھیں بلکہ حق اور انصاف کی حفاظت کے لیے دی جانے والی قربانیاں تھیں

علامہ محمد اقبالؒ نے امام حسینؓ کی عظمت کو اپنے مخصوص فلسفیانہ انداز میں بیان کرتے ہوئے فرمایا
در نوا تے زندگی سوز از حسین
اہل حق را حریت آموز از حسین
اقبالؒ کے نزدیک اگر دنیا میں آزادی خودداری اور غیرت کا کوئی سرچشمہ ہے تو وہ امام حسینؓ کی قربانی ہے اقبالؒ نے کربلا کو صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ امت کی بیداری کا ذریعہ قرار دیا

واقعۂ کربلا کی ایک عظیم خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رہا دنیا کے مختلف مذاہب اقوام اور تہذیبوں کے مفکرین نے امام حسینؓ کی قربانی کو خراجِ تحسین پیش کیا ہندوستان کے عظیم رہنما مہاتما گاندھی نے کہا کہ اگر کسی قوم کو عزت کے ساتھ زندہ رہنا ہے تو اسے حسینؓ کے راستے پر چلنا ہوگا یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں امام حسینؓ کو آزادی مزاحمت اور انسانی وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے.

کربلا ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اکثریت ہمیشہ حق پر نہیں ہوتی بعض اوقات حق چند افراد کے ساتھ ہوتا ہے اور باطل بڑی تعداد میں موجود ہوتا ہے اس لیے کامیابی کا معیار تعداد نہیں بلکہ سچائی اور اصول ہوتے ہیں
آج جب دنیا جنگوں ناانصافیوں معاشی استحصال انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اخلاقی بحرانوں کا شکار ہے تو کربلا کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہم محسوس ہوتا ہے جہاں کہیں بھی ظلم کے خلاف آواز بلند ہوتی ہے وہاں حسینؓ کا پیغام امید کی کرن بن کر ابھرتا ہے
کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ خاموشی بعض اوقات ظلم کی تائید بن جاتی ہے اگر انسان حق جانتے ہوئے بھی خاموش رہے تو وہ معاشرے میں ناانصافی کے فروغ کا سبب بنتا ہے امام حسینؓ نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ ایک مؤمن کی ذمہ داری صرف عبادت نہیں بلکہ حق کا ساتھ دینا بھی ہے

محرم الحرام کا مہینہ ہمیں صرف غم اور یادِ شہادت کا پیغام نہیں دیتا بلکہ اصلاحِ نفس احتسابِ کردار اور تجدیدِ عہد کا درس بھی دیتا ہے ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے کہ کیا ہم اپنے معاملات میں انصاف کرتے ہیں کیا ہم سچ بولتے ہیں کیا ہم مظلوم کا ساتھ دیتے ہیں کیا ہم کرپشن جھوٹ اور ناانصافی کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں اگر نہیں تو ہمیں فلسفۂ حسینؓ کو دوبارہ سمجھنے کی ضرورت ہے.
ظاہری طور پر کربلا میں امام حسینؓ اور ان کے ساتھی شہید ہوئے لیکن درحقیقت فتح انہی کی ہوئی یزید اپنی تمام تر طاقت کے باوجود تاریخ میں ظلم کی علامت بن گیا جبکہ حسینؓ آج بھی کروڑوں دلوں کی دھڑکن ہیں

یہی وجہ ہے کہ ہر سال محرم آتا ہے کربلا کی یاد تازہ ہوتی ہے آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں اور دل یہ گواہی دیتا ہے کہ حق کبھی مرتا نہیں سچائی کو وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا
حضرت امام حسینؓ کی پوری زندگی اور شہادت ایک عالمگیر پیغام ہے کہ انسان کو اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہنا چاہیے خواہ اس کے لیے کتنی ہی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے یہی وہ درس ہے جس کی آج پوری دنیا کو ضرورت ہے
آج اگر ہم اپنے معاشروں میں عدل مساوات دیانت رواداری اخوت اور خدمتِ انسانیت کو فروغ دیں تو یہ امام حسینؓ سے حقیقی محبت کا اظہار ہوگا محض الفاظ اور دعوے کافی نہیں بلکہ حسینؓ کے کردار کو اپنی زندگیوں میں اپنانا ضروری ہے

کربلا کی ریت پر بہنے والا خون آج بھی انسانیت کو پکار رہا ہے کہ ظلم کے سامنے سر نہ جھکاؤ حق کا ساتھ دو سچائی پر قائم رہو اور اپنے ضمیر کا سودا نہ کرو یہی پیغام حسینؓ ہے یہی فلسفۂ کربلا ہے اور یہی انسانیت کی حقیقی نجات کا راستہ ہے

شاعرِ مشرق علامہ اقبالؒ کے یہ الفاظ دل میں ایک نئی روشنی پیدا کرتے ہیں
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حسینؓ، ابتدا ہے اسماعیلؑ

حضرت امام حسینؓ: کربلا کا آفاقی پیغام انسانیت کی بقا اور حق کی ابدی فتح ہے. اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت امام حسینؓ اہلِ بیتِ اطہارؓ اور شہدائے کربلا کے نقشِ قدم پر چلنے حق و انصاف کی سربلندی کے لیے کردار ادا کرنے اور اپنی زندگیوں کو سیرتِ حسینؓ کے نور سے منور کرنے کی توفیق عطا فرمائے
قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

جن کے نانا نبی ﷺ جن کے بابا علیؓ
اُس حسینؓ ابنِ حیدر پہ لاکھوں سلام

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں