نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، جگر گوشہ علی رضی اللہ عنہ و بتول رضی اللہ عنہا، حضرت امام حسین علیہ السلام کی ولادت ۵ شعبان ۴ ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کی عظمت کا یہ عالم تھا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ اللہ اس سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے۔” امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں کا تارا تھے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔
(جامع ترمذی)
جب ۲۰ ہجری میں یزید نے اقتدار سنبھالا تو اس نے ظلم وجبر کے ذریعے بیعت لینے کا ارادہ کیا، حق وصداقت کے اس عظیم علَم بردار نے باطل کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دیا۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: “ایسا شخص جو شراب پیتا ہے، ظلم کرتا ہے اس کی بیعت ہرگز نہیں کروں گا۔” آپ نے دنیا کو یہ لازوال درس دیا کہ مصیبتوں سے گھبرانا مومن کی شان نہیں بل کہ اللہ کی رضا پر راضی رہ کر ظالم کے سامنے ڈٹ جانا ہی اصل بندگی ہے۔ اگر آج کے دور کی بات کی جائے تو دولت اور طاقت کے نشے میں بےحیا لوگ دندناتے پھرتے ہیں اور مظلوم کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے عمل سے بتایا کہ اسلام ہمیں ظلم کا ساتھ دینا نہیں سکھاتا بل کہ باطل کے خلاف سینہ سپر ہونے کا حکم دیتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے میدانِ کربلا میں اسلام کی بقا کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے تاریخ انسانی میں لازوال قربانی کی اعلیٰ ترین مثال قائم کی۔ آپ نے کٹھن ترین حالات میں بھی راہِ حق کو نہ چھوڑا اور ثابت کر دیا کہ اللہ کی راہ میں قربان ہونے والے کبھی مرتے نہیں بل کہ وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اور بارگاہ الٰہی میں بلند ترین مقام پاتے ہیں۔
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
“جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی لعنت ہے اور ان کے لیے نہایت رسوا کن عذاب ہے۔”
(سورہ الاحزاب)
سلام ہو نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جنھوں نے اسلام کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا لیکن یزید کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ آپ کی شجاعت و جرات کی یہ تصویر آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہے گی۔
9











