6

سوشل میڈیا کے زیرِ اثر نوجوان نسل: سماویہ اعظم

آج کا دور ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل رابطوں کا دور ہے جس میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ ہماری نوجوان نسل ہے۔ سوشل میڈیا جو تفریح اور معلومات کا ایک بہترین ذریعہ ہے، درحقیقت نوجوانوں کی نفسیات، رویوں اور روزمرہ زندگی پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ یہ ایک ایسا ڈیجیٹل انقلاب ہے جس نے نوجوانوں کی سوچ کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایک وقت تھا جب نوجوانوں کی زندگی گھر، اسکول اور دوستوں کے گرد گھومتی تھی لیکن آج اسمارٹ فونز نے پوری دنیا کو ان کی انگلیوں پر سمیٹ دیا ہے۔ سوشل میڈیا نے نوجوانوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے جہاں وہ اپنی رائے کا اظہار بلا خوف وخطر کر سکتے ہیں مگر اسی آزادی کے ساتھ کئی پیچیدہ مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ نوجوان نسل پر سوشل میڈیا کے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو سب سے نمایاں پہلو ان کی ذہنی صحت ہے۔ آج کے نوجوانوں کا دن سوشل میڈیا سے شروع ہوتا ہے اور اسی پر ختم ہوتا ہے۔ اس بے دریغ استعمال کے باعث نوجوانوں میں ذہنی دباؤ اور بے چینی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ہر وقت موبائل فون میں مصروف رہنے کی عادت انہیں حقیقی دنیا سے دور کر رہی ہے۔ نوجوان اکثر سوشل میڈیا پر منفی تبصروں اور تنقید کا نشانہ بنتے ہیں جس سے ان کی خود اعتمادی متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مسلسل آن لائن رہنے کی وجہ سے نیند بھی متاثر ہوتی ہے جس کے نتیجے میں تعلیمی کارکردگی اور جسمانی صحت دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ دوسروں کی رنگین اور پرکشش زندگیوں کو دیکھ کر نوجوان احساسِ کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی زندگی بہتر نہیں حالاں کہ حقیقت میں یہ صرف ایک دکھاوا ہے۔ یہی احساس انہیں ایک ایسی دوڑ میں مبتلا کر دیتا ہے جہاں وہ اپنی اصل زندگی کو پسِ پشت ڈال کر ایک مصنوعی زندگی کی نمائش کرنے لگتے ہیں۔ دوسری جانب سوشل میڈیا کے چند مثبت پہلو بھی ہیں۔ نوجوان اسے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے استعمال کر رہے ہیں جس سے نہ صرف ان کی صلاحیتیں اجاگر ہو رہی ہیں بل کہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ تاہم ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ آج کے نوجوان کتابوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اس سے ان کی سوچنے اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔ تعلیمی میدان میں بھی سوشل میڈیا کے منفی اثرات نمایاں ہیں جہاں پڑھائی کے دوران توجہ بار بار موبائل فون کی طرف مبذول ہو جاتی ہے۔ نوجوانوں میں صبر کم ہوتا جا رہا ہے اور وہ ہر چیز میں فوری نتائج کے خواہش مند ہیں۔ ایسے حالات میں والدین اور اساتذہ کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ انہیں چاہیے کہ نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے درست استعمال کے بارے میں آگاہ کریں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی نوجوانوں کی زندگی پر حاوی نہ ہو جائے اور وہ اس کے غلام بن کر نہ رہ جائیں۔ نوجوانوں کو یہ بات سمجھانی چاہیے کہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی ہر چیز حقیقت نہیں ہوتی بل کہ وہاں صرف وہی دکھایا جاتا ہے جو لوگ دکھانا چاہتے ہیں۔ اس بناوٹی دنیا میں اپنی حقیقی زندگی اور خوشیوں کو نظر انداز کرنا دانش مندی نہیں۔ آج کے دور میں سوشل میڈیا سے مکمل کنارہ کشی اختیار کرنا ممکن نہیں لیکن اس کے استعمال کے لیے حدود کا تعین ناگزیر ہے۔ نوجوانوں کو اپنی صحت، تعلیم اور مستقبل پر خصوصی توجہ دینی چاہیے تاکہ وہ نہ صرف کامیاب انسان بن سکیں بل کہ اپنے والدین کا نام بھی روشن کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں