ملکہ ترنم نورجہاں کو دنیا میں آئے ایک صدی پوری ہو گئی۔ وہ واقعی ترنم کی ملکہ تھیں۔ کچھ آوازیں صرف کانوں تک نہیں پہنچتیں، دل میں اتر جاتی ہیں۔ کچھ فنکار اپنے عہد میں مقبول ہوتے ہیں اور پھر وقت کے ساتھ ان کی شہرت دھندلا جاتی ہے، لیکن کچھ آوازیں وقت کی قید سے آزاد ہوتی ہیں۔ نسلیں بدلتی رہتی ہیں، ذوق بدلتے رہتے ہیں، موسیقی کے انداز بدلتے رہتے ہیں، مگر ان کی آواز اپنی تازگی برقرار رکھتی ہے۔ ملکۂ ترنم نورجہاں بھی ایسی ہی ایک آواز کا نام ہے۔ 21 ستمبر 1926ء کو قصور کی سرزمین پر جنم لینے والی اللہ وسائی نے جب دنیا کو خیرباد کہا تو 23 دسمبر 2000ء تھا، مگر ان کے جانے کے 26 برس بعد ان کی آواز آج بھی زندہ ہے۔
21 ستمبر 2026ء کو نورجہاں کی پیدائش کو ایک صدی مکمل ہو گئی۔ یہ محض ایک فنکارہ کی سو سالہ سالگرہ نہیں بلکہ برصغیر کی موسیقی، فلم، ثقافت اور اجتماعی یادداشت کے ایک پورے عہد کی یاد دہانی ہے۔ نورجہاں کی زندگی دراصل ایک ایسے سفر کی داستان ہے جس میں بچپن کی اسٹیج گلوکاری سے لے کر برصغیر کی فلمی دنیا، تقسیمِ ہند کی ہجرت، پاکستانی فلمی صنعت کی تشکیل اور پھر قومی موسیقی کے ایک منفرد باب تک کے بے شمار رنگ شامل ہیں۔
نورجہاں کا اصل نام اللہ وسائی تھا۔ موسیقی ان کے گھرانے میں پہلے ہی موجود تھی، چنانچہ کم عمری میں ہی انہیں موسیقی کی باقاعدہ تربیت حاصل کرنے کا موقع ملا۔ کلاسیکی موسیقی کی اصناف، خصوصاً ٹھمری، دھرپد اور خیال سے ان کی واقفیت نے ان کی آواز کو وہ بنیاد فراہم کی جس پر بعد میں ان کی عظیم گائیکی کی عمارت کھڑی ہوئی۔
کم سنی میں ہی انہوں نے اسٹیج اور فلم کا رخ کیا۔ کلکتہ میں قیام کے دوران معروف گلوکارہ مختار بیگم سے ملاقات ان کی زندگی کا اہم موڑ ثابت ہوئی۔ مختار بیگم نے اللہ وسائی کے فن کو پہچانا اور انہیں ’’بے بی نورجہاں‘‘ کے نام سے متعارف کرایا۔ یوں ایک ایسا نام وجود میں آیا جو بعد میں برصغیر کی موسیقی کی تاریخ کا استعارہ بن گیا۔
نورجہاں نے کم عمری ہی میں فلموں میں اداکاری اور گلوکاری شروع کردی تھی۔ ’’پنڈ دی کڑی‘‘، ’’گل بکاؤلی‘‘، ’’خاندان‘‘، ’’زینت‘‘، ’’بڑی ماں‘‘، ’’انمول گھڑی‘‘ اور ’’مرزا صاحباں‘‘ سمیت متعدد فلموں میں ان کی اداکاری اور گائیکی نے انہیں غیر معمولی شہرت عطا کی۔ وہ محض اداکارہ نہیں تھیں؛ وہ اپنی آواز سے کردار کو زندگی بخشنے والی فنکارہ تھیں۔
1947ء میں برصغیر تقسیم ہوا تو نورجہاں بھی اپنے شوہر شوکت حسین رضوی کے ساتھ پاکستان آگئیں۔ ہجرت ان کی زندگی میں ایک نئے باب کا آغاز تھی۔ پاکستان میں انہوں نے نہ صرف خود کو ایک عظیم گلوکارہ کے طور پر منوایا بلکہ پاکستانی فلمی صنعت کے ابتدائی سفر میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
فلم ’’چن وے‘‘ ان کے پاکستانی فلمی سفر کا ایک اہم سنگِ میل تھی۔ وہ اس فلم کی مرکزی اداکارہ ہونے کے ساتھ ہدایت کاری سے بھی وابستہ رہیں۔ اس کے بعد ’’دوپٹہ‘‘ نے ان کی شہرت کو نئی بلندی عطا کی۔ ’’دوپٹہ‘‘ کے گیتوں میں نورجہاں کی آواز نے جس طرح جذبات، تنہائی، محبت اور انتظار کو اظہار بخشا، وہ آج بھی موسیقی کے شائقین کے لیے ایک یادگار تجربہ ہے۔
نورجہاں کی عظمت کا اصل راز صرف ان کی آواز کی خوبصورتی نہیں تھا۔ ان کے ہاں لفظ کو محسوس کرنے اور پھر اسے آواز کے ذریعے سننے والے کے دل تک پہنچانے کا غیر معمولی ہنر تھا۔ وہ لفظ ’’درد‘‘ گاتیں تو درد سنائی دیتا تھا، ’’محبت‘‘ گاتیں تو محبت محسوس ہوتی تھی، ’’انتظار‘‘ گاتیں تو انتظار کی کیفیت دل میں اترتی تھی۔ ان کی آواز میں اتار چڑھاؤ، زیر و بم، لفظوں پر گرفت اور جذباتی ادائیگی کا ایسا امتزاج تھا جو ہر گلوکار کے حصے میں نہیں آتا۔
نورجہاں کی گائیکی صرف فلمی گانوں تک محدود نہ تھی۔ انہوں نے غزل، گیت، لوک گیت، ملی نغمے اور کلاسیکی رنگ کی مختلف اصناف میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ اردو، پنجابی، سندھی، بنگالی، پشتو، عربی اور دیگر زبانوں میں گائیکی نے انہیں ’’ہفت زبان گلوکارہ‘‘ کے طور پر بھی شہرت دی۔ ان کے گائے ہوئے گیتوں کی مجموعی تعداد کے بارے میں مختلف اعداد ملتے ہیں، تاہم یہ بات مسلمہ ہے کہ انہوں نے ہزاروں گیتوں کے ذریعے برصغیر کے موسیقی کے ذخیرے میں ناقابلِ فراموش اضافہ کیا۔
نورجہاں کا ایک اور روشن باب ملی نغموں کا ہے۔ 1965ء کی جنگ کے دوران ان کی آواز نے قومی جذبے کو جلا بخشی۔ ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے ان کے ملی نغموں نے ایک پوری نسل کے جذبات کی ترجمانی کی۔ ’’اے وطن کے سجیلے جوانو‘‘، ’’میریا ڈھول سپاہیا‘‘ اور دوسرے ملی نغموں نے نورجہاں کو صرف فلمی گلوکارہ نہیں رہنے دیا بلکہ قومی احساسات کی ترجمان بنا دیا۔ ان کی آواز میں وطن سے محبت ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک جذبہ بن کر سامنے آئی۔
نورجہاں کی فنی زندگی کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ برصغیر کی عظیم گلوکارہ لتا منگیشکر نے بھی ان کی گائیکی کو سراہا۔ یہ اعتراف اس بات کی علامت ہے کہ فن کی عظمت سرحدوں، ملکوں اور تقسیموں کی محتاج نہیں ہوتی۔ نورجہاں اور لتا دو مختلف ملکوں کی نمائندہ آوازیں ضرور بنیں، مگر موسیقی کی دنیا میں دونوں کا مقام برصغیر کی مشترکہ تہذیبی میراث کا حصہ ہے۔
فیض احمد فیض کی لازوال نظم ’’مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ‘‘ کو نورجہاں نے جس انداز میں گایا، اس نے شاعری اور موسیقی کے درمیان ایک ایسا رشتہ قائم کیا جسے آج بھی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ فیض کے الفاظ نورجہاں کی آواز میں صرف پڑھے یا گائے نہیں گئے بلکہ محسوس ہوئے۔ یہی ان کی گائیکی کا کمال تھا۔
ان کی آواز نے مہدی حسن، احمد رشدی، مسعود رانا، پرویز مہدی، عنایت حسین بھٹی، اے نیئر اور دیگر بڑے گلوکاروں کے ساتھ بھی یادگار گیت پیش کیے۔ خواتین گلوکاراؤں کے ساتھ بھی ان کی آواز کا امتزاج سننے والوں کو ہمیشہ متاثر کرتا رہا۔ یوں نورجہاں کا فن کسی ایک دور، ایک فلم یا موسیقی کے ایک انداز تک محدود نہیں تھا۔
ان کی ذاتی زندگی میں نشیب و فراز بھی آئے۔ محبت، شادی، اختلافات، طلاق، دوسری شادی اور گھریلو مسائل ان کی زندگی کا حصہ رہے۔ ان کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا، بہت سے قصے بیان ہوئے اور ان کی نجی زندگی پر بہت سی آراء سامنے آئیں۔ مگر ایک فنکار کی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ اس کا فن کرتا ہے۔ نورجہاں کے معاملے میں بھی یہی ہوا۔ ذاتی زندگی کے اتار چڑھاؤ کے باوجود ان کی فنی قامت مسلسل بلند ہوتی گئی۔
نورجہاں کو تمغہِ حسنِ کارکردگی، تمغۂ امتیاز اور نگار اعزاز سمیت متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ مگر شاید ان کا سب سے بڑا اعزاز وہ ہے جو کسی سرکاری سند سے نہیں ملتا۔ وہ عوام کے دلوں میں زندہ رہنے کا اعزاز ہے
آج جب ہم ان کی پیدائش کی ایک صدی مکمل ہونے پر انہیں یاد کر رہے ہیں تو یہ سوال بھی ہمارے سامنے ہے کہ ہم نے اپنے عظیم فنکاروں کی میراث کو کس حد تک محفوظ رکھا؟ کیا ہمارے پاس نورجہاں کے فن، ریکارڈنگز، فلموں، نایاب تصاویر، انٹرویوز اور موسیقی کے ورثے کو محفوظ رکھنے کا کوئی جامع قومی منصوبہ ہے؟ کیا نئی نسل کو بتایا جا رہا ہے کہ پاکستانی موسیقی کی تاریخ صرف چند مقبول گانوں کا نام نہیں بلکہ اس کے پیچھے صدیوں کی کلاسیکی روایت اور ایسے فنکاروں کی محنت موجود ہے جنہوں نے پاکستان کی ثقافتی شناخت تشکیل دی؟
نورجہاں کی آواز کو محفوظ کرنا دراصل پاکستان کی ثقافتی تاریخ کو محفوظ کرنا ہے۔ ان کے گیتوں کی ڈیجیٹل آرکائیونگ، ان کی فلموں کی بحالی، ان کی زندگی اور فن پر تحقیقی کام، جامعات میں ان کے فن پر مطالعات اور نوجوان نسل کے لیے ان کی موسیقی سے تعارف جیسے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
نورجہاں 23 دسمبر 2000ء کو کراچی میں دنیا سے رخصت ہوئیں۔ ایک عظیم آواز خاموش ہوگئی، مگر اس خاموشی کے باوجود ان کی آواز ختم نہ ہوئی۔ یہی بڑے فنکار کی اصل پہچان ہے۔ جسم فنا ہوجاتا ہے، آواز باقی رہتی ہے؛ انسان چلا جاتا ہے، فن زندہ رہتا ہے۔
آج جب ان کی پیدائش کو سو برس مکمل ہو رہے ہیں تو نورجہاں کو یاد کرنا صرف ماضی کو یاد کرنا نہیں۔ یہ اپنے اس تہذیبی ورثے کو سلام پیش کرنا ہے جس نے ہمیں بتایا کہ آواز صرف آواز نہیں ہوتی، اگر اس میں فن، احساس، تربیت اور سچائی شامل ہو تو وہ پوری قوم کی یادداشت بن جاتی ہے۔
نورجہاں ایک گلوکارہ نہیں تھیں، ایک عہد تھیں۔ وہ ایک اداکارہ نہیں تھیں، ایک فنّی ادارہ تھیں، ایک آواز نہیں تھیں، برصغیر کی تہذیبی یادداشت تھیں۔
صدی گزر گئی، مگر ملکۂ ترنم کی آواز آج بھی زندہ ہے، دلوں کے اندر، یادوں کے درمیان اور موسیقی کی تاریخ کے روشن ترین صفحات پر۔
یہ واقعی ایک صدی کا قصہ ہے، مگر اس صدی میں نورجہاں کی آواز آج بھی جوان ہے۔
5











