5

سانحۂ پشاور: حادثہ نہیں، غفلت :حمید علی

پشاور میں نجی اسکول کے بچوں پر چھت گرنے کا دل خراش سانحہ ہو یا اس سے قبل لاہور کے ایک نجی اسکول کی عمارت کی چھت گرنے کا افسوس ناک واقعہ، یہ حادثات محض اتفاق نہیں، بل کہ ہمارے نظامِ تعلیم، محکمۂ تعلیم کی کارکردگی، نجی تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اور مانیٹرنگ کے پورے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ آخر کب تک ہمارے معصوم بچے غفلت، لاپروائی اور ناقص انتظامات کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے؟ کب تک والدین اپنے بچوں کو روشن مستقبل کی امید کے ساتھ اسکول بھیجیں گے اور پھر ان کی خیریت کی خبر کے بجائے کسی اندوہ ناک سانحے کی اطلاع سننے پر مجبور ہوں گے؟ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ہاں انسانی جان کی اہمیت کا احساس صرف اس وقت بیدار ہوتا ہے جب کوئی قیمتی زندگی ہم سے جدا ہو جاتی ہے؟

اسکول وہ درس گاہ ہے جہاں بچے علم حاصل کرنے، اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے اور ملک و قوم کا مستقبل سنوارنے کے لیے آتے ہیں۔ والدین اپنے جگر گوشوں کو اس امید کے ساتھ اسکول بھیجتے ہیں کہ وہ تعلیم حاصل کرکے ایک کامیاب اور ذمہ دار شہری بنیں گے۔ وہ اپنی محدود آمدنی میں سے فیسیں ادا کرتے ہیں، کتابیں خریدتے ہیں اور بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنی خواہشات تک قربان کر دیتے ہیں۔ لیکن جب یہی تعلیمی ادارے بچوں کے لیے غیر محفوظ ثابت ہونے لگیں تو یہ صرف عمارت کے گرنے کا واقعہ نہیں رہتا، بل کہ والدین کے اعتماد، معاشرتی ذمہ داری اور ریاستی نظام کی بنیادیں بھی لرزنے لگتی ہیں۔ ایک بچے کی زندگی کا نقصان کسی خاندان کا ہی نہیں، پوری قوم کا نقصان ہوتا ہے۔

پشاور اور لاہور کے واقعات کے بعد سب سے پہلے محکمۂ تعلیم اور نجی اسکولوں کی نگرانی پر مامور متعلقہ اداروں سے سوال ہونا چاہیے کہ ان کی ذمہ داریاں آخر کیا ہیں؟ کیا مانیٹرنگ ٹیموں کا کام صرف اسکولوں کی رجسٹریشن، اساتذہ کی حاضری، فیسوں اور کاغذی ریکارڈ کی جانچ پڑتال تک محدود ہے؟ کیا ان کے معائنے میں عمارت کی مضبوطی، چھتوں کی حالت، دیواروں میں دراڑوں، ہنگامی راستوں اور بچوں کی جان و سلامتی کے انتظامات کو بھی شامل کیا جاتا ہے؟ اگر یہ سب کچھ باقاعدگی سے ہوتا ہے تو پھر ایسے افسوس ناک واقعات کی نوبت کیوں آتی ہے؟ اور اگر یہ معائنے محض دفتری کارروائی تک محدود ہیں تو پھر اس غفلت کا حساب کون دے گا؟ یہ سوالات کسی ایک افسر یا ادارے پر الزام لگانے کے لیے نہیں، بل کہ ذمہ داری کا تعین کرنے اور مستقبل میں ایسے سانحات کو روکنے کے لیے اٹھانا ضروری ہیں۔

ہمارے نظام کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ کاغذوں میں کارروائیاں مکمل دکھائی دیتی ہیں، رپورٹوں میں معائنے درج ہوتے ہیں اور فائلوں میں سب کچھ درست نظر آتا ہے، لیکن عملی صورتِ حال بعض اوقات ان دعووں کے برعکس ہوتی ہے۔ کسی عمارت کا باہر سے خوب صورت دکھائی دینا اس کے محفوظ ہونے کی ضمانت نہیں، اسی طرح کسی اسکول کی رجسٹریشن یا اجازت نامہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ اس کی عمارت ہر لحاظ سے محفوظ ہے۔ عمارتوں کی مضبوطی کا جائزہ متعلقہ فنی ماہرین سے لیا جانا چاہیے۔ صرف رسمی دوروں، تصاویر اور دستخطوں سے بچوں کی زندگیوں کا تحفظ ممکن نہیں۔ مانیٹرنگ کا اصل مقصد خامیاں سامنے آنے کے بعد کارروائی کرنا اور ممکنہ خطرات کو حادثے میں بدلنے سے پہلے ختم کرنا ہے۔

یہاں نجی اسکولوں کے مالکان اور انتظامیہ کی ذمہ داری بھی کسی صورت نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔ تعلیم ایک اہم خدمت اور قومی امانت ہے، اسے محض کاروباری منافع تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ والدین جب اپنے بچوں کو کسی ادارے میں داخل کراتے ہیں تو وہ صرف تعلیم نہیں خریدتے، بل کہ اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے بھی اس ادارے پر اعتماد کرتے ہیں۔ اگر کسی اسکول کی عمارت خستہ حال ہے، چھت کمزور ہے یا تعمیراتی اعتبار سے خطرناک ہے تو انتظامیہ کا فرض ہے کہ فوری طور پر اس کی مرمت اور بہتری کے اقدامات کرے۔ اگر عمارت کو محفوظ بنانا ممکن نہ ہو تو بچوں کو وہاں بٹھانے کا سلسلہ روک دینا چاہیے۔ چند دن تعلیمی سرگرمیاں معطل ہونے سے ہونے والا نقصان اس نقصان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جو کسی بچے کی جان جانے سے پورے خاندان کو عمر بھر کے لیے برداشت کرنا پڑتا ہے۔

حکومت اور متعلقہ محکموں کو چاہیے کہ پشاور اور لاہور جیسے واقعات کو الگ الگ حادثے سمجھ کر نظرانداز کرنے کے بجائے ان سے سبق حاصل کریں۔ تمام سرکاری اور نجی اسکولوں کی عمارتوں کا ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی آڈٹ کرایا جائے۔ اس کام کے لیے تعمیرات اور عمارتوں کی سلامتی کے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں، تاکہ ہر عمارت کی حقیقی حالت کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ جن اسکولوں میں معمولی نوعیت کی خامیاں ہوں، انہیں مقررہ مدت میں دور کرنے کا پابند بنایا جائے، جب کہ سنگین خطرات کی صورت میں عمارت کو محفوظ قرار دیے جانے تک تعلیمی سرگرمیاں روک دی جائیں۔ اس عمل میں کسی ادارے کی شہرت، اثر و رسوخ، مالی حیثیت یا سیاسی تعلق کو ترجیح نہیں ملنی چاہیے۔ قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہیے، کیوں کہ بچوں کی جان کسی بھی انتظامی یا مالی مصلحت سے زیادہ قیمتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ مانیٹرنگ ٹیموں کی کارکردگی کا بھی آزادانہ جائزہ لینا ضروری ہے۔ ہر اسکول کے معائنے کی تاریخ، رپورٹ، سامنے آنے والی خامیوں اور ان کے ازالے کی تفصیلات کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے۔ والدین کو بھی یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اسکول کی عمارت کی حفاظتی صورتِ حال اور متعلقہ معائنے کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں۔ اگر کسی افسر یا اہلکار نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی، کسی خطرناک عمارت کو غفلت کے باعث نظرانداز کیا یا معائنے میں بے ضابطگی کی تو شواہد کی بنیاد پر اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ تاہم احتساب صرف ماتحت اہلکاروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بل کہ متعلقہ افسران، اداروں کے سربراہوں اور انتظامی ذمہ داروں سے بھی جواب طلب کیا جانا چاہیے۔ آخر نگرانی کرنے والوں کی نگرانی کون کرے گا؟ اگر اس سوال کا جواب بھی خاموشی ہے تو پھر نظام میں اصلاح کی امید کیسے کی جا سکتی ہے؟

ہمارے معاشرے میں ایک اور افسوس ناک روایت یہ ہے کہ کسی بڑے حادثے کے بعد چند روز تک مذمتی بیانات، تحقیقات کے اعلانات اور کمیٹیاں بنانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ حکام متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے وعدے کیے جاتے ہیں اور میڈیا پر بھی یہ معاملہ زیر بحث رہتا ہے۔ لیکن کچھ وقت گزرنے کے بعد وہی خاموشی چھا جاتی ہے، رپورٹوں کا انجام معلوم نہیں ہوتا اور عوام کو یہ بھی پتا نہیں چلتا کہ کسی غفلت کے ذمہ دار کو سزا ملی یا نہیں۔ اگر ہر سانحے کے بعد صرف افسوس کا اظہار ہی ہمارا قومی ردعمل رہے گا تو اصلاح کا راستہ کبھی ہموار نہیں ہو سکے گا۔ ضروری ہے کہ تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں، ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور اصلاحی اقدامات پر عمل درآمد کی نگرانی بھی کی جائے۔

اس مسئلے میں والدین، مقامی نمائندوں اور معاشرے کے دیگر افراد کا کردار بھی اہم ہے، لیکن ریاستی اداروں اور اسکول انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری کو عوام پر منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے تعلیمی اداروں میں حفاظتی انتظامات کے بارے میں سوال کریں اور کسی واضح خطرے کی صورت میں متعلقہ حکام کو آگاہ کریں۔ اسکول انتظامیہ کو شکایات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، جب کہ متعلقہ محکموں کو ایسی شکایات پر فوری کارروائی کرنی چاہیے۔ اساتذہ کو بھی بچوں کو ہنگامی صورتِ حال میں محفوظ طریقے سے باہر نکلنے کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے۔ تاہم ان تمام اقدامات کے باوجود عمارت کی فنی سلامتی یقینی بنانا اور مؤثر نگرانی کرنا متعلقہ اداروں اور مالکان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ عوامی آگاہی اس وقت ہی نتیجہ خیز ہو سکتی ہے جب شکایت سننے اور کارروائی کرنے کا نظام بھی فعال ہو۔

پشاور ہو یا لاہور، شہر کوئی بھی ہو، اسکول سرکاری ہو یا نجی، بچوں کی زندگی اور سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔ یہ واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ تعلیم کا معیار صرف اچھے نتائج، جدید نصاب، شاندار عمارتوں اور بڑی بڑی تشہیری مہمات سے نہیں ناپا جا سکتا۔ ایک معیاری تعلیمی ادارہ وہی ہے جہاں بچے محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کریں، والدین مطمئن ہوں اور انتظامیہ اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہو۔ اگر ایک اسکول اپنے طلبہ کو محفوظ چھت فراہم نہیں کر سکتا تو اس کی تعل…

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں