14

جوہری ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال پر مظفرآباد میں اہم سیمینار، ماہرین نے اہم پہلو اجاگر کر دیے

مظفرآباد(خبرنگار) مرکز برائے بین الاقوامی تزویراتی مطالعات، آزاد جموں و کشمیر (CISS AJK) کے زیرِ اہتمام ’’من و ترقی کے لیے جوہری سفارت کاری: پُرامن جوہری ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے پاکستان کا آئی اے ای اے بورڈ آف گورنرز سے مؤثر اشتراک ‘‘کے موضوع پر06اکتوبرکی شام سیمینار منعقد ہوا۔ سیمینار میں ممتاز جوہری سائنس دانوں، متعلقہ اداروں کے ماہرین، سفارت کاروں اور ماہرینِ تعلیم نے شرکت کی۔ سیمینار کا مقصد بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے بورڈ آف گورنرز کے ساتھ پاکستان کے تعاون و اشتراک اور جوہری ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال کی امن، ترقی اور انسانی فلاح و بہبود کے فروغ میں اہمیت کا جائزہ لینا تھا۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر CISS AJK ڈاکٹر اسماء شاکر خواجہ نے جوہری سفارت کاری، جوہری ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال اور پاکستان کے بین الاقوامی جوہری اداروں کے ساتھ تعاون کے حوالے سے سیمینار کے بنیادی خدوخالاور اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے مرکز برائے بین الاقوامی تزویراتی مطالعات، آزاد جموں و کشمیر اور اس کی علمی و تحقیقی سرگرمیوں کا مختصر تعارف پیش کیا، جس کے بعد شرکاء کو پاکستان نیوکلیئر سوسائٹی (PNS) کے حوالے سے ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی۔تقریب سے ہلالِ امتیاز، سابق چیئرمین، پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی (PNRA)انجینئر محمد انور حبیب نے ’’آئی اے ای اے بورڈ آف گورنرز کا مینڈیٹ اور طریق کار: جوہری تحفظ، جوہری سلامتی اور پُرامن استعمالات کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف ‘‘کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔ اس موقع پر سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکاء نے مقرر سے مختلف امور پر سوالات کیے اور تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ڈین فیکلٹی آف سائنسز، آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیق نے پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے حصول میں جوہری ٹیکنالوجی کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے پائیدار ترقی، توانائی، صحت، زراعت، سائنسی تحقیق اور انسانی ترقی کے مختلف شعبوں میں جوہری ٹیکنالوجی کے مؤثر کردار کو اجاگر کیا اور اس امر پر زور دیا کہ جوہری سائنس و ٹیکنالوجی ترقی پذیر معاشروں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔وائس پریزیڈنٹ پاکستان نیوکلیئر سوسائٹی مسٹر وقار احمد بٹ نے ’’جوہری ٹیکنالوجی اور اس کے مفید استعمالات ‘‘کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے توانائی کے شعبے سے ماورا جوہری ٹیکنالوجی کے وسیع پیمانے پر پُرامن استعمالات کا جائزہ پیش کیا اور صحت، زراعت، غذائی تحفظ، صنعت اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں جوہری سائنس کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے پائیدار ترقی اور سماجی و معاشی پیش رفت میں جوہری ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جوہری ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمالات انسانی صحت کے تحفظ، زرعی پیداوار میں اضافے اور خوراک کے معیار و تحفظ کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایڈوائزر (ممبر سائنس)پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) ڈاکٹر شازیہ فاطمہ نے ’’صحت کے شعبے میں جوہری ٹیکنالوجی ‘‘کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے طبی تشخیص، طبی عکس نگاری اور بیماریوں کی تشخیص و علاج میں جوہری ٹیکنالوجی کے استعمالات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ریڈیو آئسوٹوپس اور نیوکلیئر میڈیسن کے ذریعے مختلف بیماریوں کی بروقت تشخیص اور مؤثر علاج کے امکانات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے سرطان کی تشخیص اور علاج میں جوہری تکنیکوں کے استعمال پر بھی تفصیلی گفتگو کی اور اس امر پر زور دیا کہ جوہری ٹیکنالوجی بیماریوں کی ابتدائی اور درست تشخیص، مؤثر علاج اور صحت کے بہتر نتائج کے حصول میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ سابق ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (بین الاقوامی امور) پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) جی۔ آر۔ آتھر نے ’’توانائی کے تحفظ اور انسانی ترقی کے ستون کے طور پر جوہری ٹیکنالوجی ‘‘کے موضوع پر گفتگو کی۔ انہوں نے توانائی کے تحفظ، معاشی ترقی اور پائیدار انسانی ترقی کے فروغ میں جوہری ٹیکنالوجی کی تزویراتی اور ترقیاتی اہمیت کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے طویل المدتی توانائی کے تحفظ اور بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں جوہری توانائی کے کردار کو اجاگر کیا اور کہا کہ جوہری توانائی قابلِ اعتماد اور پائیدار توانائی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کے لیے بھی اہم مواقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے انسانی ترقی، سائنسی پیش رفت اور سماجی و معاشی ترقی میں جوہری ٹیکنالوجی کے وسیع تر کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ فنانس سیکرٹری، پاکستان نیوکلیئر سوسائٹی اور چیف سائنٹسٹ (ریٹائرڈ)ایم۔ عباس قمر نے ’’جوہری تابکاری: ذرائع، صحت کے لیے خطرات اور بنیادی حفاظتی اقدامات ‘‘کے موضوع پر ایک معلوماتی پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے جوہری تابکاری کے مختلف ذرائع، اس سے لاحق ممکنہ صحت کے خطرات اور تابکاری سے تحفظ کے بنیادی اقدامات کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے تابکاری سے متعلق عوامی آگاہی، حفاظتی اصولوں کی پابندی اور تابکاری کے ذرائع کو ذمہ دارانہ اور محفوظ انداز میں استعمال کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔سیمینار کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن منعقد ہوا، جس میں شرکاء نے مقررین سے مختلف موضوعات پر سوالات کیے اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ بعد ازاں معزز مقررین کو یادگاری سووینئرز پیش کیے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں