8

پاکستان میں لگائے گئے گورنر راج اور ایمرجنسییاں: حمید علی

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آئین کی بالادستی، جمہوری تسلسل اور صوبائی خودمختاری کے سوالات ہمیشہ اہم رہے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد مختلف ادوار میں سیاسی بحرانوں، امن و امان کی صورتِ حال اور اقتدار کی کشمکش کے دوران ایسے غیر معمولی اقدامات کیے گئے جن کے اثرات ملک کے سیاسی اور آئینی نظام پر مرتب ہوئے۔ کبھی منتخب حکومتوں کو برطرف کیا گیا، کبھی آئینی نظام معطل ہوا اور کبھی گورنر راج یا ایمرجنسی کے ذریعے صوبائی انتظامی اختیارات وفاق کے ہاتھ میں منتقل کیے گئے۔ ان واقعات کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ریاستی اختیارات کا اصل امتحان ان کے استعمال میں پوشیدہ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ آئین غیر معمولی حالات میں اقدامات کی اجازت دیتا ہے یا نہیں بل کہ اصل سوال یہ ہے کہ ان اختیارات کو کن حالات میں، کس مقصد کے لیے اور کس آئینی طریقۂ کار کے تحت استعمال کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی تاریخ مختلف سیاسی ادوار پر پھیلی ہوئی ہے۔ 1949ء میں پنجاب کی حکومت کی برطرفی سے لے کر 1954ء میں مشرقی پاکستان کی منتخب حکومت کے خاتمے تک، صوبائی معاملات میں وفاقی مداخلت کی متعدد مثالیں ملتی ہیں۔ بعدازاں 1973ء میں بلوچستان کی منتخب حکومت کی برطرفی نے وفاق اور صوبوں کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کی۔ اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے صوبہ سرحد، جو آج خیبر پختونخوا کہلاتا ہے، کے وزیراعلیٰ مفتی محمود نے استعفیٰ دے دیا۔ اس واقعے نے واضح کیا کہ ایک صوبے میں سیاسی بحران کے اثرات دوسرے صوبوں اور پورے وفاقی نظام تک پھیل سکتے ہیں۔ تاریخ کے یہ ابواب اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ صوبائی خودمختاری اور عوامی مینڈیٹ کو نظرانداز کرنے کے نتائج محض ایک حکومت کی تبدیلی تک محدود نہیں رہتے۔

پاکستان میں گورنر راج کے علاوہ مارشل لاء اور ایمرجنسی کے واقعات بھی جمہوری نظام کے لیے بڑے چیلنج ثابت ہوئے۔ 1958ء میں صدر اسکندر مرزا نے آئین منسوخ کرکے مارشل لاء نافذ کیا، تاہم چند ہی ہفتوں بعد جنرل ایوب خان نے اقتدار سنبھال لیا۔ 1977ء میں جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا جب کہ 1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت ختم کرکے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ یہ واقعات گورنر راج سے الگ نوعیت رکھتے ہیں، لیکن ان سے ایک مشترکہ سوال ضرور جنم لیتا ہے کہ سیاسی بحرانوں کا حل آئینی اور جمہوری راستوں سے تلاش کیا جانا چاہیے یا طاقت کے ذریعے نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔

ایمرجنسی کے حوالے سے بھی پاکستان کی تاریخ میں اہم واقعات موجود ہیں۔ 3 نومبر 2007ء کو جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی نافذ کرکے آئینی نظام اور عدلیہ کی آزادی کو شدید متاثر کیا۔ ججوں کو حلفِ نو لینے کا پابند بنایا گیا اور بنیادی حقوق پر بھی اثرات مرتب ہوئے۔ اس واقعے نے ملک میں آئین کی بالادستی، عدلیہ کی خودمختاری اور ریاستی اختیارات کی حدود سے متعلق ایک وسیع بحث کو جنم دیا۔ تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر ایمرجنسی مارشل لاء نہیں ہوتی اور نہ ہی ہر غیر معمولی آئینی اقدام کو گورنر راج کہا جاسکتا ہے۔ ان اصطلاحات کے قانونی مفاہیم الگ ہیں، جنھیں تاریخی اور سیاسی تجزیے میں الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔

آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 232 جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی سنگین داخلی صورتِ حال میں ہنگامی حالت کے نفاذ سے متعلق ہے جس کے لیے آئین میں مقررہ شرائط پوری ہونا ضروری ہیں۔ دوسری جانب آرٹیکل 234 اس صورتِ حال سے متعلق ہے جب کسی صوبے میں آئین کے مطابق حکومت چلانا ممکن نہ رہے۔ ایسی صورت میں مخصوص آئینی شرائط کے تحت صوبائی اختیارات کے استعمال سے متعلق غیر معمولی اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ ان دونوں دفعات کا مقصد اور دائرۂ کار مختلف ہے، اس لیے گورنر راج اور ایمرجنسی کو ایک ہی مفہوم میں استعمال کرنا درست نہیں۔ آئین نے ان اختیارات کے استعمال کے لیے جو شرائط مقرر کی ہیں، ان کی پابندی ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔

فروری 2009ء میں پنجاب میں گورنر راج کا نفاذ بھی ملکی سیاسی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں شہباز شریف کی وزارتِ اعلیٰ ختم ہونے کے بعد صوبے میں سیاسی بحران پیدا ہوا اور وفاقی حکومت نے صوبائی انتظام سنبھالنے کا فیصلہ کیا۔ یہ صورتِ حال تقریباً دو ماہ جاری رہی، جس کے بعد پنجاب میں منتخب حکومت کا نظام بحال ہوگیا۔ اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر یہ بحث چھیڑی کہ گورنر راج جیسے غیر معمولی اقدامات انتظامی ضرورت کے تحت کیے جاتے ہیں یا سیاسی اختلافات کے دوران طاقت کے استعمال کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ ایسے معاملات میں فیصلہ کن اہمیت سیاسی دعووں کی نہیں بل کہ آئینی جواز، قانونی طریقۂ کار اور متعلقہ حالات کی ہوتی ہے۔

خیبر پختونخوا آج دہشت گردی، امن و امان کے مسائل اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان سیاسی کشیدگی جیسے سنگین چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کی جان و مال کا تحفظ، دہشت گردی کا مؤثر مقابلہ اور قانون کی عمل داری یقینی بنانا ہے۔ تاہم یہ مقاصد اسی وقت پائیدار نتائج دے سکتے ہیں جب وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان مؤثر تعاون موجود ہو۔ اگر سیاسی اختلافات کو قومی سلامتی کے مسائل کے ساتھ خلط ملط کردیا جائے تو مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائی اور عوامی نمائندگی کا تحفظ ایک دوسرے کے متضاد نہیں بل کہ دونوں ریاستی ذمہ داریوں کا حصہ ہیں۔

اگر کسی صوبے میں واقعی ایسی صورتِ حال پیدا ہوجائے کہ معمول کے آئینی طریقۂ کار کے ذریعے حکومت چلانا ممکن نہ رہے تو آئین کے مطابق اقدام کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے واضح شواہد، قانونی جواز اور مقررہ طریقۂ کار کی پابندی ضروری ہے۔ محض سیاسی اختلاف، مخالف جماعت سے ناراضی یا حکومت کی کارکردگی پر تنقید گورنر راج کے لیے کافی جواز نہیں بن سکتے۔ پارلیمانی نگرانی، عدالتی جانچ اور عوام کے سامنے جواب دہی اس لیے اہم ہیں کہ غیر معمولی اختیارات کو غیر ضروری یا غیر محدود استعمال سے محفوظ رکھا جاسکے۔

پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ آئین کو معطل کرنے، منتخب حکومتوں کو برطرف کرنے یا صوبائی اختیارات محدود کرنے سے سیاسی مسائل مستقل طور پر حل نہیں ہوئے۔ اس کے برعکس، ایسے اقدامات نے کئی مواقع پر اداروں کے درمیان بداعتمادی، سیاسی محرومیوں اور وفاقی کشیدگی میں اضافہ کیا۔ خیبر پختونخوا کے معاملے میں بھی اصل امتحان یہی ہے کہ ریاستی اختیار آئینی حدود کے اندر رہ کر استعمال ہوتا ہے یا سیاسی اختلافات کو انتظامی طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جمہوریت محض انتخابات کا نام نہیں بل کہ یہ عوام کے فیصلے کو تسلیم کرنے، اختلافِ رائے برداشت کرنے اور قانون کی بالادستی قائم رکھنے کا عہد ہے۔ پاکستان کو ایک اور آئینی بحران سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا جائے، سیاسی مسائل کا حل مذاکرات سے نکالا جائے اور ہر غیر معمولی اقدام کو آئینی تقاضوں کے تابع رکھا جائے کیوں کہ ریاست کی اصل مضبوطی اختیارات کے ارتکاز میں نہیں بل کہ آئین کی پاس داری، اداروں کے احترام اور عوام کے اعتماد میں پوشیدہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں