ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی حال ہی میں منعقد ہونے والی پریس کانفرنس نے سیکیورٹی، گورننس، معاشی استحکام، دہشت گردی اور بیرونی مداخلت کا احاطہ کرتے ہوئے پاکستان کی حکمت عملی اور قومی ترجیحات کی عکاسی کی۔ راولپنڈی میں دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی اس بریفنگ نے عملی ڈیٹا، چارٹس اور پریزنٹیشنز کی مدد سے حساس قومی مسائل کو اجاگر کرکے ایک روایتی سیکیورٹی اپ ڈیٹ سے آگے بڑھ کر شفافیت پر زور دیا اور ملک کی سیکیورٹی صورتحال اور طویل مدتی منصوبوں پر فوج کے نقطہ نظر کو پیش کیا۔ اس کانفرنس کا ایک اہم پیغام یہ تھا کہ پائیدار سیکیورٹی کے لیے اچھی گورننس ناگزیر ہے اور مظبوط انتظامی و ادارہ جاتی صلاحیت کے بغیر صرف فوجی کارروائی سے دہشت گردی کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے سیکیورٹی اور گورننس کو ایک دوسرے پر منحصر قرار دیا، قومی ایکشن پلان کو انتہا پسندی کے خاتمے، دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکنے اور اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے متفقہ فریم ورک کے طور پر پیش کیا اور تجویز دی کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ کیا پاکستان کا چار صوبائی انتظامی ڈھانچہ 240 سے 250 ملین کی آبادی کی ضروریات کو مناسب طریقے سے پورا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی انتظامی تبدیلی کا فیصلہ سیاسی قیادت کو آئینی اور قانونی عمل کے ذریعے عوام کی مرضی کے مطابق کرنا چاہیے جبکہ آئینی فریم ورک کے اندر سیاسی و انتظامی اصلاحات پر سول اتھارٹی اور فوج کے سیکیورٹی کردار کی توثیق بھی کی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہشت گردی کے خلاف آپریشنز پر مبنی وسیع ڈیٹا بھی پیش کیا، جس میں انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے 2026 میں 40,348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جو کہ روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 200 بنتے ہیں اور ان میں بلوچستان میں کیے گئے 31,000 سے زائد آپریشنز بھی شامل ہیں۔ انہوں نے ملک بھر میں دہشت گردی کے 3,145 واقعات کی رپورٹ دی، جن میں سے 1,971 خیبر پختونخوا، 1,148 بلوچستان اور 26 دیگر علاقوں میں پیش آئے، جن کے نتیجے میں 2,084 تصدیق شدہ دہشت گرد مارے گئے، جو کہ روزانہ اوسطاً 10 کی شرح بنتی ہے اور انہوں نے اسے ملک کی تاریخ کا سب سے زیادہ عملی تناسب قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں 819 پاکستانیوں نے اپنی جانیں قربان کیں، جن میں پاک فوج کے 303 اہلکار، پولیس و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 194 اہلکار اور 322 شہری شامل ہیں، جبکہ ملک بھر میں خودکش حملوں کے 28 واقعات پیش آئے جن میں سے اکثر کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ افغان شہریوں نے کیے تھے، جو موثر بارڈر مینجمنٹ اور علاقائی تعاون کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ “ہارڈ اسٹیٹ” کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب فوجی حکومت یا آمریت نہیں بلکہ آئین اور قانون کی حکمرانی کا بلاتفریق نفاذ، تمام معاملات کا آئینی و قانونی طریقہ کار کے ذریعے حل، قانون کے سامنے برابری، مضبوط ادارے، احتساب اور جمہوری حقوق و آزادیوں کا تحفظ ہے۔ بلوچستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے سیکیورٹی صورتحال کی خرابی کے دعوؤں کو مسترد کیا اور الزام عائد کیا کہ کچھ اشرافیہ گروہوں اور قبائلی رہنماؤں نے اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے تاریخی طور پر سماجی ترقی کی مخالفت کی ہے، جبکہ ریاست کا مقصد عام شہریوں کو بااختیار بنانا، حقیقی شکایات کو دور کرنا اور شدت پسند گروہوں کے خلاف آپریشنز جاری رکھنا ہے۔ انہوں نے جاری سماجی و معاشی اقدامات کا خاکہ بھی پیش کیا، جن میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری، مانگی ڈیم، کچھی کینال اور پاکستان ایکسپریس وے جیسے منصوبے، 100 ڈیمز پروجیکٹ کے تحت 52 ڈیموں کی تکمیل، ہر ماہ 16 تعلیمی اداروں اور دو صحت کی سہولیات کا قیام اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے، معیار زندگی کو بہتر بنانے اور دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کو دور کرنے کے لیے بلوچستان گرین انیشیٹو کے تحت جھینگا فارمنگ اور کسانوں کے قرضوں کے لیے فراہم کی جانے والی معاونت شامل ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال پر بھی بات کی اور یہ واضح کیا کہ ریاست کسی بھی بے چینی کو جمہوری اور آئینی عمل کو پٹڑی سے اتارنے کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی مسائل کو جمہوری اور آئینی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے اور ریاست کا کردار ایک پرامن ماحول کو یقینی بنانا ہے جہاں جمہوری ادارے مؤثر طریقے سے کام کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست نے حالیہ بے چینی سے نمٹنے میں ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور انتخابی عمل بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے گا، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ عوام کی مرضی کا اظہار بیلٹ باکس کے ذریعے ہو۔ انہوں نے کشمیر پر پاکستان کے دیرینہ اور اٹل موقف کا اعادہ کیا، اسے برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا اور ملک کی قومی پالیسی کا مرکزی نقطہ قرار دیا۔ انہوں نے ان تمام دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا کہ پاک فوج آذاد کشمیر میں ایک غاصب فوج ہے، اور وضاحت کی کہ خطے میں سیکیورٹی کے امور آزاد کشمیر حکومت، اس کی پولیس اور سویلین قانون نافذ کرنے والے ادارے سنبھالتے ہیں۔ یہ وضاحت ان جھوٹے بیانیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اہم تھی جو کشمیر کے تنازعے پر پاکستان کے اخلاقی اور قانونی موقف کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران ایک بار بار سامنے آنے والا اور طاقتور موضوع بیرونی مداخلت کا مسئلہ تھا، جس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے ہندوستان کی طرف واضح اشارہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ براہ راست تصادم کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد ہندوستان نے اب تیزی سے پروکسی وارفیئر کی طرف رخ کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تین سو سے زائد ہندوستانی ویب سائٹس بلوچستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے کے لیے فعال طور پر کام کر رہی ہیں اور پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کا ساٹھ فیصد حصہ ہندوستان سے شروع ہوتا ہے۔ انہوں نے ایک ایسے پیچیدہ طریقہ کار کو بیان کیا جہاں دہشت گردانہ واقعات کے فوری بعد دہشت گرد تنظیموں اور ہندوستانی میڈیا پلیٹ فارمز پر مشتمل مربوط آن لائن مہمات شروع کی جاتی ہیں، جن کا مقصد خوف کو بڑھانا اور عدم استحکام کی مبالغہ آرائی پر مبنی تصویر پیش کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے ہندوستان پر دہشت گرد پروکسیز کی مالی معاونت اور حمایت کرنے اور اندرون ملک پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی ناپاک کوشش میں نفسیاتی جنگ اور ڈیجیٹل پروپیگنڈے کا استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دلیل دی کہ یہ بیرونی جہت اندرونی سیکیورٹی چیلنجز میں پیچیدگی کی ایک اور تہہ کا اضافہ کرتی ہے، جس کے لیے ایک جامع قومی ردعمل کی ضرورت ہے جو سفارتی اور اطلاعاتی جوابی تدابیر کے ساتھ فوجی ہوشیاری کو جوڑتا ہے۔
فوری سیکیورٹی اور سیاسی مسائل سے ہٹ کر ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہشت گردی اور ملک کی معیشت کے درمیان اہم تعلق پر بھی بات کی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سیکیورٹی فورسز نے ان غیر قانونی معاشی سرگرمیوں کے خلاف آپریشنز کیے ہیں جو پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان آپریشنز کے دوران اربوں روپے کا سمگل شدہ سامان اور اٹھارہ ارب روپے کی منشیات ضبط کی گئی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کچھ عناصر ان اقدامات سے مایوس ہیں کیونکہ دہشت گرد گروہوں کے سمگلنگ نیٹ ورکس کے ساتھ مضبوط روابط ہیں اور ایک مضبوط ریاست اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ ان معاشی جرائم کو نشانہ بنا کر سیکیورٹی فورسز نہ صرف دہشت گردوں کی مالی معاونت کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ ملک کے جائز معاشی مفادات کا بھی تحفظ کر رہی ہیں، جس سے مجموعی معاشی استحکام اور ترقی میں مدد مل رہی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کا پاک فوج سے محبت کرنے والی پاکستان کی عوام نے بھرپور خیرمقدم کیا ہے، کیونکہ اس نے انہیں قوم کو درپیش چیلنجز اور ان پر قابو پانے کے لیے دی جانے والی قربانیوں کا ایک جامع اور شفاف احوال فراہم کیا۔ پاکستان کی عوام پاک فوج پر بے پناہ فخر محسوس کرتی ہے جو ملک میں دیرپا امن اور استحکام لانے کے لیے اپنی بہترین کوششیں کر رہی ہے۔ لوگ ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ کو مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، لگن اور حب الوطنی کے جذبے کا ثبوت سمجھتے ہیں، جو نہ صرف سرحدوں کا دفاع کر رہی ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک خوشحال مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے بھی فعال طور پر کام کر رہی ہیں۔ عوام کی طرف سے ملنے والا زبردست مثبت ردعمل قومی مفاد کے تحفظ کی فوج کی صلاحیت پر گہرے اعتماد اور ان سپاہیوں اور افسران کے اٹھائے گئے بھاری بوجھ کے اعتراف کی عکاسی کرتا ہے جو قوم کے لیے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں۔ اس پریس کانفرنس نے ایک متحدہ قوت کے طور پر کام کیا ہے، جس نے قوم کو خطرات کی مشترکہ تفہیم اور ہمت اور عزم کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنے کے اجتماعی عزم کے گرد اکٹھا کیا ہے۔ اس نے عوام اور فوج کے درمیان رشتے کو مزید مضبوط کیا ہے اور ہر ایک کو یاد دلایا ہے کہ پاکستان کے مستقبل کی جنگ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے جس کے لیے ان وردی پوش بہادروں کی اٹل حمایت کی ضرورت ہے جو ملک کی خود مختاری اور سلامتی کے حتمی ضامن کے طور پر کھڑے ہیں۔











