10

بلدیاتی انتخابات اختیارعوام تک کب پہنچے گا؟ حمید علی

پاکستان میں جمہوریت کا ذکر ہو تو عموماً قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہماری گفتگو کا مرکز بن جاتے ہیں، مگر جمہوریت کی اصل جڑیں مقامی سطح پر مضبوط ہوتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے عدالتی احکامات اور الیکشن کمیشن کو انتخابات کرانے کی ہدایات کی خبریں ایک بار پھر منظرِ عام پر آئی ہیں۔ یہ صورتِ حال محض ایک انتخابی عمل کا معاملہ نہیں بل کہ اس سوال کو بھی جنم دیتی ہے کہ آخر عام شہری کو اپنے محلے، یونین کونسل، شہر اور ضلع کے معاملات میں براہِ راست اختیار کب ملے گا؟

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بلدیاتی نظام ہمیشہ سے ایک اہم مگر نظر انداز کیا جانے والا باب رہا ہے۔ مختلف ادوار میں مختلف ناموں اور ساخت کے ساتھ مقامی حکومتوں کے نظام متعارف کرائے گئے۔ 2001ء میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں نیا بلدیاتی نظام نافذ ہوا، جس کے تحت ضلعی حکومتوں کو اختیارات دینے اور نچلی سطح تک فیصلہ سازی منتقل کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس نظام کے بعد 2005ء میں بھی بلدیاتی انتخابات ہوئے۔ بعد ازاں سیاسی نظام میں تبدیلی کے ساتھ یہ نظام بھی اپنی سابقہ شکل برقرار نہ رکھ سکا۔

2015ء میں ملک کے مختلف صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کا ایک اہم مرحلہ مکمل ہوا۔ پنجاب اور سندھ میں 2015ء کے انتخابات کے بعد ایک طویل عرصے تک نئے انتخابات کا انتظار جاری رہا۔ خیبر پختون خوا میں 2021ء اور 2022ء میں بلدیاتی انتخابات کے مراحل ہوئے، جب کہ بلوچستان میں بھی 2022ء میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا گیا۔ یوں پورے ملک میں بلدیاتی انتخابات کی صورتِ حال ایک جیسی نہیں رہی، تاہم کئی علاقوں میں مقامی حکومتوں کا تسلسل ضرور متاثر ہوا۔

خاص طور پر پنجاب کے تناظر میں دیکھا جائے تو 2015ء کے بلدیاتی انتخابات کے بعد تقریباً گیارہ برس گزرنے کو ہیں۔ اتنا طویل وقفہ اس بات کا متقاضی ہے کہ صرف انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے پر اکتفا نہ کیا جائے بل کہ ایسا مقامی حکومتی نظام قائم کیا جائے جو باقاعدگی، تسلسل اور مؤثر اختیارات کے ساتھ کام کر سکے۔

بلدیاتی ادارے کسی بھی جمہوری معاشرے میں شہریوں اور ریاست کے درمیان سب سے قریبی رابطہ ہوتے ہیں۔ گلی کی ٹوٹی ہوئی سڑک، محلے کا گندا نالہ، پینے کے پانی کا مسئلہ، صفائی ستھرائی، نکاسیٔ آب، پارک، اسٹریٹ لائٹس اور مقامی سطح کے دیگر مسائل براہِ راست عام شہری کی زندگی سے وابستہ ہوتے ہیں۔ ایک عام آدمی کے لیے یہ مسائل قومی اسمبلی کے رکن سے زیادہ اپنے بلدیاتی نمائندے سے متعلق ہوتے ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ روایت مضبوط نہیں ہو سکی کہ منتخب بلدیاتی اداروں کو مسلسل اختیارات، وسائل اور مدتِ کار فراہم کی جائے۔ انتخابات ہوتے ہیں، نمائندے منتخب ہوتے ہیں، مگر پھر مختلف وجوہ کی بنیاد پر نظام ختم یا معطل ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام کے مسائل ایک دفتر سے دوسرے دفتر تک منتقل ہوتے رہتے ہیں اور شہری اپنے بنیادی مسائل کے حل کے لیے غیر ضروری طور پر سیاسی اثر و رسوخ تلاش کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

بلدیاتی انتخابات کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے اقتدار نچلی سطح تک منتقل ہوتا ہے۔ قومی اور صوبائی سطح کے نمائندے قانون سازی اور بڑے پالیسی معاملات پر توجہ دے سکتے ہیں، جب کہ مقامی نمائندے روزمرہ شہری مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ اس تقسیمِ اختیار سے نہ صرف انتظامی کارکردگی بہتر ہوتی ہے بل کہ عوام میں جمہوری شعور بھی پروان چڑھتا ہے۔

بلدیاتی نظام سیاسی تربیت کی ایک عملی درس گاہ بھی ہے۔ ایک نوجوان جو یونین کونسل یا مقامی سطح سے سیاست کا آغاز کرتا ہے، وہ عوام کے مسائل کو قریب سے سمجھتا ہے، لوگوں کے درمیان رہتا ہے اور عملی طور پر انتظامی معاملات سے واقف ہوتا ہے۔ یہی لوگ آگے چل کر صوبائی اور قومی سیاست میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مضبوط جمہوریت کے لیے مضبوط مقامی قیادت ناگزیر ہے۔

عدالتوں کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے آنے والی ہدایات اس امر کی یاد دہانی ہیں کہ مقامی حکومتیں آئینی تقاضا ہیں، محض سیاسی ضرورت نہیں۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 140-A صوبوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ قانون کے ذریعے مقامی حکومت کا نظام قائم کریں اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داری و اختیار منتخب مقامی نمائندوں کو منتقل کریں۔ اس آئینی روح کو محض کاغذی کارروائی تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ بلدیاتی انتخابات کو کسی سیاسی جماعت کے فائدے یا نقصان کے تناظر میں نہیں بل کہ عوام کے بنیادی حق کے طور پر دیکھا جائے۔ حکومتیں تبدیل ہوتی رہیں گی، سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی اور جاتی رہیں گی، مگر شہریوں کے بنیادی مسائل اپنی جگہ موجود رہیں گے۔ صفائی، پانی، سڑک، نکاسیٔ آب اور شہری سہولتیں کسی جماعت کا منشور نہیں بل کہ عوام کی روزمرہ ضرورت ہیں۔

بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا براہِ راست اثر عوام پر پڑتا ہے۔ جب منتخب نمائندے موجود نہ ہوں تو جواب دہی کا نظام کمزور ہو جاتا ہے۔ شہری یہ سوال نہیں کر پاتے کہ ان کے علاقے کی سڑک کیوں نہیں بنی، صفائی کا نظام کیوں خراب ہے یا ترقیاتی فنڈ کہاں خرچ ہوا۔ منتخب نمائندہ عوام کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے، جب کہ غیر منتخب انتظامی ڈھانچے میں یہ براہِ راست عوامی جواب دہی کم ہو جاتی ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کو عارضی انتظام نہیں بل کہ جمہوری نظام کا مستقل ستون سمجھا جائے۔ انتخابات مقررہ مدت پر ہوں، منتخب اداروں کو ان کی آئینی مدت مکمل کرنے دی جائے اور انہیں حقیقی سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات فراہم کیے جائیں۔ محض نمائندے منتخب کر دینا کافی نہیں، اختیار بھی منتقل کرنا ضروری ہے۔

عوام کئی برس سے اس سوال کا جواب چاہتے ہیں کہ ان کے مسائل کا اختیار آخر کس کے پاس ہے۔ اگر جمہوریت کا مقصد عوام کو بااختیار بنانا ہے تو اس کا آغاز اسی گلی اور محلے سے ہونا چاہیے جہاں عام شہری اپنی روزمرہ زندگی گزارتا ہے۔ قومی جمہوریت کی مضبوط عمارت بھی اسی وقت مستحکم ہو سکتی ہے جب اس کی بنیاد بلدیاتی سطح پر مضبوط ہو۔

بلدیاتی انتخابات صرف بیلٹ پیپر پر مہر لگانے کا نام نہیں۔ یہ عوام کو اپنے قریب ترین نمائندے کے انتخاب، احتساب اور فیصلہ سازی کا حق دینے کا عمل ہے۔ اب عدالتی ہدایات کے بعد اصل امتحان متعلقہ اداروں کا ہے کہ وہ اس عمل کو مزید تاخیر کا شکار بنانے کے بجائے آئینی تقاضوں کے مطابق مکمل کریں۔ کیوں کہ جمہوریت کا حسن صرف یہ نہیں کہ پانچ برس بعد قومی اور صوبائی نمائندے منتخب ہوں، بل کہ یہ بھی ہے کہ عوام کے دروازے پر موجود مسائل کا جواب دینے والا منتخب نمائندہ ہر وقت ان کے درمیان موجود ہو۔

اگر پاکستان میں جمہوریت کو نچلی سطح تک حقیقی معنوں میں مضبوط کرنا ہے تو بلدیاتی اداروں کو سیاسی مداخلت، غیر ضروری تعطل اور اختیارات کی کمی سے نجات دینا ہو گی۔ عوام کو صرف ووٹ دینے کا حق نہیں بل کہ اپنے محلے، شہر اور ضلع کی ترقی میں شریک ہونے کا حق بھی حاصل ہے۔ یہی حق ایک فعال، بااختیار اور حقیقی عوامی جمہوریت کی بنیاد بن سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں