8

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی 18 جون کو قومی اسمبلی میں کشمیر کے حوالے سے کی گئی تقریر کے اہم نکات

“میں آزاد کشمیر کو آزاد دیکھنا چاہتا ہوں اور اسے مقبوضہ کشمیر کی طرح نہیں دیکھا جا سکتا”

“1947 سے اب تک آزاد کشمیر کو ایک ہی پرانے انداز اور پرانی تنخواہ پر نہیں چلایا جا سکتا”

“آزاد کشمیر میں نئی نسل جوان ہو چکی ہے اور اب وقت ہے کہ انہیں نیا منشور اور نیا پروگرام دیا جائے”

“کشمیر کے فیصلے کوئی وفاقی وزیر یا دوسرا صوبہ نہیں بلکہ خود آزاد کشمیر کے عوام کریں گے”

“آزاد کشمیر کے لوگوں کو ووٹ اور زبان سمیت آئین سازی اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا پورا حق ملنا چاہئیے”

“پیپلز پارٹی کی بنیاد ہی مسئلہ کشمیر پر رکھی گئی تھی اور میں کسی صورت کشمیر کاز پر سمجھوتہ نہیں کروں گا”

“کشمیر میں رائے شماری کا حق ملنے تک عبوری طور پر کشمیری نمائندوں کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے”

“میں وہ دن دیکھنا چاہتا ہوں جب مظفرآباد کا عوامی نمائندہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں ہمارے ساتھ بیٹھے”

“کشمیر کاز کو نقصان پہنچنے نہیں دیں گے اس لیے احتجاج کرنے والے اب دھرنے ختم کر کے اٹھ جائیں”

“مظاہرین خود کو قانون ہاتھ میں لینے والے انتہا پسند عناصر سے الگ کریں اور احتجاج کا غیر مشروط خاتمہ کریں”

“بندوق اور طاقت کے زور پر آئینی ترامیم نہیں ہوسکتیں اور مطالبات کی تکمیل کا راستہ صرف سیاسی جدوجہد سے ہی نکل سکتا ہے”

“احتجاج کی وجہ سے کشمیر میں غذائی اجناس اور پیٹرول تک نہیں پہنچ پا رہا جس سے عام شہریوں کو نقصان ہو رہا ہے”

“مہاجرین کی نشستوں کا فیصلہ تناسب کے حساب سے مخصوص نشستوں کے ذریعے کیا جائے تاکہ کشمیر کا فیصلہ کشمیری ہی کریں”

“کشمیر کے تمام مطالبات کو ایک ہی بار مستقل حل کرنے کے لیے ٹرتھ اینڈ ریکنسیلشن فورم بنایا جائے”

“جب تمام مسائل کا حل بات چیت سے نکل سکتا ہے تو اس کے لیے انسانی زندگیوں کو داؤ پر لگانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں