محترم قارئین، نشے کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے سائنس نے براہ راست انسانوں پر نہیں بلکہ چوہوں پر تجربات کیے ہیں کیونکہ چوہے کا دماغ اور اس کا ڈوپامین سسٹم انسانی دماغ سے بہت مشابہہ ہوتا ہے۔ ان تجربات نے یہ ثابت کیا ہے کہ نشہ صرف ایک عادت نہیں بلکہ دماغ کے کیمیکل نظام پر قبضہ ہے۔ اس سلسلے میں سائنس کی تاریخ میں تین تجربات سب سے زیادہ مشہور اور فیصلہ کن سمجھے جاتے ہیں۔پہلا اور سب سے پرانا تجربہ 1954 میں سائنسدانوں اولڈز اور ملنر نے کیا تھا جسے دماغ کے خوشی کے بٹن کی دریافت کہا جاتا ہے۔ اس تجربے میں چوہے کے دماغ میں ایک نہایت باریک الیکٹروڈ یعنی تار نصب کی گئی بالکل اس مقام پر جہاں میڈولا آبلونگاٹا کے اوپر خوشی کا مرکز یعنی ڈوپامین سسٹم واقع ہے۔ چوہے کو ایک چھوٹے سے ڈبے میں رکھا گیا جس میں ایک لیور لگا ہوا تھا۔ جب چوہا لیور دباتا تو اس کے دماغ کو ہلکا سا برقی کرنٹ ملتا جس سے اسے شدید لذت اور خوشی محسوس ہوتی تھی۔ نتیجہ حیران کن تھا۔ چوہے نے کھانا پینا نیند اور ہر دوسری ضرورت کو چھوڑ دیا اور صرف لیور دبانے میں مصروف ہو گیا۔ ریکارڈ کے مطابق ایک چوہا دن میں تقریبا سات ہزار بار لیور دباتا رہا یہاں تک کہ تھکن اور بھوک سے مر گیا۔ اس تجربے نے پہلی بار دنیا کو بتایا کہ نشہ آور اشیاء دراصل اسی خوشی کے بٹن کو ہائی جیک کر لیتی ہیں۔ جب کوئی انسان ہیروئن کوکین یا الکحول لیتا ہے تو وہ باہر سے کیمیکل دے کر اسی مرکز کو مصنوعی طور پر متحرک کرتا ہے اور دماغ سمجھتا ہے کہ یہی سب سے بڑی خوشی ہے۔دوسرا مشہور تجربہ اسکنر باکس کہلاتا ہے۔ اس میں چوہے کو ایک خاص ڈبے میں رکھا جاتا ہے جسے سکنر باکس کہا جاتا ہے۔ اس ڈبے میں دو سوراخ ہوتے ہیں۔ ایک سوراخ دبانے سے سادہ پانی آتا ہے اور دوسرا سوراخ دبانے سے نشہ والی دوا جیسے کوکین ہیروئن یا الکحول ملا پانی آتا ہے۔ شروع میں چوہا تجسس کی وجہ سے دونوں سوراخوں سے پانی پیتا ہے لیکن آہستہ آہستہ اس کے دماغ میں ڈوپامین کا نظام بدل جاتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ نشے والے پانی سے زیادہ خوشی مل رہی ہے تو وہ صرف اسی سوراخ کو بار بار دبانا شروع کر دیتا ہے۔ کچھ دنوں میں وہ سادہ پانی اور کھانا تک چھوڑ دیتا ہے اور صرف نشے والے سوراخ پر ہی وقت گزارتا ہے۔ یہ تجربہ بتاتا ہے کہ نشہ کس طرح آہستہ آہستہ انتخاب سے مجبوری بن جاتا ہے۔ چوہا جانتا ہے کہ دوسرا سوراخ بھی ہے لیکن اس کا دماغ اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ صرف نشہ ہی لے۔
تیسرا اور سب سے اہم تجربہ ریٹ پارک ہے جو 1978 میں سائنسدان بروس الیگزینڈر نے کیا اور اس نے نشے کے بارے میں پوری تھیوری کو بدل کر رکھ دیا۔ اس سے پہلے والے دونوں تجربات میں ایک بڑی خامی تھی کہ چوہا اکیلا ہوتا تھا ایک چھوٹے سے تنگ اور بور پنجرے میں جہاں اس کے پاس کرنے کو کچھ نہیں ہوتا تھا۔ ایسی حالت میں نشہ اس کے لیے واحد تفریح بن جاتا تھا۔ بروس الیگزینڈر نے سوچا کہ اگر ماحول بدل دیا جائے تو کیا ہوگا۔ اس نے ایک بڑا اور خوبصورت پارک بنایا جسے ریٹ پارک کا نام دیا گیا۔ اس پارک میں بہت سے چوہے ایک ساتھ رہتے تھے کھیلنے کے لیے جھولے اور سرنگیں تھیں وافر مقدار میں اچھا کھانا تھا اور افزائش نسل کے مواقع بھی تھے یعنی چوہے خوش اور مصروف تھے۔ اس پارک میں بھی وہی دو پانی رکھے گئے ایک سادہ اور ایک نشہ ملا۔ نتیجہ بالکل مختلف نکلا۔ پارک میں رہنے والے خوش چوہوں نے نشے والے پانی کو تقریبا پینا ہی چھوڑ دیا اور صرف کبھی کبھار چکھ کر واپس سادہ پانی پر آ جاتے تھے۔ جبکہ دوسری طرف اکیلے اور تنگ پنجرے میں بند چوہے جلدی ہی نشے کے شدید عادی ہو گئے اور زیادہ مقدار میں نشہ لینے لگے۔ریٹ پارک کے تجربے نے سائنس کو ایک بہت بڑا سبق دیا کہ نشہ صرف دوا کے کیمیکل کی وجہ سے نہیں لگتا بلکہ تنہائی اداسی بوریت ماحول اور زندگی کی محرومی بھی اس کی بڑی وجوہات ہیں۔ خوش مصروف اور سماجی تعلق رکھنے والا چوہا نشے سے بچ جاتا ہے جبکہ اکیلا اور پریشان چوہا نشے میں پناہ ڈھونڈتا ہے۔ یہی اصول انسانوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ جو لوگ اکیلے رہتے ہیں بے روزگار ہوتے ہیں گھر میں لڑائی جھگڑا ہوتا ہے یا زندگی میں کوئی مقصد نہیں ہوتا وہ دوسروں کے مقابلے میں بہت جلدی نشے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے نشے کا علاج صرف دوا بند کرنا نہیں بلکہ انسان کو اچھا ماحول روزگار دوستی اور زندگی میں مصروفیت دینا بھی ہے۔
10











