52

امام غزالیؒ کا فلسفۂ سکون، دل کی اصلاح اور حقیقی اطمینان کا راستہ:احمدخان اچکزئی

محترم قارئین، امام ابو حامد محمد بن محمد غزالیؒ (1058ء–1111ء) اسلامی فکر، اخلاق اور روحانی تربیت کے عظیم مفکر تھے۔ ان کی معروف تصانیف احیاء علوم الدین اور کیمیائے سعادت میں انسان کی باطنی اصلاح، تزکیۂ نفس اور قلبی اطمینان کے موضوعات کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ ان کی تعلیمات کی روشنی میں سکون محض آسائش، دولت، شہرت یا خواہشات کی تکمیل کا نام نہیں، بلکہ دل کی اصلاح، نفس پر قابو، اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس پر توکل سے وابستہ کیفیت ہے۔ انسان بظاہر تمام سہولتیں حاصل کرکے بھی بے چین رہ سکتا ہے، جبکہ محدود وسائل کے باوجود اللہ کی رضا پر مطمئن رہنے والا شخص قلبی سکون محسوس کرسکتا ہے۔ یہی تصور انسان کو اپنی زندگی کے حقیقی مقصد اور باطنی ضروریات کی طرف متوجہ کرتا ہے۔بے سکونی کی پہلی جڑ: نفسِ امّارہ اور بے لگام خواہشات۔ انسان اکثر یہ سمجھتا ہے کہ زیادہ دولت، لذیذ کھانے، بلند مرتبے اور شہرت کے حصول سے اسے دائمی خوشی حاصل ہوجائے گی، لیکن خواہشات کی بے مہار پیروی عموماً ایک نئی طلب کو جنم دیتی ہے۔ ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو دوسری سامنے آجاتی ہے، اور انسان موجود نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کے بجائے مسلسل محرومی کا احساس کرتا رہتا ہے۔ اس کیفیت کو پیاسے کے کھارا پانی پینے سے تشبیہ دی جاسکتی ہے، جس سے پیاس بجھنے کے بجائے مزید بڑھتی ہے۔ امام غزالیؒ کی اخلاقی تعلیمات کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی خواہشات کو عقل، شریعت اور اعتدال کے تابع رکھے، نہ کہ ان کا غلام بن جائے۔ حقیقی کامیابی ہر خواہش پوری کرنے میں نہیں، بلکہ جائز ضروریات اور غیر ضروری حرص کے درمیان فرق سمجھنے میں ہے۔دوسری جڑ: حبِ دنیا اور زوال کا خوف۔ دنیا کی جائز نعمتوں سے فائدہ اٹھانا بذاتِ خود قابلِ مذمت نہیں، لیکن جب مال، مکان، گاڑی، موبائل یا سماجی مرتبہ انسان کی زندگی کا مرکز بن جائیں تو ان کے کھو جانے کا خوف دل پر غالب آسکتا ہے۔ ہر نئی چیز خوشی کے ساتھ ایک نئی فکر بھی لے آتی ہے، اور انسان اپنی قدر و قیمت کو مادی ملکیت سے وابستہ کرنے لگتا ہے۔ دنیا کی ناپائیداری کو سمجھنے کا مطلب دنیا سے فرار اختیار کرنا نہیں، بلکہ اس کے وسائل کو ذمہ داری، اعتدال اور شکر کے ساتھ استعمال کرنا ہے۔ جب انسان نعمتوں کو امانت سمجھتا ہے تو ان سے محبت کے باوجود ان کی جدائی کا خوف اس پر مکمل طور پر حاوی نہیں ہوتا۔
تیسری جڑ: غفلت اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کی کمزوری۔ انسانی جسم کے خودکار افعال، مثلاً سانس اور دل کی دھڑکن، اعصابی نظام کے ذریعے جاری رہتے ہیں؛ دماغ کا میڈیولا اوبلونگیٹا بھی ان افعال کے ضابطے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ سائنسی حقیقت انسان کو کائنات کے نظم پر غور کرنے کی دعوت دے سکتی ہے، تاہم اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی مکمل سائنسی توضیح نہیں سمجھنا چاہیے۔ اسلامی تصورِ توکل کے مطابق انسان تدبیر اور کوشش ضرور کرتا ہے، مگر نتائج کو اپنے مکمل اختیار میں نہیں سمجھتا۔ جب وہ ہر معاملے کا بوجھ تنہا اٹھانے لگتا ہے تو اضطراب بڑھ سکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی یاد، دعا اور اس پر اعتماد اسے مشکلات کا سامنا کرنے کی روحانی قوت فراہم کرتے ہیں۔
چوتھی جڑ: لوگوں سے غیر مشروط امیدیں وابستہ کرنا۔ انسان جب اپنی خوشی، عزت اور اطمینان کو دوسروں کے رویوں سے مشروط کردیتا ہے تو معمولی بے اعتنائی بھی اسے گہرا دکھ پہنچا سکتی ہے۔ لوگوں سے محبت، تعاون اور خیر کی توقع رکھنا فطری ہے، لیکن ہر شخص سے اپنی خواہش کے مطابق برتاؤ کی امید رکھنا غیر حقیقی ہے۔ توکل کا مطلب انسانی تعلقات سے کنارہ کشی نہیں، بلکہ تعلقات میں اعتدال، مناسب حدود اور اللہ تعالیٰ پر بنیادی اعتماد قائم رکھنا ہے۔ اس طرح انسان دوسروں کی قدر کرتا ہے، مگر اپنے قلبی سکون کو ان کے ہاتھوں میں نہیں سونپتا۔
سکون کا پہلا علاج: عزلت اور خاموشی کے لمحات۔ روزانہ دس منٹ موبائل، شور اور غیر ضروری مصروفیات سے الگ رہ کر غوروفکر کرنا انسان کو اپنے خیالات، جذبات اور ترجیحات سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اسے مثبت تنہائی یا خلوت کہا جاسکتا ہے، بشرطیکہ یہ ذمہ داریوں اور صحت مند تعلقات سے فرار نہ بنے۔ چوہوں کے معروف ’’ریٹ پارک‘‘ تجربے میں ماحول اور سماجی حالات کے اثرات کا مطالعہ کیا گیا؛ تاہم اس کے نتائج کو انسانی نشے یا سکون کے بارے میں قطعی قانون قرار دینا درست نہیں۔ اس مثال سے اتنا ضرور سمجھا جاسکتا ہے کہ ماحول انسانی رویوں پر اثر انداز ہوتا ہے اور پرسکون، معاون ماحول اہمیت رکھتا ہے۔دوسرا علاج: ذکرِ قلبی اور یادِ الٰہی۔ ذکر صرف زبان سے الفاظ دہرانے تک محدود نہیں، بلکہ دل کی توجہ، اللہ تعالیٰ کی عظمت کے احساس اور زندگی میں اس کی ہدایت کو ملحوظ رکھنے کا نام بھی ہے۔ دل پر دنیا کی بے اعتدالیوں اور غفلت کے اثرات جمع ہوسکتے ہیں؛ ذکر، دعا، تلاوت اور محاسبۂ نفس اس باطن کی اصلاح میں مدد دیتے ہیں۔ قرآنِ کریم کے مطابق اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اس اطمینان کا مطلب یہ نہیں کہ تمام پریشانیاں فوراً ختم ہوجائیں گی، بلکہ یہ کہ انسان مشکلات کے باوجود امید اور ثابت قدمی برقرار رکھ سکتا ہے۔تیسرا علاج: شکر اور صبر۔ شکر انسان کو موجود نعمتوں کی قدر سکھاتا ہے، جبکہ صبر اسے محرومی، آزمائش اور تاخیر کے وقت بکھرنے سے بچاتا ہے۔ جو کچھ میسر ہے اس پر شکر اور جو دشوار ہے اس میں صبر، زندگی کے سفر میں دو مضبوط سہارے ہیں۔ شکر کا مطلب ناانصافی قبول کرنا نہیں اور صبر کا مطلب اصلاح کی کوشش چھوڑ دینا نہیں؛ بلکہ دونوں انسان کو حکمت، حوصلے اور مثبت عمل کے ساتھ آگے بڑھنا سکھاتے ہیں۔چوتھا علاج: موت کی یاد اور محاسبۂ نفس۔ موت کی یاد انسان کو زندگی کی محدود مدت اور اعمال کی اہمیت سے آگاہ کرتی ہے۔ قبرستان کی زیارت اسلامی روایت میں آخرت کی یاد کے لیے معروف عمل ہے، لیکن امام غزالیؒ کے روزانہ قبرستان جانے کے دعوے کو مستند حوالہ دیکھے بغیر قطعی حقیقت نہیں کہنا چاہیے۔ موت پر سنجیدہ غور انسان کو معمولی تنازعات، بے جا غرور اور لاحاصل مقابلے سے دور رہنے میں مدد دے سکتا ہے۔ وہ اپنی ترجیحات درست کرتا، حقوق ادا کرتا اور وقت کو زیادہ بامقصد بناتا ہے۔امام غزالیؒ کی تعلیمات کا حاصل یہ ہے کہ حقیقی سکون تمام خواہشات کی تکمیل میں نہیں، بلکہ خواہشات کے اعتدال، دل کی پاکیزگی، شکر، صبر، ذکر اور اللہ تعالیٰ پر توکل میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہ مفہوم ان سے منسوب اس خوبصورت جملے میں بھی بیان کیا جاتا ہے: ’’سکون یہ نہیں کہ تمہارے پاس سب کچھ ہو، سکون یہ ہے کہ تمہیں اس ذات پر بھروسہ ہو جس کے پاس سب کچھ ہے۔‘‘ تاہم اسے امام غزالیؒ کا مستند لفظی اقتباس قرار دینے کے لیے قابلِ اعتماد حوالہ ضروری ہے۔ انسان جب اپنی کوشش جاری رکھتے ہوئے نتائج اللہ کے سپرد کرتا، نعمتوں کی قدر کرتا اور دنیا کو عارضی منزل سمجھتا ہے تو اس کے لیے زندگی کے نشیب و فراز میں اطمینان، امید اور توازن برقرار رکھنا نسبتاً آسان ہوجاتا ہے۔ یہی باطنی اصلاح اور بامقصد زندگی کی بنیاد ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں