سیاست میں اصل امتحان مشکل وقت کا ہوتا ہے۔ جو جماعت برے وقت میں ٹوٹ نہے، وہی اقتدار میں بھی عوام کا اعتماد جیتتی ہے۔
آزاد کشمیر کی سیاست میں اس کی سب سے بڑی مثال پیپلزپارٹی اور چوہدری ریاض صاحب کی قیادت ہے۔
اس وقت جب مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت تھی تو پورے ملک میں سیاسی جماعتوں پر دباؤ تھا۔ اس وقت بھی پیپلزپارٹی آزاد کشمیر نے ہار نہیں مانی۔
اور اس کی وجہ صرف ایک تھی: چوہدری ریاض صاحب کی بہترین حکمت عملی اور قیادت
وہ اسلام آباد میں بیٹھ کر بھی آزاد کشمیر کے ہر ضلع، ہر تحصیل اور ہر ورکر سے جڑے رہے۔ انہوں نے لیڈر اور کارکن کے درمیان فاصلے ختم کر دیے۔ عزت دی، اعتماد دیا۔
اس وقت بھی پیپلزپارٹی آزاد کشمیر نے 14 سیٹیں حاصل کیں۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ انہی 14 سیٹوں کو بنیاد بنا کر چوہدری ریاض اور مرکزی قیادت نے حکومت بنانے میں بھی کامیابی حاصل کی
اس نے یہ ثابت کر دیا کہ پیپلزپارٹی آج بھی ان لوگوں کی جماعت ہے جو پارٹی کے ساتھ مخلصی سے کھڑے رہتے ہیں۔ پارٹی قربانی کا صلہ دیتی ہے۔
اب چند روز بعد آزاد کشمیر میں ایک اور اہم الیکشن ہونے جا رہا ہے۔ چوہدری ریاض اور مرکزی قیادت کی مشاورت سے پیپلزپارٹی ایک بار پھر پوری تیاری کے ساتھ میدان میں ہے۔
کارکنوں اور قیادت کو پورا یقین ہے کہ چوہدری ریاض اور مرکزی قیادت کی بہترین حکمت عملی سے پیپلزپارٹی یہ الیکشن بھی بھاری اکثریت سے جیت کر حکومت بنانے میں کامیاب ہوگی
پیپلزپارٹی نے ثابت کر دیا ہے کہ یہاں ٹکٹ پیسے سے نہیں، خدمات اور وفاداری سے ملتا ہے۔ یہاں مشکل میں ساتھ دینے والوں کو عزت ملتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ پیسے سے سیٹیں خریدی جا سکتی ہیں لیکن وفاداریاں نہیں۔ طاقت سے حکومتیں بنائی جا سکتی ہیں لیکن پارٹیاں نہیں بچائی جا سکتیں۔
پارٹیاں بچتی ہیں اعتماد سے، رابطے سے اور مخلص قیادت سے۔
اور آج پیپلزپارٹی آزاد کشمیر اسی اصول پر کھڑی ہے۔
کیونکہ سیاست کا اصل نام “ساتھ نبھانے” کا ہے، اور یہ فن چوہدری ریاض صاحب کو خوب آتا ہے۔











