108

پولیو: جنگ وائرس سے نہیں، جہالت سے ہے : حمید علی

بعض اوقات قوموں کو درپیش سب سے بڑے خطرات سرحدوں کے اُس پار سے نہیں آتے، بل کہ ان کے اپنے ذہنوں میں جنم لیتے ہیں۔ پاکستان میں پولیو کی مسلسل موجودگی بھی ایک ایسی ہی تلخ حقیقت ہے۔ یہ بیماری آج طب کے لیے کوئی معمہ نہیں رہی۔ اس سے بچاؤ کا مؤثر اور محفوظ ذریعہ دہائیوں سے دنیا کے سامنے موجود ہے، مگر اس کے باوجود پاکستان آج بھی ان چند ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں پولیو وائرس وقفے وقفے سے معصوم بچوں کی زندگیوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس صورتِ حال پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری اصل جنگ پولیو وائرس سے کم، بل کہ جہالت، غلط معلومات، بے بنیاد افواہوں اور اجتماعی بے حسی سے زیادہ ہے۔

پولیو ایک ایسا مرض ہے جو چند لمحوں میں بچے کی زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔ یہ معصوم قدموں کی روانی چھین لیتا ہے، والدین کی امیدوں کو ماند کر دیتا ہے اور ایک خاندان کو عمر بھر کے دکھ میں مبتلا کر دیتا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا نے ثابت کر دیا ہے کہ صرف چند قطرے ایک بچے کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ علاج موجود ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے شعور کو اپنی ترجیح بنایا ہے؟

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آج بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو پولیو ویکسین کے خلاف جھوٹ، خوف اور شکوک کی فضا پیدا کرتے ہیں۔ کبھی اسے بانجھ پن سے جوڑ دیا جاتا ہے، کبھی اسے کسی بیرونی سازش کا رنگ دیا جاتا ہے اور کبھی مذہبی جذبات کو غلط انداز میں استعمال کر کے والدین کے دلوں میں وسوسے پیدا کیے جاتے ہیں۔ ان افواہوں کی نہ کوئی سائنسی بنیاد ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی مستند ثبوت، مگر افسوس کہ ان کا اثر اکثر دلیل سے زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ نتیجتاً وہ بچے، جنہیں حفاظتی قطرے ملنے چاہییں، محروم رہ جاتے ہیں اور وائرس کو زندہ رہنے کا موقع مل جاتا ہے۔

یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ علم کی کمی ہمیشہ خوف کو جنم دیتی ہے۔ جہاں تحقیق کی روشنی مدھم پڑ جائے، وہاں افواہیں اپنی جگہ بنا لیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ عوامی آگاہی کا فقدان ہے۔ جب ایک والدین سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کسی غیر مصدقہ ویڈیو کو طبی ماہرین کی تحقیق پر ترجیح دے دیتے ہیں تو دراصل وہ انجانے میں اپنے ہی بچے کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہے ہوتے ہیں۔

حکومت کی ذمہ داری صرف انسدادِ پولیو مہمات چلانے تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بل کہ اس کے ساتھ ساتھ ایسی مؤثر اور مسلسل آگاہی مہم بھی ناگزیر ہے جو عوام کے ذہنوں سے غلط فہمیوں کا خاتمہ کرے۔ دیہی علاقوں، پسماندہ بستیوں اور کم شرحِ خواندگی والے علاقوں میں مقامی زبان اور آسان انداز میں لوگوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ پولیو ویکسین کسی سازش کا حصہ نہیں، بل کہ ان کے بچوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔ اگر ذہن تبدیل نہ ہوں تو دروازے بھی بند رہتے ہیں اور ویکسین بھی بے اثر ہو جاتی ہے۔

اس قومی جدوجہد میں میڈیا کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ذرائع ابلاغ اگر سنسنی سے زیادہ شعور کو فروغ دیں، مستند طبی ماہرین کی آرا عوام تک پہنچائیں اور افواہوں کی بروقت تردید کریں تو یقیناً مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ اسی طرح علمائے کرام، اساتذہ، سماجی کارکن اور مقامی بااثر شخصیات بھی عوام کے اعتماد کی بحالی میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ معاشرے کی تعمیر صرف قوانین سے نہیں ہوتی، بل کہ اعتماد، آگاہی اور مسلسل رہنمائی سے ہوتی ہے۔

پولیو ٹیموں کی خدمات بھی لائقِ تحسین ہیں۔ شدید گرمی، دشوار گزار راستوں اور بے شمار مشکلات کے باوجود یہ کارکن ہر بچے تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی محنت اس وقت رائیگاں چلی جاتی ہے جب کسی گھر کا دروازہ محض ایک افواہ کی بنیاد پر بند کر دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کارکن کسی ادارے کے نمائندے ہونے سے پہلے انسانیت کے خدمت گزار ہیں، جو آنے والی نسلوں کو معذوری سے محفوظ رکھنے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ پولیو صرف صحت کا مسئلہ نہیں، بل کہ قومی ساکھ کا بھی معاملہ ہے۔ جب دنیا کے بیشتر ممالک اس بیماری سے نجات پا چکے ہیں تو پاکستان کا نام اب بھی پولیو سے متاثرہ ممالک میں آنا ہمارے لیے باعثِ تشویش ہونا چاہیے۔ ایک مضبوط اور ذمہ دار قوم کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ سائنسی حقائق کو قبول کرتی ہے، اپنی غلطیوں سے سیکھتی ہے اور اجتماعی مفاد کو ذاتی تعصبات پر ترجیح دیتی ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کے مستقبل کو افواہوں کے حوالے کرنے کے بجائے علم اور تحقیق پر اعتماد کریں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ ہر انسدادِ پولیو مہم میں اپنے بچوں کو حفاظتی قطرے ضرور پلوائیں، اساتذہ طلبہ میں شعور بیدار کریں، علماءِ کرام منبروں سے مثبت رہنمائی فراہم کریں، میڈیا ذمہ دارانہ کردار ادا کرے اور حکومت آگاہی کو قومی ترجیح بنائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں پولیو سے پاک پاکستان کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔

یاد رکھیے! پولیو کے دو قطرے محض ایک ویکسین نہیں، بل کہ ایک بچے کی مسکراہٹ، اس کے قدموں کی طاقت، اس کے خوابوں کی حفاظت اور قوم کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔ اگر ہم نے جہالت پر علم، افواہوں پر حقیقت اور بے حسی پر ذمہ داری کو ترجیح دے دی تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان بھی دنیا کے اُن ممالک کی صف میں کھڑا ہوگا جہاں پولیو صرف تاریخ کی کتابوں میں پڑھا جاتا ہے، زندگیوں میں نہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں