پنجاب کو ہمیشہ پاکستان کا سب سے مضبوط، مستحکم اور وسائل سے مالا مال صوبہ قرار دیا جاتا ہے، ملکی معیشت میں سب سے زیادہ حصہ، سب سے زیادہ ٹیکس وصولی، سب سے بڑا ترقیاتی بجٹ اور سب سے زیادہ انتظامی استعداد اگر کسی صوبے کے پاس ہے تو وہ پنجاب ہے، یہی وجہ ہے کہ پنجاب سے توقع بھی دوسروں سے زیادہ رکھی جاتی ہے، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ جب بات پنجاب کے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین، یعنی پنشنرز، کی آتی ہے تو یہی صوبہ غیر ضروری احتیاط، بیوروکریٹک تاخیر اور مالی مجبوریوں کی ایسی دلیلیں پیش کرنے لگتا ہے جو اس کے اپنے معاشی دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
وفاقی حکومت نے اپنے پنشنرز کی پنشن میں اضافہ کیا ہے، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان جیسے نسبتاً کم وسائل رکھنے والے صوبوں نے بھی سات سے آٹھ فیصد تک اضافہ کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اپنے ریٹائرڈ ملازمین کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کر سکتے،ایسے میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب کے پنشنرز دوسرے صوبوں کے پنشنرز سے کم اہم ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر پنجاب کو کم از کم دوسرے صوبوں کے برابر، بلکہ اپنی بہتر مالی حیثیت کے باعث ان سے زیادہ اضافہ کرنا چاہئے۔یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پنشنرز معاشرے کا وہ طبقہ ہے جس کی آمدنی تقریباً مستقل ہوتی ہے جبکہ اخراجات مسلسل بڑھتے رہتے ہیں، ایک حاضر سروس ملازم کو وقتاً فوقتاً ترقی، خصوصی الاؤنس، مراعات یا اضافی آمدنی کے مواقع مل سکتے ہیں لیکن ایک ریٹائرڈ ملازم کی پوری زندگی ایک محدود پنشن پر منحصر ہوتی ہے،جب مہنگائی کی رفتار اس محدود آمدنی سے کہیں زیادہ بڑھ جائے تو اس کی قوتِ خرید ہر سال کم ہوتی چلی جاتی ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں مہنگائی نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے، آٹا، چینی، گھی،دالیں، سبزیاں، گوشت، بجلی، گیس، پٹرول، ادویات اور علاج معالجے کے اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں، سب سے زیادہ متاثر وہ بزرگ شہری ہوئے جو اپنی عمر کے اس حصے میں پہنچ چکے ہیں جہاں بیماریوں کے باعث طبی اخراجات پہلے ہی زیادہ ہوتے ہیں، دِل، شوگر یا گردوں کے مریض کے لیے صرف ادویات پر ہی ہزاروں روپے ماہانہ خرچ ہو جاتے ہیں، ایسے حالات میں اگر پنشن میں معمولی اضافہ کیا جائے تو وہ واقعی ”آٹے میں نمک“ کے برابر محسوس ہوتا ہے۔
پنجاب گورنمنٹ پنشنرز ایسوسی ایشن کے پیٹرن اِن چیف یاور مہدی نے پچھلے دنوں جن اعداد و شمار کی بنیاد پر اپنا موقف پیش کیا ہے، وہ حکومت کی سنجیدہ توجہ کے مستحق ہیں، اگر مالی سال 2025-26ء میں پنشن کے لئے 462.16 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، لیکن تقریباً 10 ارب روپے خرچ ہی نہیں ہوئے، جبکہ نئے مالی سال 2026-27ء میں پنشن کا بجٹ بڑھا کر 500.10 ارب روپے کر دیا گیا ہے، تو یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ پنشنرز کو مناسب ریلیف دینے میں رکاوٹ آخر کہاں ہے؟
بدقسمتی سے ہر سال پنشنرز کے مطالبات کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں، خصوصاً آئی ایم ایف، کی شرائط سے جوڑ دیا جاتا ہے، یہ دلیل اپنی جگہ قابلِ غور ہو سکتی ہے مگر حتمی نہیں، اگر حکومت ترقیاتی منصوبوں، نئی سکیموں،سرکاری تقریبات، گاڑیوں، دفاتر، پروٹوکول اور دیگر انتظامی اخراجات کے لئے وسائل نکال سکتی ہے تو پھر ان بزرگ شہریوں کے لئے بھی وسائل تلاش کیے جا سکتے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی ریاست کی خدمت میں گزار دی،اگر پنجاب واقعی دوسرے صوبوں کے لئے رول ماڈل بننا چاہتا ہے تو اسے صرف ترقیاتی منصوبوں میں نہیں بلکہ سماجی انصاف میں بھی مثال قائم کرنا ہو گی،جب دیگر صوبے سات یا آٹھ فیصد اضافہ دے سکتے ہیں تو پنجاب کا فرض بنتا ہے کہ وہ کم از کم اتنا اضافہ ضرور کرے، بلکہ بہتر مالی حیثیت کو دیکھتے ہوئے پنجاب کو دس فیصد یا اس سے زیادہ اضافے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے تاکہ یہ واضح ہو کہ صوبہ اپنے بزرگ ملازمین کی خدمات کا اعتراف کرتا ہے۔ آئین ریاست کی فلاحی اصولوں کے مطابق معاشی انصاف کی طرف رہنمائی کرتا ہے، پنشنرز کی عزتِ نفس اور معاشی تحفظ بھی اسی فلسفے کا حصہ ہے، اگر ایک ریٹائرڈ افسر یا ملازم اپنی ادویات، بجلی کے بل یا بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو جائے تو یہ ایک فلاحی ریاست کے تصور سے مطابقت نہیں رکھتا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اپنے دورِ حکومت میں عوامی فلاح کے متعدد منصوبے شروع کیے ہیں،اگر وہ پنشنرز کے لئے بھی ایک مثبت اور فراخدلانہ فیصلہ کرتی ہیں تو یہ ان کی حکومت کیلئے ایک ایسا اقدام ہوگا جسے لاکھوں خاندان ہمیشہ یاد رکھیں گے،حکومت کو یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ پنشنرز کا مطالبہ غیر حقیقی نہیں، وہ خزانے پر غیر معمولی بوجھ ڈالنے کی بات نہیں کر رہے بلکہ وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ پنجاب کم از کم وہی معیار اختیار کرے جو وفاق اور دیگر صوبے اپنا چکے ہیں۔
آخری گزارش، سوال صرف بجٹ کا نہیں بلکہ ترجیحات کا ہے، حکومتیں اپنے وسائل وہاں خرچ کرتی ہیں جہاں وہ ضرورت اور اہمیت محسوس کرتی ہیں،اگر پنجاب اپنے بزرگ ملازمین کو اپنی ترجیحات میں شامل کر لے تو ان کے مسائل کا حل نکالنا ہرگز ناممکن نہیں، آج ضرورت اِس امر کی ہے کہ بیورو کریٹک تاخیر کو ختم کیا جائے، محکمہ خزانہ دستیاب مالی گنجائش کا شفاف جائزہ لے اور وزیراعلیٰ پنجاب ایک ایسا فیصلہ کریں جو نہ صرف معاشی طور پر قابلِ عمل ہو بلکہ اخلاقی اعتبار سے بھی قابلِ تحسین ہو۔ایک مہذب معاشرے کی پہچان اس کی بلند عمارتیں، جدید شاہراہیں یا بڑے ترقیاتی منصوبے نہیں،بلکہ وہ احترام ہوتا ہے جو وہ اپنے بزرگوں، ریٹائرڈ ملازمین اور کمزور طبقات کو دیتا ہے، پنجاب اگر واقعی پاکستان کا سب سے مضبوط صوبہ ہے تو اسے اس طاقت کا اظہار اپنے پنشنرز کے ساتھ انصاف سے کرنا چاہئے، کیونکہ جن لوگوں نے اپنی جوانی ریاست کی خدمت میں گزاری، وہ بڑھاپے میں ریاست کی توجہ، احترام اور مناسب معاشی تحفظ کے سب سے زیادہ حق دار ہیں۔
103











